Jadid Khabar

کمال مولیٰ مسجد پر ظالمانہ قبضہ

Thumb

مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع کمال مولیٰ مسجد کی721 سالہ تاریخ میں یہ پہلا جمعہ تھا کہ وہاں مسلمانوں کو سجدہ ریز ہونے کی اجازت نہیں ملی۔انھوں نے احتجاجاً اپنے بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر گھروں پر نمازادا کی۔ اس کے باوجود دھار ضلع کے ایس پی سچن شرما نے انھیں دھمکایا کہ”ہمت ہے تو آگے آؤ۔“اتنا ہی نہیں انھوں نے بھارت ماتا کی جے کا نعرہ کچھجس  انداز میں لگایا اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوا کہ وہ آئینی ذمہ داریوں سے بندھے ہوئے کوئی پولیس آفیسر نہیں بلکہ بجرنگ دل کے کارکن ہوں۔ سچن شرما کے اس جارحانہ عمل میں بی جے پی حکومت کا وہ گھمنڈ صاف نظر آتا ہے جس کا سرچشمہ اقتدار اور اکثریت کا غرور ہے۔یہاں یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ کیا یہ ملک اب قانون اور آئین کے راستے پر آگے بڑھے گا یا پھر یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام قائم ہوجائے گا۔ مدھیہ پردیش حکومت نے صدیوں پرانی کمال مولیٰ مسجد پر قبضہ کرنے کے لیے جوجال بچھایا تھا، اس میں محکمہ آثار قدیمہ، پولیس اور عدالت سبھی شریک ہیں۔کسی کو بھی اپنی آئینی ذمہ داریوں کا پاس نہیں ہے۔گویا  شریک جرم ہونا ان کے لیے فخر کی علامت بن گیا ہے۔
 کمال مولا مسجد کو مندر قراردینے کے عدالتی فیصلے کے بعد مسلمانوں میں ایسی ہی بے چینی پیدا ہوگئی ہے جیسی کہ اس سے پہلے بابری مسجد کی اراضی ہندوفریق کو سونپ دینے کے فیصلے سے پیدا ہوئی تھی۔ فرق یہ ہے کہ بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے سنایا تھا اور کمال مولا مسجد کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دینے کی ہمت مدھیہ پردیس ہائی کورٹ نے دکھائی  ہے۔ عدالت عالیہ نے تاریخی شواہد، ریونیو ریکارڈ اور دھار ریاست کے گزٹ نوٹیفکیشن کو نظر انداز کرکے محکمہ آثار قدیمہ کی مجہول رپورٹ کی بنیاد پر ایک ایسا فیصلہ صادر کیا جس کی جانبداری چھپائے نہیں چھپ رہی ہے۔ سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ ملک میں عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق ایکٹ مجریہ1991کی موجودگی کے باوجود عدالتیں زعفرانی  عناصر کی درخواستوں پرمسجدوں کے خلاف جو فیصلے صادر کررہی ہیں ان  سے ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین چیلنج پیدا ہوگئے  ہیں۔ مسجدوں کے سروے کرواکے انھیں متنازعہ قرار دینا اب عدالتوں کا روز کا معمول بن گیا ہے۔ ہرتاریخی مسجد کے نیچے مندر کے باقیات تلاش کئے جارہے ہیں اور اس انتہائی خطرناک سرگرمی کو عدلیہ، قانون اور سرکاری مشنری سب کا تحفظ حاصل ہے۔ بابری مسجد کے مقام پر ناجائز رام مندر کی تعمیر ایک ایسا ناسور ہے جس سے مسلمان بری طرح چور ہیں۔ مسلمانوں کا خیال تھا کہ بابری مسجد کے بعد یہ سلسلہ رک جائے گا اور وہ امن وچین کی زندگی گزارسکیں گے، لیکنیہ  خیال قطعی غلط ثابت ہوا ہے کیونکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک مستقل پٹارہ کھل گیا ہے۔ 
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے کمال مولا مسجد کو مندر قراردے کر وہاں ہندوؤں کو پوجا پاٹ کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ  مرکزی حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ لندن کے برٹش میوزیم میں رکھی ہوئی واگ دیوی کی مورتی واپس لائے تاکہ اسے  یہاں نصب کرکے پوری طرح مندر کی شکل دی جاسکے۔ ظاہر ہے عدالت کا یہ حکم اس کی جانبداری اور ناانصافی کا گواہ ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں  مسلمانوں پر یہ ’احسان‘ ضرور کیا ہے کہ انھیں دھار میں کہیں اور مسجد بنانے کی اجازت مل سکتی ہے۔مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا یہ  فیصلہ ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقل معلوم ہوتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی اراضی ہندو فریق کو سونپتے ہوئے یہ حکم بھی دیا تھا کہ حکومت مسلمانوں کو ایودھیا کی حدود میں کہیں اور مسجد بنانے کے لیے اراضی الاٹ کرے ۔ بلاشبہ ایودھیا سے دور ایک گاؤں میں یہ اراضی الاٹ بھی کی گئی اور ایک خوبصورت مسجد کا نقشہ بناکر اسے نچایابھی گیا، لیکن وہ جگہ آج بھی خاک پھانک رہی ہے اور وہاں ابھی تک مسجد کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی ہے۔ ظاہر ہے مسلمانوں کو اس مسجد سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس لیے یہاں اس کا مز ید ذکر کرنا بھی فضول ہے۔
 ان دونوں ہی عدالتی فیصلوں میں ایک مماثلت ضرور ہے اور وہ یہ کہ ملک کی وہ عدالتیں جن کا کام انصاف فراہم کرنا ہے ازخود ایک فریق بن گئی ہیں۔ یعنی وہ اکثریتی فرقہ کے حق میں فیصلے صادر کرنے کو ہی انصاف سمجھنے لگی ہیں۔ عدالتوں پر ہی کیا موقوف، اس وقت ملک میں جمہوریت کے جتنے بھی ادارے  ہیں وہ یک رخی ہوگئے ہیں۔ یعنی وہ آئین وقانون کا نفاذ کرنے کی بجائے حکومت وقت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہی سب کچھ کررہے ہیں۔ حکومت بھی ایسے لوگوں کو بھرپور خیال رکھ رہی ہے اور انھیں پوری بے شرمی کے ساتھ سرکاری عہدے بانٹ رہی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ایودھیا کیس کا فیصلہ صادر کرنے والی دستوری بنچ کے سربراہ جسٹس رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور اس بنچ کے ایک دوسرے جج کو گورنر بنایا گیا تھا۔ راجیہ سبھا کی ممبری اور گورنر کی کرسی کوئی بری چیز نہیں ہے، لیکن جب یہ کرسیاں کسی کو اس وقت ملیں جب وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں سے روگردانی کرکے ناانصافی اور ظلم کی بنیاد ڈالے تو یقینا یہ ذلت کا طوق بن جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب جسٹس گوگوئی نے راجیہ سبھا کے ممبر کے طورپر حلف لیا تھا تو ایوان میں موجود اپوزیشن اراکین نے ”شیم شیم“ کے نعرے اتنی زور سے لگائے تھے کہ پورا ایوان گونج اٹھا تھا، لیکن جسٹس گوگوئی کے چہرے پر ندامت اور شرمندگی کا بوجھ نہیں تھا۔ پچھلے دنوں جب جسٹس گوگوئی اپنی راجیہ سبھا سیٹ سے سبکدوش ہوئے تو معلوم ہوا کہ انھوں نے چھ سال کے عرصے میں نہ تو کوئی سوال پوچھا اور نہ ہی کسی بحث میں حصہ لیا۔ یعنی ان کے پورے چھ سال خاموشی میں گزرگئے۔ سنا ہے کہ کمال مولامسجد کو مندر قراردینے والی مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی بنچ کے جسٹس وجے کمار شکلا کے بیٹے کو فوری طورپر نوازا گیا ہے اور انھیں ایک اہم قانونی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ عین ممکن ہے کہ جسٹس شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی کو بھی  سبکدوشی کے بعد نئی ذمہ داریاں سونپی جائیں۔
معاملہ صرف عدالت تک محدود نہیں ہے بلکہ اگر آپ محکمہ آثار قدیمہ پر نظر ڈالیں تو وہ بھی حاکمان وقت کے سامنے سرنگوں نظر آتا ہے۔ حالانکہ اس محکمہ کا قیام تاریخی عمارتوں کی ان کی اصل ہیئت کے ساتھ حفاظت کرنا ہے مگر ایودھیا تنازعہ کی طرح دھار کے تنازعہ میں بھی اس محکمہ نے شرمناک کردار اداکیا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ نے اپنی رپورٹ میں کمال مولا مسجد کو دیوی سرسوتی کا مندر ثابت کرنے کے لیے ایڑھی سے چوٹی تک زور لگادیا۔ حالانکہ یہ وہی محکمہ ہے جس نے کمال مولامسجد کو مسلم عبادت گاہ تسلیم کرتے ہوئے یہاں مسلمانوں کو نماز جمعہ کی اجازت دے رکھی تھی۔اس سے پہلے 1951میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل نے واضح طورپر احکام جاری کئے تھے کہ کہ کمال مولا مسجد میں صرف مسلمان نماز پڑھیں گے، یہاں کسی اور مذہب کی عبادت نہیں ہوسکتی۔لیکن محکمہ آثار قدیمہ کی نیت بدل گئی ہے اور وہ شرپسندوں کو ہمنوا بن گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد محکمہ آثار قدیمہ نے بھوج شالا کو سرسوتی کا مندر اور تہذیبی ریسرچ کا قدیم مرکز قراردیتے ہوئے ہندوؤں کو بلا روک ٹوک آنے جانے کی اجازت دے دی ہے اور مسلمانوں کا داخلہ ممنوع قراردے دیا ہے۔ اس سے پہلے2003میں محکمہ آثار قدیمہ نے ہندو فریق کو صرف منگل اور بسنت پنچمی کے دن پوجا کی اجازت دی تھی جبکہ ہر جمعہ کو یہاں نمازادا کی جاتی تھی، مگر ہائی کورٹ نے اپنے تازہ فیصلے میں اس حکم نامہ کو مسترد کردیا ہے اور اب وہاں مسلمانوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ مسجد کے منبر اور محراب کے نیچے پوجا پاٹ جاری ہے۔حالانکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے، مگر سپریم کورٹ نے ابھی حتمی فیصلہ ہونے تک وہاں پوجا پاٹ پر کوئی روک نہیں لگائی ہے۔
اب آئیے حکومت کی طرف جس نے ہائی کورٹ میں تمام تاریخی اور زمینی حقائق کو جھٹلاتے ہوئے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ ”دھار میں واقع بھوج شالہ کبھی بھی مسجد نہیں تھی، لہٰذا یہاں مسلمانوں کو نماز پڑھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔“عدالت میں داخل  حلف نامے میں مدھیہ پردیش حکومت نے کہا ہے کہ ”مسلمانوں کو متنازعہ مقام پر نماز کی اجازت محض فرقہ وارانہ کشیدگی کے ازالہ کے لیے دی گئی تھی۔“مدھیہ پردیش حکومت کا سراسر جھوٹا یہ بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کمال مولا مسجد کو مندر قراردینے کی سازش میں صوبائی حکومت، محکمہ آثار قدیمہ اور عدالت سبھی شامل ہیں اور یہ سب ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کیا رخ اختیار کرتا ہے، کیونکہ اسی نے کمال مولا مسجد کے پیروکاروں کو انصاف حاصل کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی تھی۔کیا سپریم کورٹ عدالت عالیہ کی طرف سے کی گئی صریح ناانصافی کا ازالہ کرے گا؟