Jadid Khabar

ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

Thumb

سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کی آڑ میں ووٹروں کے نام حذف کرنے کے معاملے میں الیکشن کمیشن کو خبردار کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ ووٹروں لسٹوں پر نظر ثانی کے دوران کسی شخص کا نام نکالنے کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ”الیکشن کمیشن کی کوئی طاقت بے لگام نہیں ہوسکتی۔“ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ”ایس آئی آر کا عمل بھی قانون اور طے شدہ ضابطوں کے تحت  ہی ہونا چاہئے۔“عدالت عظمیٰ کا یہ تبصرہ ان شکایتوں کے بعد آیا ہے جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران لاکھوں ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے باہر کیا جارہا ہے۔بدقسمتی سے ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔حکمراں بی جے پی کے لوگ اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے جگہ جگہ بی ایل او ز پر مسلم ووٹروں کو لسٹوں سے خارج کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔اس کا اندازہ راجستھان کے شہر جے پور کے حالیہ واقعہ سے ہوتا ہے جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
جے پور کے ایک بی ایل او نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ان پر سیکڑوں مسلمانوں کو ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے اور اسی  دباؤ کے نتیجے میں وہ خودکشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کہنے والا بی ایل او کوئی مسلمان ہوگا، جی نہیں اس بی ایل او کا نام ہے کیرتی کمار جو ایک سرکاری ملازم ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ خودکشی کی دھمکی دینے والے وہ کوئی اکلوتے بی ایل او ہیں بلکہ ان سے پہلے تقریباً پچاس بی ایل او مختلف قسم کے دباؤ نہ جھیل پانے کے نتیجے میں خودکشی کر چکے ہیں۔ اگر واقعی ایس آئی آر کا عمل اتنا ہی شفاف ہوتا جتنا کہ الیکشن کمیشن اور بی جے پی ظاہر کررہی ہے تو یقینا کسی بی ایل اوکو اپنی جان دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔جان انسان کی سب سے قیمتی شے ہوتی ہے او ر وہ اسی وقت اسے ختم کرنے  کی بزدلانہ کوشش کرتا ہے جب اسے اپنے سامنے تاریکی کے سوا کچھ نظر نہ آرہا ہو۔
آگے بڑھنے سے پہلے کیرتی کمار کی پوری کہانی سن لیں۔دراصل ان پر مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کا دباؤ ڈالنے والے بی جے پی ممبر اسمبلی اور مقامی کارپوریٹر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں مسلم ووٹوں کی وجہ سے اپنی ہارکا خوف ستا رہا  ہے۔ کیرتی کمار ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر ہیں اور فی الحال وہ بی ایل او کے طورپر کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ”ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ اپنے  بوتھ کے تقریباً چالیس فیصد رائے دہندگان کے نام ایس آئی آر کے بعد شائع ہونے والی مسودہ فہرست سے ہٹادیں۔“ انھوں نے الزام عائد کیا کہ”یہ اعتراضات خاص طورپر مسلم رائے دہندگان کو نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ وہ پہلے ہی ان سب کی تصدیق کرچکے ہیں۔“سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کلپ میں کیرتی کمار کو فون پر چیختے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ”میں کلکٹر کے دفتر جاؤں گا اور وہاں خودکشی کرلوں گا۔“اسی کلپ میں انھیں بی جے پی کونسلر سریش سینی سے یہ کہتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے ”ہوسکتا ہے کہ میں پوری کالونی سے ووٹروں کو ہٹادوں۔ اس سے آپ اور مہاراج کے لیے جیتنا آسان ہوجائے گا۔“مہاراج دراصل بی جے پی ممبراسمبلی بال مکند اچاریہ ہیں جنھوں نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں مسلم اکثریتی حلقہ ہوا محل سے محض974ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ بال مکند دراصل بالا جی مندر کے پجاری ہیں اور اپنے مسلم مخالف بیانات کے لیے بدنام ہیں۔
جے پور سے مسلم رائے دہندگان کے ناموں کو خارج کرنے کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اترپردیش کے مسلم اکثریتی اضلاع سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں ایس آئی آر کے دوران تقریباً 18/فیصد مسلم ووٹ صاف ہوگئے ہیں۔اترپردیش میں ایس آئی آر کے دوران جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے بارے میں ’انڈین ایکسپریس‘ نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق ریاست کے مسلم اکثریتی علاقوں میں رائے دہندگان کے اندراج میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے تحت مسلم اکثریتی علاقوں میں تقریباً19/فیصد ووٹروں کی کمی واقع ہوئی ہے، جوکہ اترپردیش میں اوسطاً 19/فیصد کی کمی کے برابر ہے، جس نے اب سیاسی بحث کو تیز کردیا ہے۔ درحقیقت اترپردیش میں مسلم آبادی 19/فیصد سے زائد ہے جبکہ دس اضلاع ایسے ہیں جہاں مسلم آبادی 33/فیصد سے 50/فیصد تک ہے۔ان میں رامپور، مرادآباد، بجنور، سہارنپور، مظفرنگر، امروہہ، بریلی، میرٹھ اور بہرائچ شامل ہیں۔ ان اضلاع میں ووٹر لسٹوں سے اخراج کی شرح اوسط 18.75 تھی جو کہ تقریباً ریاستی اوسط 18.70فیصد کے مساوی ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایس آئی آر کی آڑ میں کس طرح مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 
ایس آئی آر کے بارے میں شروع سے ہی یہ کہا جارہا ہے کہ یہ بی جے پی سرکار کا خفیہ ایجنڈا ہے جس کا مقصد اپوزیشن کے ووٹ کم کرکے اپنے لیے مستقل راہیں ہموار کرنا ہیں اور اس کا خاص نشانہ مسلمان ہیں جنھیں موجودہ نظام نے ’گھس پیٹھئے‘ (درانداز)کا نام دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی آج کل ’مشن مغربی بنگال‘ پر ہیں جہاں جلد ہی اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں۔ وزیراعظم مغربی بنگال کے ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے اپنی ہر تقریر میں ’گھس پیٹھیوں‘ کا مسئلہ اٹھارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ترنمول کانگریس نے  اقتدار میں رہنے کے لیے بڑی تعداد میں ’گھس پیٹھیوں‘ کو انتخابی فہرستوں میں شامل کیا ہے اور یہاں اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کا پہلا کام بنگال کو گھس پیٹھیوں سے پاک کرنا ہوگا۔سبھی جانتے ہیں کہ آج کل مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس اور الیکشن کمیشن کے درمیان ایس آئی آر کے مسئلے پر زبردست رسہ کشی چل رہی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں ایس آئی آر کا عمل شفاف نہیں ہے اور بڑی تعداد میں ترنمول کانگریس کے ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے باہر کیا جارہا ہے، جن میں بیشتر مسلمان ہیں۔یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ کے روبرو ہے۔
نام نہاد ’گھس پیٹھیوں‘ کا مسئلہ صرف بنگال اور آسا م ہی میں نہیں ہے بلکہ اسے بی جے پی کے اقتدار والے سبھی صوبوں میں ایک سنگین مسئلہ کے طورپر پیش کیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کئی شہروں میں ایسے ہی ڈٹینشن سینٹر (حراستی مراکز)قائم کردئیے ہیں جو  آسام میں قائم  ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ آسام ملک میں مسلم آبادی والی  سب سے بڑی ریاست ہے جہاں ان کا تناسب چالیس فیصد کے آس پاس ہے۔ موجودہ وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو خوف ہے کہ کہیں آسام میں مسلمان اکثریت میں نہ آجائیں اور اسی خوف کے تحت  وہ مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔آسام میں ’گھس پیٹھیوں‘ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ اس کی تاریخ کافی پرانی ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ’غیر ملکی‘ باشندوں کی شناخت کا ایک پیچیدہ عمل پہلے ہی پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ اس عمل کے دوران جن گھس پیٹھیوں کی نشان دہی کی گئی ان میں غالب اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ اس لیے اس عمل کو درمیان میں ہی چھوڑ دیا گیا۔ اب اس قسم کی شرمندگی سے بچنے کے لیے ہی مودی سرکار نے سی اے اے قانون نافذ کیا ہے جس کے خلاف ملک میں بے نظیر تحریک چلی تھی۔ اس قانون کے تحت پڑوسی ملکوں سے ہندوستان آنے والے تمام غیرمسلموں کو کسی ثبوت کے بغیرہندوستانی شہریت دی جائے گی جبکہ مسلمانوں کو اس قانون سے الگ رکھا گیا ہے۔ پچھلے دنوں مجھے مغربی اترپردیش کے ایک شہر میں ایس آئی آر کے عمل کو دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک بی ایل او نے مجھے بتایا کہ اس عمل سے برادران وطن کسی حد تک غافل نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایس آئی آر میں ان کا نام نہیں آیا تو وہ سی اے اے کے تحت کسی ثبوت کے بغیر ملک کی شہریت حاصل کرنے کے حقدار ہیں جبکہ مسلمانوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ایک ایسے وقت میں جب جان بوجھ کر مسلمانوں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کیا جارہا ہے تومسئلہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ ریمارکس کے بعد الیکشن کمیشن کے طرزعمل میں کیا تبدیلی آئے گی، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔