Jadid Khabar

جنگ بندی کے بعدایران کی ناکہ بندی

Thumb

جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کی توسیع کے بعد صدر ٹرمپ نے ناکہ بندی کا پیچ پھنسا دیا ہے۔ جنگ بندی کے بعد امید کی جو کرن پیدا ہوئی تھی وہ آبنائے ہر مز میں ڈوبتی ہوئی نظر آرہی ہے۔بظاہر ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جارحیت رک گئی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگ رکی نہیں بلکہ اس کا محور تبدیل ہوگیا ہے۔ یعنی ایران کے خلاف جو جنگ اب تک فضا سے لڑی جارہی تھی وہ اب بحر فارس میں پہنچ گئی ہے۔موجودہ جنگ کا محور آبنائے ہرمز نامی وہ آبی گزرگاہ ہے جس کے بند ہونے سے پوری دنیا کی معیشت ڈانوں ڈول ہوگئیہے ۔ ایران جہاں ایک طرف آبنائے ہرمز پر اپنے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول کی صورت میں بھاری رقم وصول کررہا ہے تو وہیں امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی کے موقف پر قائم ہے۔صدرٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمزپر ان کا قبضہ ہے۔ انھوں نے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو دیکھتے ہی اڑادینے کے احکامات دئیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پرخطرناک  ایرانی آبدوزوں کا دبدبہ ہے، جن کا توڑ امریکہ کے پاس نہیں ہے۔ خود امریکی محکمہ دفاع پنٹا گن نے تسلیم کیا ہے کہ ”آبنائے ہرمز سے ایران کی بارودی سرنگیں ہٹانے میں کم از کم چھ مہینے لگیں گے۔ یعنی آبنائے ہرمز کو فوجی کارروائی سے فوری قبضے میں لینا ابھی مشکل ہے۔“صدر ٹرمپ کی ترجیح ایران کے ساتھ مذاکرات ہیں، لیکن اس سے پہلے وہ آبنائے ہرمز میں پھنسی ہوئی اپنی گردن نکالنا چاہتے ہیں۔ ثالثی کرنے والے پاکستانی فوجی سربراہ عاصم منیرنے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر سے گفتگو کرکے ایرانی وفد اسلام آباد بھیجنے کو کہا ہے۔جنگ بندی میں توسیع کے بعد صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح مذاکرات ہیں اور وہ اس کے لیے خاصے بے قرار نظر آتے ہیں۔یہ بے قراری خواہ مخواہ نہیں ہے۔
  کل تک ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دینے والے ٹرمپ نے آخرہتھیار ڈال ہی دئیے۔ انھوں نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کا اعلان کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے، وہ شکست تسلیم کرلینے کے برابر ہے۔یعنی ایران کی ثابت قدمی نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو سرنگوں ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے جن مقاصد کے لیے ایران کے خلاف جنگ چھیڑی تھی، وہ نہ اب حاصل ہوسکے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں کبھی ہوں گے۔ امریکہ اور اسرائیل  کا بنیادی مقصد ایرانی قیادت کو بے دخل کرکے وہاں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا تھا تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کو نیست ونابود کیاجاسکے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے پہلے ایران کے ایٹمی پلانٹ کا نشانہ بنایا اور جنگ کے پہلے ہی مرحلے میں ایران کی مذہبی، عسکری اور سیاسی قیادت کو ایک ساتھ ختم کردیا۔کوئی اور ملک ہوتا تو پہلے ہی مرحلے میں گھٹنوں پر آجاتا، لیکن ایران بھاری تباہی جھیلنے کے باوجود اپنے قدموں پر مضبوطی سے کھڑا رہا۔اس طرح صیہونی اور سامراجی طاقت پہلے ہی مرحلے میں اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام  ہوئی۔
8/اپریل کو جب دوہفتہ کی جنگ بندی کرکے امریکہ نے اسلام آباد میں ایران سے بات چیت شروع کی تھی تو اس کا بنیادی محور ایران کا جوہری پروگرام ہی تھا جسے امریکہ ہرصورت میں ختم کرنے کے درپہ ہے۔ گفتگو بھی اسی لیے ناکام ہوئی کہ ایران کسی بھی حالت میں اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنے تباہ کن میزائلوں کو ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ یہ دونوں ہی ایران کی سلامتی اور استحکام سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام اور میزائلوں سے اصل خطرہ اسرائیل کو ہے اور وہ انھیں ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی غنڈہ گردی قائم رکھ سکے۔ ابھی تک اس خطے میں اسرائیل ہی واحد ایٹمی طاقت ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا ملک اس سے لیس نہ ہو۔ جو خطرہ اسرائیل کو ایران سے ہے، وہی ایران کو اسرائیل سے بھی ہے۔ چونکہ مشرق وسطیٰ میں ایران ہی اسرائیل کو چیلنج کرنے والی واحد قوت ہے۔ ایران کے علاوہ اس کے حمایت یافتہ حزب اللہ، حماس اور حوثی گروپ بھی خطے میں اسرائیل کے لیے سنگین چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کو درپیش ان خطرات کو دور کرنے کے لیے ہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بدترین جارحیت کا ارتکاب کیا، جس کا ایران نے منہ توڑ جواب دیا۔
دونوں جارحیت پسند طاقتوں کا خیال تھا کہ وہ آسانی کے ساتھ ’رجیم چینج‘ کرکے ایران پر بھی اسی طرح مسلط ہوجائیں گے جیسا کہ وہ عراق پر مسلط ہیں، لیکن اندازے کی غلطی اسی کو کہتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور اپنی اعلیٰ روحانی،عسکری اور سیاسی قیادت کی ظالمانہ ہلاکت کے باوجود ظالم وجابر قوتوں کے آگے سرنگوں نہیں کیا۔ امریکہ کے لیے ایران کا سب سے مہلک ہتھیار ’آبنائے ہرمز‘ثابت ہوا جو ایک ایسی آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے بیس فیصد سے زیادہ تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے۔ایران نے پہلے ہی مرحلے میں آبنائے ہرمز کو بندکرکے امریکہ کے چھکے چھڑادئیے، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں تیل اور قدرتی گیس کے دام آسمان کو چھونے لگے۔ ایران کا یہ داؤ اتنا کامیاب رہا کہ پوری دنیا نے ٹرمپ کو کوسنا شروع کردیا۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ناٹو ممالک سے مدد مانگی، مگر کسی نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ یہاں تک کہ ناٹو کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔اتنا ہی نہیں خوداس جنگ کے سلسلے میں امریکہ میں صدرٹرمپ کے خلاف عوامی احتجاج کا سمندر ٹھاٹیں مارنے لگا۔ سابق امریکی فوجیوں کے خاندانوں نے بھی صدر ٹرمپ کے خلاف آواز بلند کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صدر ٹرمپ کو جنگ بند کرکے پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پڑے۔
 صدرٹرمپ کو امید تھی کہ ایران اتنی تباہی جھیلنے کے بعدجب گفتگو کی میز پرآئے گا تو وہ امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات قبول کرلے گا، لیکن ایران نے اپنی سلامتی سے متعلق امور پر کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔نہ تو وہ اپنے جوہری پروگرام کے معاملے میں کسی سمجھوتے کو تیار ہوااور نہ ہی اس نے آبنائے ہرمز پر کوئی سمجھوتہ کیا۔ نتیجے کے طورپر مذاکرات کا پہلا مرحلہ چوبیس گھنٹوں ہی میں ناکامی سے دوچار ہوگیا۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ پھر دھمکیوں پر اترآئے اور انھوں نے کہا کہ”اگرایران نے سمجھوتہ نہیں کیا تو اس کو تابڑتوڑ بمباری سے چھلنی کردیا جائے گا۔“مذاکرات کے دوسرے دور میں ایران نے یہ کہتے ہوئے شرکت سے انکار کردیا کہ دھمکیوں کے درمیان مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر بھی سخت احتجاج کیا۔اس دوران جنگ بندی کی مدت بھی ختم ہورہی تھی اور دنیا کے اہم ممالک ٹرمپ  پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ اگر آبنائے ہرمز کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو پوری دنیا کو اس کا ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔صدرٹرمپ پرجنگ کو ختم کرنے کا جہاں اندرون خانہ شدید دباؤ تھا تو وہیں عالمی سطح پر بھی ان کی پوزیشن بہت خراب ہورہی تھی۔ انھوں نے عافیت اسی میں جانی کہ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کا اعلان کردیا۔ پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب کی بھی اولین کوشش یہی تھی کہ کسی بھی طرح جنگ بندی میں توسیع کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کو روکا جاسکے۔ 
یہ وہی ٹرمپ ہیں جو کل تک جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے اور ایرانی تنصیبات پر خطرناک حملے کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ انھوں نے جنگ بندی کے اعلان سے چند گھنٹے پہلے سی این بی سی سے کہا تھا کہ ”ایران پر بمباری کرنے کے لیے فوج پوری طرح تیار ہے۔“صدرٹرمپ نے ایران میں پلوں  اور توانائی مراکز کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دہرائی تھی۔دوسری طرف ایران نے بھی اپنی فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی ایرانی فوج کسی بھی جارحیت سے نپٹنے کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ لیکن معینہ مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی ٹرمپ نے جنگ بندی کو  غیر معینہ مدت تک بڑھانے کا اعلان کردیا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ”ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور اسی طرح یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی ہے۔“ ایران کی مضبوط قوت ارادی اور صدرٹرمپ کی خراب پوزیشن کو دیکھ کر اندازہ کہ امریکہ ایران میں بھی اسی انجام سے دوچار ہوگا جس سے وہ 1988میں عراق میں دوچار ہوچکا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ اس کا کوئی معاہدہ طے نہیں پاسکے گا۔ جو ناکامی اور پسپائی اسے عراق میں ہاتھ لگی تھی وہی اب ایران میں بھی اس کا مقدر ہوگی۔