Jadid Khabar

اب ممتابنرجی ’انڈیا اتحاد‘ کو مضبوط کریں گی

Thumb

مغربی بنگال میں بی جے پی کے پہلے وزیراعلیٰ سویندو ادھیکاری نے حلف اٹھالیا ہے۔یہ وہی سویندو ادھیکاری ہیں جو2020 تک رخصت پذیر وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے دست راست تھے مگر2021میں باغی ہوکر بی جے پی میں چلے گئے اور اس کے ٹکٹ پر ممتا بنرجی کو نندی گرام سے دوبار شکست دی۔ سویندو ادھیکاری اس وقت بنگال میں ہندتو کے سب سے بڑے پیروکار ہیں اور انھوں نے چناؤ جیتنے کے بعد صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ”ہمیں ہندوؤں نے ووٹ دیا ہے، لہٰذا ہم ان کے لیے ہی کام کریں گے۔“اس میں شک بھی کیا ہے کہ مغربی بنگال کے حالیہ چناؤ میں مسلمانوں نے اپنا ووٹ سیکولر پارٹیوں کے حق میں استعمال کیا اور سب سے زیادہ ترنمول کانگریس کی جھولی بھری، لیکن اب جبکہ مسلمانوں کو ”درانداز“قرار دے کر چناؤلڑنے والی بی جے پی اقتدار میں آگئی ہے تووہ  مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی، یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ اس کی مثال آسام سے دی جاسکتی ہے جہاں کی بی جے پی سرکار کا واحد ایجنڈا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور انھیں اٹھتے بیٹھتے ’گھس پیٹھیا‘ قراردینا ہے۔ 
سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی شکست کے بعد زخمی شیرنی کی طرح دہاڑ رہی ہیں۔ انھوں نے وزیراعلیٰ کے عہدے سے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دینے  سے انکار کردیا تھا کہ’مغربی بنگال اسمبلی کے انتخابی نتائج عوامی مینڈیٹ نہیں بلکہ ایک سازش ہے، کیونکہ 100سیٹوں پر مینڈیٹ کو لوٹا گیا ہے جس میں الیکشن کمیشن اصلی’ولن‘ہے۔‘ملک کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ کسی وزیراعلیٰ نے الیکشن ہارنے کے بعد مستعفی ہونے سے انکار کیا۔ بعد گورنر نے اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے بعد انھیں برخاست کردیا، مگر انھوں نے اس بیان کے ذریعہ ملک کی توجہ اس دھاندلی کی طرف مبذول کرانے میں ضرور کامیابی حاصل کی ہے جس کے توسط سے  بی جے پی پہلی بار بنگال کے اقتدار پر قابض ہوئی  ہے۔ 
ممتا بنرجی کی شکست کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اب انھوں نے خود کو ’انڈیا اتحاد‘ کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں جھونک دیا ہے۔ یعنی ممتا کو ہراکر بی جے پی نے اپوزیشن اتحاد کو نئی توانائی عطا کی ہے۔ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج آنے کے بعد کہا کہ ”سونیا گاندھی، راہل گاندھی، اروند کجریوال، ادھو ٹھاکرے،اکھلیش یادو اور ہیمنت سورین نے ان سے گفتگو کی ہے اور اب وہ اپوزیشن اتحاد کو مضبوط کرنے پر توجہ مبذول کریں گی۔‘‘ہم آپ کو یاد دلادیں کہ اسمبلی انتخابات کے دوران جب ممتا بنرجی کو الیکشن کمیشن اور مرکزی ایجنسیوں کی طرف سے ستایا جارہا تھا تو انھوں نے اسی وقت کہا تھا کہ ان کا اگلا نشانہ دہلی ہے اور وہ چناؤکے بعد مودی سرکار کو اکھاڑنے کے لیے کام کریں گی۔ یعنی وہ اب اپنی تمام ترتوانائی اس انڈیا اتحاد کی مضبوطی پرخرچ کریں گی، جسے اب تک ان کی خاطر خواہ توجہ حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ اگر وہ صحیح معنوں میں اس اتحاد کے ساتھ ہوتیں تو شاید انھیں خود اپنی ریاست میں اتنی بڑی ناکامی سے دوچار نہیں ہونا پڑتا۔ ’انڈیا اتحاد‘ کا حصہ ہونے کے باوجود کانگریس اور ان کے درمیان مقابلہ آرائی ہوئی۔ انھوں نے مغربی بنگال میں کانگریس کے ساتھ انتخابی اتحاد کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا کہ وہ بنگال کا الیکشن تن تنہا جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں مگر اب کراری شکست کے بعد انھوں نے ’انڈیا اتحاد‘ کو مضبوط کرنے کی بات کہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس خطرے کو بخوبی سمجھ گئی ہیں جو پورے ملک میں اپوزیشن کو ختم کرنے کے لیے مودی سرکار اور الیکشن کمیشن کی طرف سے مشترکہ طورپر پیش کیا جارہا ہے۔
ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کو قبول کرنے سے یکسر انکارکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ  ہاری نہیں ہیں بلکہ انھیں زبردستی ہرایا گیا ہے۔ اس میں شک بھی کیا ہے۔ جس انداز میں مغربی بنگال میں الیکشن ہوا، اسے دیکھ کر کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن تھا، جس میں مرکزی حکومت کی پوری مشنری سیاسی کارکنوں کی طرح سرگرم عمل تھی اور صوبائی مشنری کو پوری طرح بے دست وپا کردیا گیا تھا۔ الیکشن کے اعلان سے بہت پہلے ہی ممتا بنرجی کو معزول کرنے کے لیے بساط بچھادی گئی تھی اور اس میں پورا سنگھ پریوار الیکشن کمیشن کی مددسے مصروف کار تھا۔ جس انداز میں بنگال کے اندر ایس آئی آر کا عمل انجام دیا گیا، اس سے صاف اندازہ ہوگیا تھا کہ ممتا کے ووٹ بینک کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ بی جے پی کو چورراستے سے اقتدار میں لایا جاسکے۔ ایس آئی آر کے دوران الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی کی طرف سے اٹھائے گئے کسی بھی اعتراض کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ جب وہ الیکشن کمیشن سے لڑتے لڑتے پریشان ہو اٹھیں تو انھوں نے انصاف حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پیروی کے لیے خود سپریم کورٹ میں حاضر ہوئیں۔ امید یہی تھی کہ سپریم کورٹ ان کی حاضری کا نوٹس لے گا، لیکن انھیں وہاں بھی انصاف نہیں ملا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی بنگال کے91 /لاکھ رائے دہندگان ایس آئی آر کی زد میں آئے اور ان کے ووٹر ہونے پر سوالیہ نشان کھڑے کئے گئے۔ ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، جو ممتا بنرجی کے روایتی ووٹر تھے۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ بی جے پی نے اس الیکشن میں جتنے ووٹوں سے برتری حاصل کی ہے،ان ووٹروں کی تعداد اتنی ہی ہے جنھیں حق رائے دہی سے محروم کیا گیا ہے۔ ممتا کے ووٹ فیصد میں سات فیصدکی کمی آئی اور بی جے پی آٹھ فیصد کے اضافہ سے چناؤ جیت گئی۔ یعنی اس سات فیصد کی کمی کے سبب ترنمول کانگریس نے 135 سیٹیں گنوادیں اور بی جے پی کے ووٹوں میں آٹھ فیصد کے اضافہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی سیٹوں میں 131کا اضافہ ہوگیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران جن91/ لاکھ ناموں کو ہٹایا گیا، ان میں 57/ لاکھ ہندو اور31/لاکھ مسلمان تھے۔ آبادی کے تناسب میں اتنے مسلم ووٹوں کی چھٹنی بہت اہمیت رکھتی تھی۔ ووٹوں کے تناسب میں اس تبدیلی نے کئی علاقوں میں مسلمانوں کی فیصلہ کن پوزیشن کو کمزور کیا، جس سے بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ بی جے پی نے مسلم غلبہ والے اضلاع میں برتری حاصل کی۔ مالدہ، مرشد آباداور چوبیس پرگنہ جیسے مسلم اکثریتی اضلاع کی 118/سیٹوں میں سے بی جے پی 53 سیٹوں پر جیت گئی۔ ٹی ایم سی کے مضبوط گڑھ کہے جانے والے ان اضلاع میں جہاں پہلے بی جے پی محض 14/سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی وہاں اب اسے69سیٹیں ملی ہیں۔ 
ممتا بنرجی گزشتہ پندرہ سال سے اقتدار میں تھیں اور انھوں نے یہ اقتدار سی پی آئی (ایم) سے چھینا تھا، جو34برسوں سے اقتدار میں تھی۔ مغربی بنگال میں مسلم آبادی کاتناسب تقریباً 28/فیصد ہے۔ اس سے زیادہ آبادی آسام میں ہے جہاں مسلمان تقریباًً35/فیصد ہیں۔ آسام میں بی جے پی نے تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔ جس طرح ایک سازش کے تحت آسام میں مسلم آبادی کے غلبہ والی سیٹیوں کو نئی حدبندی کے ذریعہکم کردیا گیا ہے، اسی طرح اندیشہ یہ ہے کہ بی جے پی مغربی بنگال میں مسلم آبادی کے غلبہ والی سیٹوں کی نئی حدبندی کرکے انھیں بھی سیاسی طورپر بے وقعت بنانے کی کوشش کرے گی۔ بی جے پی کا اصل ہدف مسلمان ہیں اور اس نے 2014میں مرکزکا اقتدار حاصل کرنے کے بعد اعلانیہ کہا تھا کہ وہ مسلم ووٹوں کو ناکارہ بنادے گی۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ آسام میں کانگریس کے جو 19/امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، ان میں 18/مسلمان ہیں۔ یعنی آسام کے مسلمانوں نے ’اپنی قیادت‘ کو نظرانداز کرکے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سیکولرازم کا بوجھ تنہا اپنے کاندھوں پر ڈھورہا ہے۔حالیہ پانچ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پانچوں صوبوں میں جو723 ممبران اسمبلی کامیاب ہوئے ہیں، ان میں مسلمانوں کی تعداد104ہے، لیکن کامیاب امیدواروں میں بی جے پی کا ایک بھی مسلم امیدوار نہیں ہے کیونکہ بی جے پی نے ان صوبوں میں کسی بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ بی جے پی کے اقتدار والی دوسری ریاستوں کی طرح مغربی بنگال میں بھی اب کوئی مسلم وزیر نہیں ہوگا۔بی جے پی کی کامیابی کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر تشدد جاری ہے جس میں اب تک نصف درجن لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ تشدد کا اصل نشانہ ریاست کے مسلمان ہیں، جنھیں بی جے پی نے’گھس پیٹھیا‘قرار دے کر ہندو ووٹوں کی صف بندی کی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بنگال میں اب امن چین کے دن لد چکے ہیں اور ایک امن پسند ریاست بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کے زیرنگیں آگئی ہے۔