Jadid Khabar

ایپسٹین فائلز:سیاست اور تجارت کا گھناؤناچہرہ

Thumb

ٹکنالوجی اور خلائی صنعت کے بے تاج بادشاہ ایلون مسک ایک بار پھر عالمی دولت کی فہرست میں نیا ریکارڈ قائم کرکے دنیا کے امیرترین انسان بن گئے ہیں۔ ان کی مجموعی دولت 850 بلین ڈالرس (تقریباً77لاکھ کروڑ)سے تجاوز کرگئی ہے۔ لیکن اس حصولیابی کے ساتھ ساتھ ان کا نام گزشتہ ہفتہ ایک ایسے جنسی اسکینڈل کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہا جسے اب تک کا سب سے گھناؤنا جنسی اسکینڈل قرار دیا جارہا ہے۔ ایسپٹین فائلز کے نام سے منظر عام پر آنے والے لاکھوں صفحات کے اس اسکینڈل میں دنیا کے سب سے بڑے دولت مند شخص کا نام ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور ملک امریکہ کے صدر کا نام بھی ہے۔ اتنا ہی نہیں اس اسکینڈل میں برطانیہ سمیت دنیا کے کئی شاہی خاندانوں کے چشم وچراغ بھی برہنہ ہوئے ہیں۔ان میں برطانیہ کے شہزادے اینڈریوماؤنٹ بیٹن علاوہ  ناروے کی شہزادی میٹے ماریٹ بھی ہیں، جن کا نام اس اسکینڈل میں ایک ہزار مرتبہ آیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف نے بدترین جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تیس لاکھ سے زائد دستاویزات جاری کرکے پوری دنیا میں تہلکہ مچادیاہے۔ یہ تہلکہ ’وکی لیکس‘ جیسا ہے جس نے کئی برس پہلے سیاسی دنیا میں ہلچل مچائی تھی۔ اس وقت یہ ہلچل خفیہ طورپر ریکارڈ کی گئی سیاسی دستاویزات کے افشا سے مچی تھی اور کئی ایسے راز بے نقاب ہوئے تھے جن سے کئی لوگوں نے دانتوں تلے انگلیاں چبالی تھیں، لیکن جیفری ایپسٹین کے جزیرے پر دنیا کی نامی گرامی ہستیوں نے جو گھناؤنے کھیل کھیلے ہیں، ان سے بہت سے خوش نما چہروں پر سیاہی پھر گئی ہے۔ یوں محسوس ہوا کہ بظاہر سفید پوش نظر آنے والے وہ  لوگ جنھیں دنیا طاقت، اقتدار، دولت اور شہرت کی وجہ سے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے، بنیادی طورپر جنسی درندے ہیں۔ جیفری کے گھناؤنے جزیرے سے متعلق جتنی دستاویزات ابھی تک منظرعام پر آئی ہیں، اتنی ہی پردہ خفا میں ہیں۔ جو تیس لاکھ صفحات، پونے دولاکھ سے زیادہ تصاویر اور دوہزار ویڈیوز منظر عام پرلائی گئی ہیں، ان کی اشاعت کے بعد کئی بارسوخ لوگوں کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا ہے۔الزام ہے کہ جاری کی گئی دستاویزات میں بھی لاتعداد صفحات ایسے ہیں جنھیں سیاہ کردیا گیا ہے۔ یعنی کالے کارناموں پر بھی سیاہی پھیر دی گئی ہے۔ 
جیفری کے ناپاک جزیرے پر انجام دئیے گئے کالے کارناموں اور کمسن بچیوں کی چیخوں سے لبریز اس داستان میں دنیا کے سب سے طاقتور ملک کا صدر ہی نہیں بلکہ امریکی ارب پتی ایلون مسک اور ان کے بھائی بل گیٹس سمیت متعدد نامی گرامی شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔ سافٹ وئیر کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بل گیٹس کے بارے میں تو یہاں تک بتایا گیا کہ ان کی ملاقات جیفری نے ایسی روسی دوشیزاؤں سے کرائی تھی جن سے مل کر وہ ایک خطرناک جنسی بیماری کا شکار ہوگئے تھے اور بعد کو مہنگے علاج سے صحت یاب ہوسکے۔اس فہرست میں سابق اسرائیلی وزیراعظم یہود براک ہی نہیں بلکہ  معذور سائنسداں اسٹیفن ہاکنس کا بھی نام ہے جس پر دنیا بڑا فخر کرتی ہے۔بل گیٹس جیفری کے ساتھ گزارے ہوئے وقت پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ”بے قصور“ ہیں۔
 جاری کی گئی ان دستاویزات میں ایک ای۔ میل کے حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی پربھی انگلی اٹھائی گئی ہے مگر اس الزام کو وزارت خارجہ نے  ایک بدنام زمانہ جنسی مجرم کی ذہنی اختراع کہہ کر مسترد کردیا ہے۔ دوسرا ہندوستانی نام فلم ساز میرا نائیر کا ہے جو نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ہمدانی کی والدہ ہیں۔ ظاہر ہے جو لاکھوں دستاویزات جاری کئی گئی ہیں ان کی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ خود اس ہولناک جنسی اسکینڈل کے مرکزی کردار جیفری ایپسٹین2019میں نیویارک کے ایک قید خانہ میں مردہ پائے گئے تھے۔ غالب گمان یہی ہے کہ جیفری نے خودکشی کی تھی۔ اس قسم کے گھناؤنے جرائم میں ملوث مجرموں کا آخری سہارا خودکشی ہی ہوتی ہے جو انھیں اپنے گناہوں سے نجات پانے کا سب سے آسان نسخہ نظر آتی ہے۔
جیفری ایپسٹین پیشے سے میتھ کے ایک ٹیچر تھے، لیکن 1980کی دہائی میں وہ اس وقت دنیا کی نظروں میں آئے جب انھوں نے پرتعیش پارٹیوں کے لیے امریکہ میں ایک جزیرہ خریدا ۔ اس کے ساتھ ان کا ذاتی پلین بھی لوگوں کی توجہ مرکز بنا۔وہ اپنے جزیرے پر دنیا کے بارسوخ لوگوں کو پارٹیوں میں مدعو کرتے تھے اور انھیں عیاشیوں کا سامان مہیا کرایا جاتا تھا۔کہا جاتا کہ جو لوگ زمین پر اپنی عیاشیوں کے نشان نہیں چھوڑنا چاہتے تھے، انھیں یہ سہولت فضا میں مہیا کرائی جاتی تھی جس کے لیے جیفری کے ذاتی جہاز میں خاص سہولتیں دستیاب تھیں۔یہ جہاز اسی مقصد کے لیے بنوایا گیا تھا۔شائع شدہ دستاویزات میں ای میل، ایپسٹین کی جائیدادوں اور نیویارک کے قید خانے میں ان کی موت سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔
جیفری ایپسٹین نے کبھی شادی نہیں کی، لیکن بتایا جاتا ہے کہ وہ ہرروز زنا کے مرتکب ہوئے۔ انھوں نے اپنے اس عیاشی کے اڈے کے ذریعہ دنیا کے طاقتورلوگوں سے تعلقات قائم کئے جن میں سربراہان مملکت، دنیا کے امیرترین لوگ اور سیلیبرٹیز شامل تھے۔ ان کے جزیرے میں کمسن لڑکیوں کو بہلا پھسلاکر لایا جاتا اور انھیں بڑے لوگوں کے مساج کے نام پر اندھیرے کنویں میں دھکیل دیا جاتا تھا۔اس کے عوض وہ دنیا کے طاقتور اور امیرترین لوگوں سے غیر معمولی فائدے حاصل کرتے تھے۔کہا جاتا تھا ہے کہ دنیا کی بعض بدنام زمانہ خفیہ ایجنسیاں بھی سربراہان مملکت کو بلیک میل کرنے کے لیے جیفری کا سہارا لیتی تھیں۔جیفری کا یہ گھناؤنا کاروبار خوب پھلتا پھولتا رہا اور وہ تعیش کی زندگی گزارتا رہا۔ 2005میں اس کا بھانڈہ اس وقت پھوٹا جب امریکہ میں ایک 14/سالہ لڑکی کے والدین نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ جیفری کے جزیرے پر ان کی بیٹی کا جنسی استحصال کیا گیا ہے۔پولیس نے جب جیفری کے جزیرے پر چھاپا مارا تو اسے  وہاں بدترین جنسی جرائم کے لاتعداد گھناؤنے ثبوت ملے اور اب ان ہی ثبوتوں کو منظرعام پر لایا گیا ہے۔
 2008 میں جیفری کو ایک امریکی عدالت نے جب جیل بھیجا تو ایسی متعدد خواتین سامنے آئیں جنھوں نے کہا کہ انھیں جیفری کے جزیرے میں جنسی ہراسانی کا شکار بنایا گیا۔ 2019میں جیفری ایپسٹیننے  نیویارک کے ایک قید خانے خودکشی کرلی۔ایک امکان یہ بھی ہے کہ جیفری کو ان بااثر لوگوں نے موت کے گھاٹ اتارا ہو جن کے راز اس کے سینے میں دفن تھے۔بہرحال اب جبکہ جیفری کے کالے کارناموں پر مشتمل لاکھوں صفحات منظرعام پر آئے ہیں تو سب سے زیادہ پریشان اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھے ہوئے وہ لوگ ہیں جن کے اصل چہروں کی نقاب کشائی ہوئی ہے۔اس میں جہاں ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام ہے تو وہیں سابق صدر بل کلنٹن بھی اس گھناؤنی فہرست کا حصہ ہیں۔ بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہلری کلنٹن نے اس معاملے میں ہونے والی تحقیقات میں تعاون کا اعلان کیا ہے۔دوسری طرف صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جاری کردہ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے ان کے خلاف سازش کی تھی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کا ایپسٹین سے نہ تو کوئی تعلق تھا اور نہ ہی وہ کبھی اس کے جزیرے پر گئے۔بل کلنٹن کا کہنا ہے کہ وہ ایپسٹن کو جانتے ضرور تھے مگروہ کبھی اس کے جزیرے پر نہیں گئے۔جبکہ جزیرے کی ایک تصویر میں کلنٹن ایک سویمنگ پول میں دکھائی دے رہے ہیں۔
مجموعی طورپر اس اسکینڈل کی تفصیلات اتنی گھناؤنی اور پریشان کن ہیں کہ انھیں پوری طرح ضابطہ تحریر میں نہیں لایا جاسکتامگر اتنا ضرور ہے کہ موجودہ دنیا میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو اپنے سیاسی، معاشی اور تجارتی فوائد حاصل کرنے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت سب سے بڑا بحران اخلاقیات کاہے۔ سیاست ہویا تجارت، سفارت ہویا صحافت ہر جگہ اخلاقیات کا ہی خون ہورہا ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ جنسی اسکینڈل ہے جس میں موجودہ دنیا میں سیاست اور تجارت کی اعلیٰ ترین ہستیاں ملوث ہیں۔ یہ دراصل موجودہ سیاست اور تجارت کا ایک گھناؤ نا چہرہ ہے۔