Jadid Khabar

خواتین ریزرویشن کی آڑمیں آئین شکنی ناکام

Thumb

اقتدار کے نشے میں بدمست مودی سرکار کو پارلیمنٹ میں پہلا بڑا جھٹکا لگا ہے۔ خواتین ریزرویشن کے نفاذ سے پہلے قانون ساز اداروں کی نئی حدبندی سے متعلق آئینی ترمیم کو اپوزیشن نے ناکام بنادیا ہے۔اب حکومت اور گودی میڈیادونوں اپنی پسپائی کو چھپانے کے لیے یہ جھوٹ پھیلارہے ہیں کہ اپوزیشن نے خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کرکے ملک کی آدھی آبادی کو اپنا مخالف بنالیا ہے جبکہ پارلیمنٹ کے روبرو اصل سوال خواتین ریزرویشن بل تھا ہی نہیں بلکہ مودی سرکار خواتین ریزرویشن بل کی آڑ میں ایک ایسا کھیل کھیلنا چاہتی تھی جو اگر کامیاب ہوجاتا توملک کا انتخابی ڈھانچہ اس انداز میں بدل جاتا کہ پھربی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا کبھی ممکن ہی نہیں ہوپاتا۔اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے درست ہی کہا ہے کہ ”حکومت نے دستور کو توڑنے کے لیے خواتین کے نام پر جو غیردستوری چال چلی تھی، اسے انڈیا اتحاد نے ناکام بنادیا ہے۔“
پارلیمنٹ میں اکیس گھنٹوں تک چلی بحث کے دوران 131 ویں آئینی ترمیم پر رائے شماری کے دوران  528لوک سبھا ممبران نے حصہ لیا۔ 298ممبران نے اس کے حق میں ووٹ دیا اور230 ووٹ اس آئینی ترمیم کے خلاف پڑے۔ جبکہ اس ترمیم کو پاس کرانے کے لیے دوتہائی اکثریت درکار تھی جس کا آنکڑا352 ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ آئینی ترمیم اپوزیشن کے بے مثال اتحاد کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوئی اور حکومت منہ تکتی رہ گئی۔ اپوزیشن کو اس کامیابی سے بڑی تقویت حاصل ہوئی  ہے جبکہ حکومت اپنے زخم سہلانے میں مصروف ہے۔ اب پورے ملک میں حکمراں بی جے پی کے لوگ اپوزیشن کو کوستے پھررہے ہیں کہ اس نے خواتین کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی دینے والے مسودہ قانون کی مخالفت کرکے اپنے خواتین دشمن ہونے کا ثبوت دیا ہے۔جگہ جگہ کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کے جھنڈے نذرآتش کئے جارہے ہیں۔ 
حکومت اس بات کو اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کے پاس اس آئینی ترمیم کو پاس کرانے کی طاقت نہیں تھی اور یہ کام اپوزیشن کی سرگرم شرکت کے بغیر ممکن نہیں تھا مگر اس نے ہمیشہ کی طرح طاقت کے گھمنڈ میں اپوزیشن سے اس معاملے میں کوئی گفتگو ہی نہیں کی اور یہ بل ایک ایسے موقع پر پیش کیا جب اپوزیشن لیڈران اسمبلی انتخابات میں مصروف تھے۔ اس ترمیمی بل کی سب سے زیادہ مخالفت جنوب کی ریاستوں میں ہوئی۔ یہاں تک کہ تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ اسٹالن نے اس بل کے ٹکڑے کرکے اسے نذرآتش تک کرڈالا۔ درحقیقت جس انداز میں پارلیمنٹ اور اسمبلی سیٹیوں کی نئی حدبندی کی جارہی تھی اس کی رو سے اقتدار کی چابی شمالی ہند کی ان ریاستوں کے ہاتھ میں آجاتی جہاں بی جے پی کی سرکاریں ہیں۔ جنوبی ہند کی ریاستیں تمل ناڈو، کرناٹک، کیرل اور تلنگانہ کی نمائندگی بہت کم ہوجاتی اور یہ ان ریاستوں کو منظور نہیں تھا۔ 
 اب تک یہ ہوتا رہا ہے کہ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں جو بھی مسودہ قانون پیش کیا ہے اسے اکثریت کے بل پر منظوری مل گئی ہے لیکن گزشتہ بارہ سال کے اقتدار میں یہ پہلا موقع ہے کہ مودی سرکار پارلیمنٹ میں چاروں خانے چت ہوگئی ہے اور اس کے ارکان گریبان چاک کرتے پھر رہے ہیں۔ حکومت کو پہلی بار اپوزیشن اتحاد کا اندازہ ہوا ہے اور اسے پارلیمنٹ میں فضیحت اٹھانی پڑی ہے۔اب یہ طے ہوگیا ہے کہ قانون ساز اداروں میں خواتین کو ریزرویشن 2029کے عام انتخابات میں بھی نہیں مل پائے گا۔ حکومت کی دلیل یہ تھی کہ یہ آئینی ترمیم اس لیے ضروری ہے تاکہ ریزرویشن جلد نافذ ہوسکے۔ ابھی2023میں پاس کیا گیا خاتون ریزرویشن بل نافذ ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ خواتین کا33فیصد ریزرویشن اگلی مردم شماری کے بعد ہونے والی حدبندی کی بنیاد پر نافذ ہوگا۔ ان حالات میں یہ مانا جارہاہے کہ اب 2034کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے خواتین کو ریزرویشن نہیں مل پائے گا۔
لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں جہاں مودی سرکارکو زبردست ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے، کئی عجیب وغریب مناظر دیکھنے کو ملے۔جمعہ کی شام کو آئینی ترمیم کے ناکام ہونے کے بعد لوک سبھا کے صدر دروازے پر عجیب وغریب منظر تھا۔ حکمراں بی جے پی کے ارکان یہاں بہت  تیز آواز میں اپوزیشن کے خلاف نعرے لگا رہے تھے کہ اپوزیشن نے دستوری ترمیم کی مخالفت کرکے اپنے خواتین دشمن ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔ یہ نئی پارلیمنٹ کا وہی صدردروازہ (مکر دوار) ہے جہاں آئے دن اپوزیشن ارکان دھرنے پر بیٹھ کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں اور حکمراں جماعت کے لوگ ان کی طرف ہنس کردیکھ کر گزرجاتے ہیں، لیکن آج منظر بدلا ہوا تھا اور حکمراں جماعت کے سراپا احتجاج ممبران کو دیکھ کر اپوزیشن کے ارکان خوش ہورہے تھے۔ خوشی کی اصل وجہ یہ تھی کہ اپوزیشن نے متحد ہوکر حکومت کی اس سازش کو ناکام بنادیا تھا جو وہ ملک کے انتخابی ڈھانچے کو بدل کر ہمیشہ کے لیے اقتدار میں رہنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔بظاہر یہ آئینی ترمیم پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ممبران کی تعداد بڑھانے کے مقصد سے کی جارہی تھی اور اس کے لیے خواتین کی آڑ لے کر یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ یہ کام خواتین کو قانون ساز اداروں میں 33فیصد ریزرویشن دینے کے لیے کیا جارہا ہے مگر اس کے پیچھے منشا یہ تھی کہ2029کے عام انتخابات میں لوک سبھا کی سیٹیں اتنی بڑھا لی جائیں کہ موجودہ سرکار کبھی اقتدار سے محروم ہی نہیں ہوسکے۔ حالانکہ قانون ساز اداروں میں خواتین کو ریزرویشن دینے کا بل 2023 میں پاس ہوچکا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ اس بل کو پاس کرانے میں اپوزیشن کا بھی اتنا ہی ہاتھ تھا جتنا سرکار کا۔ اگر بی جے پی سرکار اس معاملے میں سنجیدہ ہوتی تو وہ اسے 2024کے عام انتخابات میں نافذ کرکے خواتین کی نمائندگی کا مسئلہ حل کرسکتی تھی۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا بلکہ اس کے لیے ایک جال بچھایا گیا جس میں اپوزیشن کو پھانسنے کی کوشش کی گئی۔لیکن حکومت خود اپنے ہی بچھائے ہوئے جال  میں پھنس گئی ہے اور اس کا کھیل طشت ازبام ہوگیا۔ 
پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس دوہفتے قبل ختم ہوچکا تھا، لیکن اس کے خاتمہ سے قبل یہ اعلان کیا گیا کہ 16/اپریل کو تین دن کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے گا جس میں خواتین ریزرویشن بل کو عملی شکل دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے گی۔ آئین میں ترمیم کے لیے ظاہر ہے دوتہائی اکثریت لازمی ہوتی ہے، جو بی جے پی کے پاس نہیں تھی، اس لیے اپوزیشن سے مدد ہی نہیں مانگی گئی بلکہ یہ دھمکی بھی دی گئی کہ اگر اس آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کی گئی تو اپوزیشن کوناقابل تلافی نقصان پہنچے گا، کیونکہ اس کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اپوزیشن کی شبیہ خواتیں مخالف بن جائے گی۔پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بھی یہی تاثر عام کرنے کی کوشش کی گئی۔ جس وقت دھواں دھار بحث جاری تھی تو لوک سبھا کی وزیٹر گیلری میں بی جے پی کی خواتین کی ایک بڑی تعداد کو بٹھایا گیا تھا اور پارلیمنٹ کا کیمرہ بار بار انھیں دکھا رہا تھا۔ عام طورپر اس کیمرے کی آنکھ ممبران پارلیمنٹ اور اسپیکر پر مرکوز ہوتی ہے، لیکن پہلی بار ایسا ہوا کہ جب بھی کوئی ممبر بولنے کھڑا ہوتا تو کیمرے کا رخ ان خواتین کی طرف کردیاجاتا۔ اس کا ایک ہی مقصد تھا کہ عوام کے ذہنوں میں خواتین کی تصویر ہی اجاگر کی جائے اور انھیں محور میں رکھا جائے۔ مگر یہ کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔ کیونکہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام بھی یہ سمجھ چکے تھے کہ یہ ایک جال ہے جس میں سب کو پھانسنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جب اپنی تقریر میں جادوگر کی کہانی سناکر یہ کہا کہ جادوگر خود اپنے جادو کا شکار ہوچکا ہے تو حکمراں جماعت کے ممبران ہی نہیں بلکہ خود اسپیکر اوم برلا کے چہرے پر بھی پریشانی کے آثار تھے اور وہ راہل گاندھی سے کہہ رہے تھے کہ پارلیمنٹ جادوگری کی جگہ نہیں ہے۔مگر جادوگر اپنے جال میں پھنس چکا تھا۔