ملک کے عوام سے کفایت شعاری کی اپیل کرکے وزیراعظم پانچ یوروپی ملکوں کے دورے پر روانہ ہوچکے ہیں۔متحدہ عرب امارات سے شروع ہونے والا ان کا دورہ نیدرلینڈ، سوئیڈن اور ناروے ہوتے ہوئے اٹلی میں ختم ہوگا۔ کہا جارہا ہے کہ وہ یوروپ اور خلیجی ملکوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر گفتگو کریں گے۔ کون نہیں جانتا کہ غیرملکی دورے کرنا ہمارے وزیراعظم کا پرانا شوق ہے اور وہ خود کو ’وشو گرو‘ بنانے کی تگ ودو میں لگے ہوئے ہیں، لیکن اندرون خانہ جو صورتحال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔بے تحاشہ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام سخت پریشان ہیں اور انھیں اپنی جیب ڈھیلی ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔انھوں نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے عوام کو جن چیزوں سے پرہیزکرنے کا مشورہ دیا ہے، ان میں غیر ملکی سفر بھی شامل ہیں۔ مگر موجودہ حکومت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں شامل وزیروکبیر کسی بھی قسم کی ذمہ داریوں اور جوابدہی کا بوجھ نہیں اٹھاتے اور سب کچھ عوام کے کمزور کاندھوں پر ڈال دیتے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں اضافہ ہوچکا ہے اور ہندوستانی کرنسی کی قدر مسلسل گررہی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کے عوام سے کہا ہے کہ وہ پیٹ سے پتھر باندھنے کی تیاری کریں تاکہ ملک جس معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، اس سے نکالا جاسکے۔ انھوں نے کہا ہے کہ مغربی ایشاء کی جنگ نے دیگر ملکوں کی طرح ہندوستان کی بھی اقتصادی کمر توڑ دی ہے اور ملک کو کئی محاذوں پرچیلنجوں کا سامنا ہے، لہٰذا ملک کے عوام کفایت شعاری سے کام لیتے ہوئے’کم خرچ بالا نشیں‘کی کہاوت کا چلتا پھرتا نمونہ بنیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ”پٹرولیم مصنوعات کا استعمال کفایت شعاری کے ساتھ کریں، دفتر جانے کی بجائے گھر سے کام کرنے کی عادت ڈالیں، نقل وحمل کے عوامی ذرائع استعمال کریں اور اگر اپنی گاڑیوں میں باہر نکلیں تو کارپولنگ کریں۔‘‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ’’ایک سال تک سونا نہ خریدیں، خوردنی تیل اور کیمیائی کھاد کا استعمال کم سے کم کریں۔‘‘ وزیراعظم کی اس اپیل کا مقصد ملک کو جہاں ایک طرف غیر ملکی زرمبادلہ کے بحران سے نجات دلانا ہے تو وہیں ایران پر تھوپی گئی اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوئے توانائی کے سنگین بحران پر قابو پانا ہے۔ان کی اس اپیل کے بعد سونے پر امپورٹ ڈیوٹی میں اضافہ کے سبب سونا نوہزار اور چاندی بیس ہزار روپے مہنگی ہوگئی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت ا نھوں نے سکندر آباد کی عوامی میٹنگ میں ملک کے عوام سے کفایت شعاری سے کام لینے کا اعلان کیا تو ان کے مائک کے آگے اور چہرے کے پیچھے بی جے پی کا انتخابی نشان ’کنول‘ صاف نظر آرہا تھا اور وہ مغربی بنگال کو فتح کرنے کا جوش لے کر وہاں پہنچے تھے۔عام طورپر وزیراعظم ’کنول‘کے نشان کو اپنے آگے اور پیچھے اس لیے آویزاں کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہیں اس کا سیاسی فائدہ بی جے پی کو پہنچے، لیکن یہ داؤں الٹا پڑتا ہوا معلوم ہورہا ہے کیونکہ اس بیان کے بعد ملک میں ایسی ہی بحرانی کیفیت دیکھنے کو مل رہی ہے جو اس سے پہلے نوٹ بندی اور کورونا بحران کے دوران نظر آئی تھی۔انھوں نے اس اپیل کے دوسرے روز گجرات کے بڑودہ شہر میں یہ تسلیم بھی کیا کہ ”اگرکرونا کی وبا اس صدی کا سب سے بڑا بحران تھا تو مغربی ایشیا ء کی جنگ سے پیدا شدہ حالات اس دہائی کے بڑے بحرانوں میں سے ایک ہیں۔“یہی وجہ ہے کہ ان کی اس اپیل پر پورے ملک میں زبردست ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے اور پہلی بار بی جے پی کی کٹّر حامی سنار برادری ان کے خلاف صف آراء نظر آرہی ہے۔اپوزیشن نے وزیراعظم کی اس اپیل کو حکومت کی بڑ ی ناکامی قراردیا ہے اور خود وزیر اعظم مودی اور ان کے وزیروں کے قافلوں اور حالیہ اسمبلی انتخابات کے دوران ہیلی کاپٹروں سے دوروں اور روڈ شوز پر سوال اٹھائے ہیں۔ این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے ممکنہ اقتصادی اثرات کے زیراثر آل پارٹی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک کی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ”وزیراعظم کی اچانک اپیل نے عام شہریوں، تاجروں، صنعتوں اور سرمایہ کاروں میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے۔“
قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے سکندرآباد کے جلسہ میں تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی سے اپیل کی وہ ان کے ساتھ آجائیں۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ ہمارے وزیراعظم ہمیشہ انتخابی موڈ میں رہتے ہیں اور اپنی اس خواہش کو دبا نہیں پاتے کہ پورے ملک پر ان ہی کی پارٹی کا پرچم لہرائے، لیکن جب ان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ وہ جوابدہی سے کیوں پیچھے ہٹتے ہیں تو وہ کچھ نہیں بولتے۔ ملک اتنے بڑے معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور اتنے اہم مرحلہ میں بھی حکومت اپنی غلطیوں کا بوجھ عوام کے کاندھوں پر ڈال کر اپنا دامن بچانا چاہتی ہے۔ یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ سرکار کی غلط اور بے سمت پالیسیوں کے نتیجے میں متوسط طبقہ کنگال ہوچکا ہے اور غریبوں کا جینا محال ہے۔جمہوریت میں اقتدار حاصل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن اقتدار کے حصول کے ساتھ عوامی فلاح وبہبود کو پیش نظر رکھنا اور جوابدہی سب سے زیادہ ضروری ہے، جس کا اس حکومت میں زبردست فقدان نظر آتا ہے۔ اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم کی اپیل پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے درست ہی کہا ہے کہ ”مودی جی نے عوام سے قربانی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سونا نہ خریدیں، غیرملکی سفر نہ کریں، پٹرول کا استعمال کم کریں، کیمیائی کھاد اور کھانا پکانے کے تیل میں کٹوتی کریں، میٹرو کا استعمال کریں، گھر سے کام کریں۔یعنی ہر بار وہ ذمہ داری لوگوں پر ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ خود جواب دہی سے بچ سکیں۔‘‘
آپ کو یاد ہوگا کہ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران جب کہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت اپنے عروج پر تھی اور ملک میں رسوئی گیس کا بحران پیدا ہونے لگا تھا، تبھی راہل گاندھی نے انتباہ دیا تھا کہ ملک کے اندر توانائی کے شعبہ میں ایک بڑا بحران آنے والا ہے جس سے حکومت چشم پوشی کررہی ہیلیکن مودی سرکار نے راہل گاندھی پر ملک کے عوام میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش قراردے کر اسے مسترد کردیا تھا، لیکن اب جبکہ خود وزیراعظم نے ایک نہیں دوبار ملک کے عوام سے کفایت شعاری سے کام لینے کا مطالبہ کیا ہے تو حکمراں جماعت کے لوگ بغلیں جھانکتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد جب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر بندشین نافذ کیں تو پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہوگیا اور کروڈ آئل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ حکومت نے اس کی سپلائی کم کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کا سہارا لیا، ہوٹل بند ہوگئے اور بے روزگاری کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ کمرشیل گیس کے سیلنڈروں کی قیمتوں میں اضافہ اور رسوئی گیس کے حصول میں زبردست مارا ماری ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ منافعہ خوروں نے ان اشیاء کے دام بھی بڑھادئیے جن کا کوئی تعلق گیس سے نہیں تھا۔ آج مارکیٹ میں کھانے پینے کی تمام اشیاء مہنگے داموں پر فروخت ہورہی ہیں اور منافعہ خوروں سے کوئی کچھ کہنے والا نہیں ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت نے عالمی بازار میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود اس خسارے کو ٹیکسوں میں کٹوتی کرکے پورا کیا، لیکن اس کا مقصد عوام کو راحت پہنچانے سے زیادہ پانچ صوبوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا تھا۔ اگر اس دوران پٹرولیم مصنوعات کے دام بڑھادئیے جاتے تو اس کا منفی اثر انتخابی نتائج پر پڑتا۔ اپوزیشن نے اسی وقت یہ انتباہ دیا تھا کہ الیکشن ختم ہونے کے بعد ملک کے عوام کو کڑوا گھونٹ پینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ وہی ہوا بھی، جیسے ہی انتخابی نتائج کا اعلان ہوا وزیراعظم نے حیدرآباد پہنچ کر ملک کے عوام سے قربانی طلب کی۔ سوال یہ ہے کہ قربانی صرف عوام ہی کیوں دیں۔ قربانی حکومت اور اس کے ہمنوا ان سرمایہ داروں کو بھی دینی چاہئے جنھوں نے ملک وبیرون ملک دولت کے انبار لگارکھے ہیں۔ ان میں خاص طورپر وزیراعظم نریندرمودی کے دوست اڈانی اور امبانی بھی شامل ہیں جو دنیا بھر کے امیروں کی فہرست میں اپنا نام درج کراچکے ہیں۔ وزیراعظم کو یہ بھی یاد دلایا گیا کہ آنجہانی وزیراعظم لال بہادر شاستری کے دور حکومت میں جب ملک کے اندر مالی بحران پیدا ہوا تھا تو نظام حیدرآباد نے اپنے خزانے میں موجود سونا حکومت کو عطیہ کردیا تھا۔ یہی صحیح معنوں میں ”حب الوطنی‘‘بھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اڈانی اور امبانی اس مشکل گھڑی میں کتنے’’دیش بھکت‘‘ثابت ہوتے ہیں۔