جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اتوار کے روز ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی وکالت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی بیانات چاہے کتنے ہی تلخ ہوں، لیکن پس پردہ مذاکرات مسلسل جاری ہیں۔ پونچھ میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین ماہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خفیہ سطح پر بات چیت چل رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریٹائرڈ سفارت کار، سابق فوجی افسران اور دیگر نمائندے بیرون ممالک میں بیٹھ کر پاکستانی نمائندوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر مسئلہ کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس دوران انہوں نے اپنے والد اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بلو پرنٹ آج بھی خطے میں امن قائم کرنے کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مفتی صاحب ہمیشہ کہتے تھے کہ بی جے پی چاہے جتنا بھی مخالفت کرے، آخرکار اسے مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا اور بات کرنی ہی ہوگی، اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ مفتی صاحب کا نظریہ الگ تھا اور ان کے ویژن کے بغیر جموں و کشمیر مسئلہ کا کوئی حل ممکن نہیں ہے۔
پی ڈی پی سربراہ کا کہنا ہے کہ ’’وہ آپریشن سندور یا جو بھی اسے کہتے ہیں، چلاتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ 3 ماہ سے پاکستان کے ساتھ چوری چھپے بات چیت جاری ہے؟ کیا آپ یہ جانتے ہیں؟ ریٹائرڈ سفارت کار، ریٹائرڈ جنرل اور دیگر لوگ دوسرے ممالک میں جاتے ہیں اور پاکستانیوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’کاش یہ مذاکرات آپریشن سندور سے پہلے ہوئے ہوتے تو ہمارے وہ سردار بھائی جو شہید ہو گئے، اور وہ جڑواں بھائی بہن، زویا اور زین، جو اپنے آنگن میں کھیلتے ہوئے شہید ہو گئے، آج ہمارے درمیان موجود ہوتے۔ کتنی تباہی ہوئی ہے۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے اپنی حکومت کے دوران شروع کی گئی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار تجارت اور سفری خدمات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ راولا کوٹ راستہ اس لیے کھولا گیا تھا تاکہ تجارت کو فروغ ملے اور لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کی جگہ روزگار آئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم چاہتے تھے کہ یہاں سے سامان جائے اور وہاں سے پیسہ آئے تاکہ تشدد کم ہو سکے۔ لیکن اس راستے کو بھی بند کر دیا گیا۔‘‘
محبوبہ مفتی نے سال 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی تنظیم نو کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیر پنجال اور چناب وادی کے لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر خطے کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی نے خطے میں الگ انتظامی ڈویژن اور پونچھ کے مینڈھر علاقے کو ہل ڈسٹرکٹ کا درجہ دینے کا مطالبہ اٹھایا تھا، تاکہ لوگوں کو چھوٹے چھوٹے سرکاری کاموں کے لیے جموں یا سری نگر نہ جانا پڑے۔
جلسہ کے دوران محبوبہ مفتی نے بے روزگاری، مہنگائی اور غریب و قبائلی برادریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے گجر اور بکروال برادری کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غریبوں کو زمین پر قبضہ کرنے والا قرار دے کر ہراساں کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے نوجوانوں سے نشے سے دور رہنے اور آئندہ پنچایت انتخابات میں حصہ لے کر جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کی اپیل کی۔