امریکہ اور اسرائیل نے طاقت کے غرور میں ایران پر جو چڑھائی کی تھی، وہ خود ان کے وجود پر بھاری پڑرہی ہے۔ ایک ماہ طویل جنگ میں ایران تو مضبوطی کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑا ہے جبکہ اس کے دشمنوں کے قدم لڑکھڑارہے ہیں اور وہ جنگ بندی کی پکار لگارہے ہیں۔ ایک طرف جہاں صدر ٹرمپ کو اندروں ملک شدید مخالفت کاسامنا ہے تو وہیں اسرائیلی فوج ٹوٹنے کے کگار پر ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے خبردار کیا ہے کہ”اگر فوری اقدامات نہیں کئے گئے تو اسرائیلی فوج اندرونی طورپر ٹوٹ سکتی ہے۔“انھوں نے کہا کہ ”وہ دس لال جھنڈے اٹھاکر خبردار کررہے ہیں کہ موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی ہے۔“
حقیقت یہ ہے کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے شروع کی گئی جنگ اب امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک ایسی مصیبت بن گئی ہے جس سے وہ جلد سے جلد نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے یک طرفہ جنگ بندی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران سے مذاکرات کررہے ہیں جبکہ ایران نے ٹرمپ کے اس بیان کو گمراہ کن اور شاطرانہ قرار دیتے ہوئے حقارت سے مسترد کردیا ہے۔ ایران نے درست ہی کہا ہے کہ ”یہ جنگ ہماری نہیں ہے بلکہ ہم پر تھوپی گئی ہے اور ہم خون کے آخری قطرے تک اپنا دفاع کریں گے۔“صدر ٹرمپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سچ نہیں بولتے اور بیان تبدیل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اب جبکہ انھوں نے جنگ بندی کی خواہش کا اعلان کیا ہے تو اس کے پیچھے دراصل ان کی وہ پسپائی ہے جو ایران میں مسلسل جاری ہے۔ حالانکہ اس جنگ میں ایران کا نقصان بھی کچھ کم نہیں ہے، لیکن خاص بات یہ ہے کہ اتنا بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود ایران نے ابھی تک صیہونی اور سامراجی طاقتوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے ہیں اوروہ پوری قوت کے ساتھ نہ صرف ان کا مقابلہ کررہاکررہا ہے بلکہ انھیں ہرممکن نقصان بھی پہنچا رہا ہے۔اب تک امریکہ کے 800اور اسرائیل کے 1300سے زائد فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے 21/مارچ کو اعلان کیا تھا کہ اگر 48گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کا راستہ نہیں کھولا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران نے اس کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے ایسا کیا تو آبنائے ہرمز کو قطعی طور پر بند کردیا جائے گا اور خلیج میں توانائی اور پانی کی تنصیبات پر حملے کئے جائیں گے۔ ایران کے اس سخت رویہ کے بعد گزشتہ پیر کو الٹی میٹم کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر آئندہ پانچ دنوں تک حملہ نہیں کیا جائے گا۔بعد کو انھوں نے اس مدت میں دس دن کی اور توسیع کردی۔
ٹرمپ کے اس اعلان کو عالمی مبصرین امریکی پسپائی کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔ امریکی صدر کی پسپائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے یہ سفید جھوٹ بولا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دوروز میں ’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘ مذاکرات ہوئے ہیں، جن کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل اور مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ تفصیلی اور تعمیری مذاکرات آئندہ ایک ہفتہ تک جاری رہیں گے۔ اسی تناظر میں انھوں نے امریکی محکمہ دفاع کو ایران کے توانائی ڈھانچے پر حملے روکنے کی ہدایت دی۔ مگر ایران نے یہ کہہ کر ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کردیا کہ امریکہ کے ساتھ اس کے کوئی مذاکرات نہیں ہورہے ہیں۔ اتناہی نہیں خود اسرائیل نے کہا کہ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے کی بات کہنا جلد بازی ہے اور ان کا یہ بیان حیرت انگیز ہے۔
یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ روکنے کی جلدی کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کرکے ٹرمپ نے ایک بڑی مصیبت مول لے لی ہے۔ ایک طرف جہاں انھیں داخلی سطح پر شدید مشکلات کا سامنا ہے تو وہیں ان کے حلیف خلیجی ممالک ایران کے حملوں سے پریشان ہیں۔ ان کی معیشت ہچکولے کھارہی ہے۔ایران نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے شہروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ ان خلیجی ملکوں کے تیل اور گیس کے وہ پلانٹس براہ راست ایران کے نشانے پر ہیں جن پر ان کی معیشت کا انحصار ہے اور یہ ان کے وجود کا سوال بھی ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرچکا ہے جس سے متحدہ عرب امارات، قطر اور عراق کو بہت نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ غرض یہ کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے حلیف ممالک اس جنگ سے سخت پریشانی میں ہیں۔ اس لیے یہ خلیجی ممالک صدر ٹرمپ پر مسلسل یہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ اس جنگ کو جتنی جلد ی ہوسکے بند کیا جائے تاکہ وہ سانس لینے کے قابل ہوسکیں۔ ان خلیجی ملکوں میں امریکہ کے طاقتور فوجی اڈے ہیں جہاں چالیس ہزار کے قریب امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہ اڈے ان ملکوں کی خواہش پر ان کی حفاظت کے لیے قائم کئے گئے تھے، لیکن اب یہ ان کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن گئے ہیں۔ایران انھیں اس لیے نشانہ بنارہا ہے کہ وہ امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا، لیکن اس کی زد ان خلیجی ملکوں کے انفرا اسٹرکچر بھی پڑرہی ہے۔یہی وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے صدر ٹرمپ نے’یوٹرن‘ لیا ہے۔ وہ ٹرمپ جو کل تک ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی باتیں کررہے تھے، اب ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے کو بے قرار ہیں۔ امریکی ادارے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے صدر ٹرمپ نے خلیجی اتحادیوں کی وارننگ کے بعد ہی مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ٹرمپ خلیجی ملکوں کی وارننگ کے بعد ہی ایرانی انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنے سے پیچھے ہٹے ہیں۔
یہ تو تھا وہ بیرونی دباؤ جس کی وجہ سے ٹرمپ مذاکرات کا راگ الاپنے پر مجبور ہوئے، لیکن ان پر داخلی سطح پر بھی شدید دباؤ ہے اور انھیں کہیں سے حمایت نہیں مل رہی ہے۔ ایران جنگ میں امریکہ روزانہ دوارب ڈالر خرچ کررہا ہے۔ اس خرچ کو پورا کرنے کے لیے امریکی محکمہ دفاع نے تقریباً ۹۱/لاکھ کروڑ کا بجٹ مانگا ہے، جسے امریکی پارلیمنٹ کی منظوری نہیں مل رہی ہے۔ ٹرمپ کا المیہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں خود اپنی پارٹی ان کی مخالف ہے اور اس مخالفت کے نتیجے میں اس بجٹ کی منظوری ممکن نہیں ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ایران نے اسرائیل کے دوایٹمی ٹھکانوں ڈیمونا اور عرد پر گزشتہ ہفتہ کی رات کو میزائل حملے کئے جس سے امریکہ اور اسرائیل دونوں ہی بیک فٹ پر آگئے ہیں۔ تیسری وجہ ہے کہ32 ملکوں کی فوجی تنظیم ناٹو نیٹ ٹرمپ کے اصرار کے باوجود اپنی افواج کو آبنائے ہر مز کھلوانے کے لیے نہیں بھیجا۔ برطانیہ نے ضرور اسے کھلوانے کے لیے جنگی آبدوز بھیجنے کا اعلان کیا لیکن اسے جنگی زون میں تعینات نہیں کیا گیا۔ دیگر اہم ملکوں یعنی جرمنی، اٹلی اور ترکی نے بھی خود کو بیانا ت تک محدود رکھا۔ ا س طر ح ٹرمپ اکیلے پڑگئے۔
عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح برول نے کہا ہے کہ خلیج میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے9/اہم ملکوں کے چالیس فیصد توانائی ڈھانچے تباہ ہوگئے ہیں۔ گلوبل آئل سپلائی گیارہ ملین بیرل یومیہ گھٹ چکی ہے۔ ٹرمپ کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کا ہے، جو ان کے لیے بہت بڑا مرحلہ ہوگا۔ پہلے ٹرمپ ٹیرف اور اب ایران جنگ کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ کی مقبولیت میں حالیہ جنگ کے بعد زبردست کمی ہوئی ہے۔ٹرمپ کو مواخذہ سے بچنے کے لیے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ میں اپنی اکثریت کو بچائے رکھنا بہت بڑا چیلنج ہے۔یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ٹرمپ جلد ازجلد اس جنگ سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ جنگ اس کمبل کی مانند ان سے لپٹ گئی ہے جسے وہ چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن کمبل اس پر راضی نہیں ہے۔ ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کے توسط سے ایران کے ساتھ ثالثی کی جو کوشش کی تھی وہ بھی ناکام ہوچکی ہے۔دراصل جنگ بندی کے لیے ایران کی شرائط اتنی سخت ہیں کہ ان پر ٹرمپ کا رضامند ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ ایران کی شرائط میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ، جنگ میں ہوئے نقصان کی تلافی، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور کلیدی بحری راستوں پر ایران کا کنٹرول شامل ہیں بصورت دیگر جنگ بندی معاہدہ ممکن نہیں ہے۔امریکہ میں آئندہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہیں اور وہاں کے عوام میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ناراضگی جگ ظاہر ہے۔ یہ ناراضگی اگر ووٹوں میں تبدیل ہوتی ہے تو ٹرمپ کرسی پر تو رہیں گے، لیکن طاقت سے محروم ہوجائیں گے، کیونکہ پارلیمنٹ میں ان کی پارٹی کے پاس اکثریت نہیں ہوگی۔ امریکی آئین کے تحت اپوزیشن ان کے خلاف جانچ بھی بٹھاسکتی ہے۔ٹرمپ کی مشکلیں بڑھتی چلی جارہی ہیں اوروہ اسرائیل کی جنگ لڑکر پچھتا رہے ہیں۔