نئی دہلی، 04 جون (یو این آئی) سپریم کورٹ نے ونیش پھوگاٹ کیس میں ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے، جس میں اس نے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ان کے خلاف کیے گئے ریمارکس کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔
جسٹس پی ایس نرسمہا اور اروند کمار پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ڈبلیو ایف آئی کی طرف سے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست اب بے معنی ہو گئی ہے کیونکہ ونیش پھوگاٹ نے بالآخر 29 مئی کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لے لیا تھا۔ بنچ نے ڈبلیو ایف آئی کے خلاف ہائی کورٹ کے ریمارکس کو ہٹانے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ خصوصی عرضی کے نمٹائے جانے کو سپریم کورٹ کی طرف سے ان نتائج کی تائید نہیں مانا جانا چاہیے۔ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے پھوگاٹ کو 'شرمناک' وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے پر ڈبلیو ایف آئی کی سخت نکتہ چینی کی تھی اور ڈبلیو ایف آئی کی اس کارروائی کو انتقامی جذبے سے کی گئی کارروائی قرار دیا تھا۔
بنچ نے کہا، "بعد کی تبدیلیوں (واقعات) کو دیکھتے ہوئے یہ ایس ایل پی اب بے معنی ہو گئی ہے۔ تاہم اس عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ کے نتائج اور ریمارکس کو دہرانے یا ان کی تصدیق کرنے کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ تمام مسائل ابھی بھی کھلے رکھے گئے ہیں۔" قابلِ ذکر ہے کہ ڈبلیو ایف آئی نے دہلی ہائی کورٹ کے 22 مئی کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں پھوگاٹ کو 2026 ایشیائی کھیلوں کے لیے سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔