Jadid Khabar

مزدور مخالف لیبر کوڈ نافذ کر کے مودی حکومت نے مزدوروں کے حقوق پر حملہ کیا: کھرگے

Thumb

نئی دہلی، 11 مئی (یواین آئی) کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملیکارجن کھرگے نے مودی حکومت پر پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ختم ہونے کے فوراً بعد چار لیبر کوڈ نافذ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ''بزدلانہ طریقے'' سے 8 اور 9 مئی 2026 کو گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ان مزدور مخالف قوانین کو نافذ کیا۔
کھرگے نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ یہ قوانین کروڑوں مزدوروں کے لیے ''ہائر اینڈ فائر''، روزگار اور یونین حقوق میں کمی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے بغیر کسی وسیع بحث اور مزدور تنظیموں سے مشاورت کے یہ قوانین نافذ کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2015 کے بعد سے ہندستانی  لیبر کانفرنس تک نہیں بلائی گئی اور یہ لیبر کوڈ صرف وزیرِ اعظم کے ''صنعتکار دوستوں'' کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہ کوڈ 2019 کے تحت کم از کم اجرت طے کرنے کے پرانے معیارات ختم کر دیے گئے ہیں، جس سے مزدوروں کی تنخواہیں من مانی طریقے سے مقرر کی جا سکیں گی۔ ساتھ ہی نئے نظام میں ملازمین کی تنخواہ کم ہونے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ ''پیشہ ورانہ تحفظ، صحت اور کام کے حالات کوڈ 2020'' کام کی جگہ کی سلامتی کو کمزور کرتا ہے اور سنگین حادثات کی صورت میں بھی کمپنیوں کو صرف جرمانہ دے کر بچ نکلنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی حفاظت اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق بھی واضح التزامات  نہیں ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ ''سماجی تحفظ کوڈ 2020'' غیر منظم شعبے کے 90 فیصد مزدوروں کے لیے محض ''کاغذی کارروائی'' بن کر رہ گیا ہے، جبکہ گگ ورکرز کے لیے بھی کوئی مضبوط سماجی تحفظ کا نظام فراہم نہیں کیا گیا۔ 
مسٹر کھڑگے نے الزام لگایا کہ ''صنعتی تعلقات کوڈ 2020'' کے ذریعے 300 ملازمین تک والی کمپنیوں کو بغیر سرکاری اجازت کے ملازمین کی برطرفی کی اجازت دے دی گئی ہے اور ہڑتال کے حق کو بھی تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ''مزدور انصاف'' ایجنڈے کے تحت منریگا کی توسیع، روزانہ 400 روپے قومی کم از کم اجرت، عالمگیر صحت تحفظ، غیر منظم مزدوروں کے لیے سماجی تحفظ اور سرکاری کاموں میں ٹھیکہ نظام کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔