ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا
کسی نے درست ہی کہا تھا کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حوصلوں سے لڑی جاتی ہیں۔ایران نے اس بات کو عملی طورپر ثابت ہی نہیں کیا بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھادیا کہ وہ کوئی لقمہ ترنہیں ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ کی وحشیانہ بمباری اور عام شہریوں پر ڈھائے گئے مظالم سہنے کے باوجود ایران مضبوطی کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑا ہے اور وہاں اقتدار تبدیل کرنے کی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔ایک ہفتہ کی جنگ کے بعد صدرٹرمپ نے کہا ہے کہ’’ وہ چاہتے ہیں کہ ایران غیر مشروط طورپر خودسپردگی کردے تاکہ وہ وہاں اپنی پسند کی کوئی سرکار قائم کرسکیں۔‘‘اسی شدید خواہش کے پیش نظر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر چڑھائی بھی کی تھی ، لیکن نشانہ خطا ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں پادریوں کو بلاکر اپنی کامیابی کے لیے ایک دعائیہ محفل برپا کی ہے۔ اس موقع کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں صدٹرمپ مایوسی کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو ظالمانہ طورپر شہید کرکے اسرائیل اور امریکہ نے وہاں اقتدار کی تبدیلی کا جو خواب دیکھا تھا ، وہ چکناچور ہوگیا ہے۔ اب دنیا کی دوسب سے بڑی ظالم اور جابر طاقتیں ایران کے خلاف اپنی بھڑاس نکال رہی ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے اسرائیلی اور امریکی منصوبے بھی خاک میں مل گئے ہیں۔اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی کا اصل ہدف ایران کی اعلیٰ قیادت تھی اور گمان یہ تھا کہ رہبر اعلیٰ کی شہادت کے بعد ایران بکھر جائے گا ، لیکن اس کا الٹا ہی اثر ہوا ہے۔ خامنہ ای کی ظالمانہ شہادت نے ایرانیوں کا متحد کردیا اور بچہ بچہ اپنے وطن کی آبرو پر قربان ہونے کے لیے تیار ہے ۔ یہ نہ صرف اندازے کی بھیانک غلطی ہے بلکہ ظالم قوتوں کے منہ پر زوردار طمانچہ بھی۔ ایران کے ساتھ پوری دنیا کے غیور مسلمانوں نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور رہبراعلیٰ کے قتل کی سبھی نے مذمت کی ہے۔ اسے کسی ملک کی آزادی اورخودمختاری پر بزدلانہ حملے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
دنیا کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنھوں ابھی تک خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ بدقسمتی سے ان ملکوں میں ہندوستان بھی شامل ہے جس کی موجودہ قیادت نے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی بدترین جارحیت پر منہ سی لیا ہے۔ یہ ہندوستان کی متعین خارجہ پالیسی سے واضح انحراف ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے ، البتہ اپوزیشن نے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی بلااشتعال جارحانہ کارروائیوں کی مذمت بھی کی ہے۔کانگریس کی سینئر لیڈر سونیا گاندھی نے اس صورتحال پر روزنامہ ’انڈین ایکسپریس ‘ میں شائع اپنے مضمون میں مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ٹارگیٹ کلنگ پر حکومت کی خاموشی غیرجانبداری نہیں بلکہ فرض سے انحراف ہے، جس سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ساکھ اور سمت کے بارے میں سنگین شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ‘‘بحر ہند میں ایرانی بحریہ کی ایک آبدوز پر امریکی حملہ اور اس میں سوسے زائد ایرانی بحریہ کے افسران کی ہلاکت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو بندکئے جانے کے بعد ہندوستان کے سامنے تیل کی فراہمی کا جو بحران پیدا ہوا تھا ، اس کے لیے ہندوستان کو امریکہ سے التجا کرکے روسی تیل برآمد کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت مانگنی پڑی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے ہندوستان پر روسی تیل برآمد کرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر اسرائیلی جارحیت سے دوروز پہلے ہی ہمارے وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کادورہ کرکے واپس آئے تھے۔ ان کی واپسی کے بعد ہی اسرائیل نے امریکہ کی مددسے ایران کو نشانہ بنایا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے کا منصوبہ ایک ہفتہ پہلے ہی بنالیا تھا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیراعظم مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے تمغہ حاصل کرنے کے بعد وہاں اپنی تقریر میں اسرائیل پر حماس کے حملوں کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اس میں ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان سے تو اظہارتعزیت کیا تھا ، لیکن انھوں نے اپنی تقریر میں غزہ پر اسرائیلی درندگی اور بربریت کے نتیجے میں 70ہزار سے زائد بے گناہوں کی ظالمانہ ہلاکت پر ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔ تبھی اندازہ ہوگیا تھا کہ وزیراعظم مودی پوری طرح صیہونیت کے چنگل میں پھنس چکے ہیں اور اب خامنہ ای کی شہادت پر ان کی خاموشی نے ڈھیروں سوال کھڑے کردئیے ہیں۔ حالانکہ ایران وہی ملک ہے جس نے کئی موقعوں پرہندوستان کا ساتھ دیا ہے ۔ وزیراعظم مودی نے خلیج کے ان ملکوں کو تو فون کئے ہیں جہاں ایران نے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے ، لیکن انھوں نے ایرانی قیادت کو فون کرنے یا اظہار تغزیت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ ایران نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ خلیجی ملکوں میں موجود اس کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا اور اس کی پیشگی اطلاع ایران نے مذکورہ ملکوں کو دے بھی تھی۔ اب خلیجی ملکوں میں بھی امریکہ کے خلاف غم وغصہ ہے ۔متحدہ عرب امارات کے ایک بڑے تاجر نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ان سے پوچھا ہے کہ ’’ہمارے خطہ کو جنگ میں جھونکنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا؟‘‘
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کے خلاف دنیا کے ان تمام ملکوں اور عناصر نے سخت مذمت کی ہے جو انسانیت کی بقاء اور پرامن بقائے باہم پر یقین رکھتے ہیں۔ ایران پر حملہ انسانیت کے خلاف بدترین جرم کے مترادف ہے کیونکہ اس میں نہ صرف ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کیا گیا ہے بلکہ پہلے ہی نشانہ میں ایک پرائمری اسکول پر حملہ کرکے 180کمسن طالبات کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ افسوس کہ مہذب دنیا نے ابھی تک اس پر منہ نہیں کھولا ہے جبکہ جنگ کے دوران بچوں کی ہلاکت کو ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران پر فوری حملے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ ایران جینوا میں جاری مذاکرات کے دوران امریکہ کی شرطیں تسلیم کرنے پر رضا مند ہوگیا تھا۔ ان میں سب سے بڑی شرط ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے سے متعلق تھی ۔ ایران کا دوسرا مطالبہ ان بیلسٹک میزائلوں کا استعمال روکنے سے متعلق تھا جنھوں نے اسرائیل میں زبردست مچائی ہے۔ ایران کے ان میزائلوں کی زد میں پورا اسرائیل ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے جس انداز میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو نشانہ بنایا ہے ، اس کی وجہ سے خود امریکہ میں ان کے خلاف ماحول بن گیا ہے۔امریکی پارلیمان کے ممبران نے ٹرمپ کے سامنے ایسے متعدد سوالات کھڑے کردئیے ہیں جن کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممبران پارلیمنٹ نے جینوا میں ہونے والے ان مذاکرات کی مکمل تفصیلات معلوم کی ہیں جو ایران کے جوہر ی پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق عمان کی پہل پر ہورہے تھے۔ ان مذاکرات میں ایران ، اسرائیل اور امریکہ تینوں گفتگو کی میز پر تھے۔ٹرمپ پر الزام ہے جب ایران گفتگو کی تمام شرطوں پر رضا مند تھا تو ٹرمپ نے پارلیمنٹ کی منظوری حاصل کئے بغیر حملہ کیوں کیا ؟ دراصل عمان کے وزیرخارجہ نے 28؍فروری کی پریس کانفرنس میں تحریری طورپر بتایا تھا کہ سبھی شرطیں تسلیم کرتے ہوئے ایران پہلی بار اپنے نیوکلیئر میٹرئیل کو ختم کرے گا اور مستقبل میں ان کی مدد سے کوئی جوہری ہتھیار بھی نہیں بنائے گا ۔ اتنا ہی نہیں ایران اس پر بھی راضی تھا کہ وہ اپنے سبھی جوہری مراکز کو آئی اے ای اے (انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی )اور امریکی افسران کے ذریعہ معائنے اور تصدیق کے لیے کھولے گا ، لیکن اس بات کے عام ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ایران پر زبردست حملہ کیا گیا ۔ اس سے ناراض عمان کے وزیراعلیٰ نے امریکہ کی مذمت بھی کی ہے۔اب امریکن ڈیموکریٹک ہی نہیں کئی ریپبلکن ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ عوام کا بڑا حصہ بھی صدرٹرمپ سے سوال کررہا ہے کہ’’ کیا ایران کے خلاف اس جنگ کی کوئی دلیل موجود ہے ۔ ہر ملک کی اپنی آزادی اور خودمختاری کا اصول کیا ہو ا ۔ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کوروکنے پر راضی تھا تو اس پر حملہ کیوں کیا گیا یا وہاں اقتدار تبدیل کرنے کی خواہش کیوں تھی۔‘‘ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ایران میں موجودہ رجیم کو تبدیل کرکے وہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے رضا شاہ پہلوی کا بیٹے کو تیار کیا گیا تھا۔ مگر اس مقصد کو حاصل کرنے میں امریکہ اور اسرائیل دونوں نے منہ کی کھائی ہے کیونکہ ایران کا موجودہ رجیم پہلے سے زیادہ طاقت اور اعتماد کے ساتھ مضبوط ہوا ہے۔