غزہ پر اسرائیلی چڑھائی کے اب ڈھائی سال ہو رہے ہیں۔ لبنان پر حملے دو سال سےاور ایران پر حملے ایک سال سے چل رہے ہیں۔ روز کی خبروں سے لگتا ہے کہ یہی اصل مسئلے ہیں اور امریکہ و اسرائیل صرف کچھ مخصوص علاقائی مسائل کی وجہ سے جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ دونوں کے الگ الگ ایجنڈے ہیں۔ ایک علاقائی تسلط چاہتا ہے تو دوسرا اپنا عالمی تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
اسرائیل کا ایجنڈا یہ ہے کہ اس کا پورے مشرق وسطی پر بلا شرکت غیرے قبضہ ہوجائے اور اس کے ”عظیم تر اسرائیل“ (گریٹراسرائیل) کے خواب کی تکمیل ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے غزہ اور مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا علاقے کے کئی ملکوں بشمول مصر، عراق، لبنان اور اردن کے کچھ حصوں پر قبضہ ضروری ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے لئے اسرائیل علاقے میں کسی ملک کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے عراق کے اوزیراک (تمّوز) ری ایکٹر کو اسرائیلی جہازوں نے بمباری کر کے ۷؍ جون ۱۹۸۱ میں تباہ کیا۔ شام کے الکبر ری ایکٹر کو اسرائیلی جہازوں نے ۵؍ستمبر ۲۰۰۷ کو تباہ کیا۔ لیبیا کے صدر قذافی نے اسرائیل اور امریکہ کے دباؤ میں امریکہ اور برطانیہ کو ۲۰۰۳ - ۲۰۰۴ میں اجازت دے دی تھی کہ لیبی نیو کلیر ری ایکٹر کو تباہ کر دیں۔ لیکن اتنی بڑی رعایت بھی کافی نہیں ہوئی اور امریکہ کے حمایتی ملیشیاز نے قذافی کو قتل کر کے لیبیا پر قبضہ کر لیا۔
اسرائیلی دباؤ میں کوئی بیس سال قبل امریکہ نے مزاحمتی فرنٹ کے سات ملکوں کو تباہ کرنے کا پلان بنایا تھا۔اس پلان کے تحت عراق، شام، لیبیا، یمن اور سوڈان کی فوجی طاقت تباہ کی جاچکی ہے۔ اب صرف ایران بچا ہے جس کے پاس نیوکلیئر طاقت ہے اور اگر ایران چاہے تو ۳۔۴ مہینے میں ایٹم بم بنا سکتا ہے۔ پچھلے سال جون ۲۰۲۵ میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران کی نیوکلئیر تنصیات پر ۱۲؍دن حملہ کر کے اعلان کیا تھا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہوا تھا۔ اب بھی ایران کے نیوکلئیر تنصیات اور میسائل اڈوں پر حملے ہو رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ پچھلے سال امریکہ اور اسرائیل ان کو پوری طرح تباہ نہیں کر پائے تھے۔ خود ان دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں جبکہ ایران کے پاس نہیں ہے۔ لیکن ایران کے پاس ایٹمی ٹکنالوجی ہے جو اسرائیل اور امریکہ کو برداشت نہیں ہے۔ علاقے میں امریکی اڈوں کی تباہی، اسرائیلی شہروں اور مختلف تنصیات پر حملے اور آبنائے ہرمز پر ایرانی قبضے کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل پیچھے ہٹے اور بات کرنے پر راضی ہوئے۔
اسرائیل سمجھتا ہے کہ اگر ابھی ایران کو بےدست و پا نہیں کیا گیا تو پھر کبھی اس کا موقعہ نہیں آئے گا۔ امریکا میں ٹرمپ جیسا اسرائیل نواز صدر اب دوبارہ نہیں آنے والا ہے اور چند سالوں بعد ایران کی فوجی طاقت اتنی بڑھ چکی ہو گی کہ پھر کسی کی ہمت اس پر حملہ کرنے کی نہیں ہو گی۔
ایران کو تباہ کرنے کے خواب کے ساتھ اب اسرائیلی جنگجو لیڈروں نے ایک دوسرا علاقائی دشمن ڈھونڈ لیا ہے اور وہ ہے ترکی۔ اب اسرائیلی لیڈر کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ان کا اگلا نشانہ ترکی ہے۔ ان کا کھل کر کہنا ہے کہ شیعہ طاقت کے بعد اب سنّی طاقت کو کنارے لگانا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ترکی جو کبھی اسرائیل نواز ہوا کرتا تھا، اب اسرائیل سے بہت دور جا چکا ہے ۔ اس نے فوجی مصنوعات، بالخصوص ڈرونز کی صناعت میں دنیا بھر میں ایک واضح برتری بنا لی ہے۔ یہ برتری اسرائیل کو بہت کھلتی ہے۔ وہ پہلے دن سے چاہتا ہے کہ پورے علاقے میں اس کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ رہے۔ مصر اسرائیل کو چیلنج کر سکتا تھا لیکن ۱۹۷۸ء میں کیمپ ڈیویڈ معاہدے کے بعد امریکہ مصر کو ایک خطیر سالانہ امداد (ساڑھے تین بلین ( یعنی ساڑھے تین ہزار ملین) ڈالر دے رہا ہے تاکہ مصر اسرائیل سے دوستانہ تعلقات رکھے۔
امریکی ایجنڈا دوسرا ہے۔ ۱۹۹۰ میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ یک قطبی یعنی واحد عالمی طاقت بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم سے ۱۹۹۰ تک دینا میں دو قطبی طاقتیں حاوی تھیں یعنی روس اور امریکہ۔ ۱۹۹۰ کے بعد یہ بدل گیا اور امریکہ نے اس کا فائدہ اٹھا کر افغانستان، عراق، لیبیا، شام، یمن وغیرہ کی جنگیں براہ راست یا اپنے حلیفوں Proxies کے ذریعے چھیڑیں لیکن ان میں امریکہ کو بہت کامیابی نہیں ملی اور ۲۰۱۳ کے آتے آتے امریکہ کی طاقت جواب دینے لگی۔ روس پھر سے عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے لگا اور اب ایک نئی طاقت یعنی چین بھی عالمی طاقت بن چکا ہے۔
امریکہ نے مشرق وسطی میں جو جنگ اسرائیل کی مدد سے چھیڑی ہے اس کا مقصد اپنی یک قطبی پوزیشن کو بحال کرنا ہے۔ اس وقت روس اور چین کے علاوہ صرف ایران ہی ہے جو امریکہ کے قبضے میں نہیں ہے۔ نیز ایران کے پاس تیل اور نیچرل گیس کے بڑے ذخائر ہیں۔ ان پر اور مشرق وسطی اوروینی زویلا کے ذخائر پر قبضہ کر کے امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی سابقہ یک قطبی حیثیت بحال کر لے گا۔ تیل پر قبضے کی وجہ سے امریکی ڈالر کا قبضہ بھی دنیا کی مالیات پر باقی رہےگا۔ ۱۹۷۳ کے سعودی/اوپک معاہدے کی رو سے اب تک تیل کی فروخت امریکی ڈالر میں ہو رہی ہے حالانکہ اب چین کی کرنسی یوان میں بھی تیل کی فروخت ہونے لگی ہے۔ یوان کے داخلے کی وجہ سے امریکی کرنسی اور نفوذ کو سخت دھکا لگا ہے۔
ایران کی سخت مزاحمت کی وجہ سے امریکی پلان کامیاب نہیں ہو رہا ہے ۔ چین نے ابھی تک امریکہ کو فوجی طور پر چیلنج نہیں کیا ہے جبکہ روس نے یوکرین پر حملہ کر کے مغربی بلاک کو چیلنج کر دیا ہے۔ امید ہے کہ ایران کی مزاحمت کی وجہ سے یہ امریکی کوشش ناکام رہے گی۔
امریکہ اور اسرائیل کی خودسری کی وجہ سے بین الاقوامی آرڈر میں دراڑیں آ گئی ہیں۔ یہ دونوں ملک جب بھی ان کی مرضی ہوتی ہے بین الاقوامی آرڈر کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا میں ایک عالمی نظام قائم کرنے کے لیے لیگ آف نیشنز بنی تھی۔ اس کے ناکام ہونے پر دوسری جنگ عظیم کے بعد یونائٹڈ نیشنز کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے سینکڑوں اداروں اور معاہدوں کے بل پر موجودہ عالمی نظام چل رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی خودسری کی وجہ موجودہ نظام ٹوٹ رہا ہے اور ایک نیا نظام بن رہا ہے جس میں روس، چین اور کچھ دوسری مڈل لیول کے ممالک جیسے ایران، ہندوستان، پاکستان، جنوبی افریقہ اور برازیل وغیرہ کا اہم مقام ہو گا۔ اس تبدیلی کو روکنے کے لیے امریکہ رخنے ضرور لگا ئے گا اور دھمکیاں دے گا لیکن اس کی اخلاقی، مالی اور فوجی طاقت روز بروز کمزور ہو رہی ہے اور اب پہلی بار اس کے حلیف برطانیا ، جاپان اور نیٹو ممالک بھی اس کے ساتھ نہیں کھڑے ہو رہے ہیں۔ اس بڑی تبدیلی کی غزہ اور ایران کی غیرمعمولی قربانیاں بہت حد تک ذمےدار ہیں۔
(ختم)