Jadid Khabar

ایران میں امریکہ آگ سے کھیل رہا ہے

Thumb

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کی دھمکی دے کر فی الحال اپنے ہاتھ کھینچ لیے ہیں، مگر خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔امریکی دفاعی ادارے پنٹاگون نے کروز میزائلوں، جنگی بحری جہازوں اور لڑاکا طیاروں سے لیس بحری بیڑا روانہ کردیا ہے۔ ادھر ایران کی دس لاکھ افواج بھی اپنے ملک کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور پاسداران انقلاب بھی اپنی تلواروں کو دھار دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال گزشتہ تین ہفتوں سے جاری عوامی مظاہروں کا نتیجہ ہے جس میں اب تک دوہزار سے زائد شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ بیس ہزار باغیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ سیکڑوں باغیوں کو تختہ دار پر چڑھانے کی ایرانی کوشش امریکی دھمکیوں کے نتیجے میں سردپڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ فی الحال مظاہرین خاموش ہیں، لیکن ایرانی خفیہ محکمہ ان باغیوں کی تلاش میں سرگرداں ہے جنھوں نے ایران میں بڑی اتھل پتھل مچائی اور حکومت کو جارحانہ کارروائیوں پر مجبور کیا۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اس اتھل پتھل کے پیچھے صیہونی اور سامراجی طاقتوں کا ہاتھ تھا، جو وہاں کی سرکار کو بے دخل کرکے سابق حکمراں رضا شاہ پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی کو ایک کٹھ پتلی حکومت کا سربراہ بنانا چاہتی تھیں، لیکن یہ سازش ناکام ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے، کیونکہ ایرانی عوام کی اکثریت اب بھی اسلامی انقلاب کے حق میں ہے۔ ایران کے خلاف ان کارروائیوں کی طاقت صدرٹرمپ کو وینزولا سے ملی ہے جہاں انھوں نے آدھی رات کو صدر مادرو کو معزول کرکے اپنا قبضہجما لیا تھا۔لیکن ایران وینزولاکے مقابلے میں زیادہ وسیع، محفوظ اور بے حد مشکل علاقائی توازن سے جڑا ہوا ملک ہے۔ وہاں کوئی بھی فوجی کارروائی پورے مغربی ایشیاء میں کشیدگی پیدا کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدرٹرمپ پھونک پھونک کر قدم بڑھا رہے ہیں، لیکن ایران کے گرد امریکی محاصرہ تنگ ہوتا چلا جارہا ہے۔ انھوں نے ایران سے تجارت کرنے والے ملکوں پر 25/فیصد اضافی ٹیرف لگاکراس کی اقتصادی ناکہ بندی شروع کردی ہے۔
 ایران نے واضح طورپر کہا ہے کہ مظاہرین کو جن بیرونی ملکوں کی حمایت حاصل ہے، ان میں اسرائیل اور امریکہ شامل ہیں۔ ایرانی خفیہ محکمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے امریکی اسلحہ اور دھماکہ خیزمواد برآمد کیا گیا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ”ان کے پاس ایسی آڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہیں جن میں بیرونی ملکوں سے دہشت گرد ایجنٹوں کو پولیس اور مظاہرین کو فائرنگ کے احکامات دئیے جارہے ہیں۔“اس دوران گزشتہ منگل کو تہران میں منعقدہ ایک بڑی ریلی میں ایرانی عوام نے موجودہ قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں کی خبریں تصویر کا صرف ایک رخ ہیں۔ایرانی بغاوت میں صدر ٹرمپ کی حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے مظاہرین سے یہاں تک کہاکہ وہ سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیں۔ 
صدر ٹرمپ کے اس بیان سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف ایران میں بغاوت کے شعلوں کو پوری قوت کے ساتھ ہوا دے رہے ہیں بلکہ باغیوں کو رسد بھی پہنچارہے ہیں۔ عالمی قوانین اور بنیادی اخلاقیات کے مطابق کسی ملک اقتداراعلیٰ کے خلاف عوام کو بھڑکانا کھلی جارحیت اور دخل در معقولات کی بدترین مثال ہے، لیکن دنیا اس معاملے میں خاموش ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کو سب کچھ کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ٹرمپ  ایک انٹرویو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک پر اپنی فوج کو حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’’بطور کمانڈر ان چیف انھیں یہ مکمل اختیار حاصل ہے اور انھیں کوئی نہیں روک سکتا۔“انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”کسی ملک پر حملہ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وہ صرف اپنی طے کردہ اخلاقیات اور ذاتی سوچ کی بنیاد پر کرتے ہیں اور انھیں کسی اور کی پروا نہیں۔“ اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ دنیا میں نراج پھیلانا چاہتے ہیں جس کی شروعات انھوں نے وینزولاسے کی ہے اور اب وہ ایران کو بھی اسی انجام سے دوچار کرنے کی سعی ناکام کررہے ہیں، لیکن ایران کے معاملے میں وہ غلط فہمی کا شکارہیں۔ 
 ایران میں صیہونی اور سامراجی طاقتوں کا اصل مقصدوہاں اقتدار  کو تبدیل کرنا ہے تاکہ وہاں بھی عراق، شام اور لیبیا جیسی کٹھ پتلی حکومت قائم کی  جاسکے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ سپرپاور ہونے کے غرور میں وہ اپنا دماغی توازن کھوبیٹھے ہیں۔ انھوں نے لاطینی امریکہ کے ملک وینز والا پر راتوں رات قبضہ کرکے اور وہاں کے صدر کو قیدی بناکر یہ سمجھ لیا ہے کہ اب پوری دنیا ان کی مٹھی میں ہے اوروہ جب اور جہاں چاہیں حکومت کا تختہ پلٹ سکتے ہیں۔انھوں نے خود کو وینزولاکا خودساختہ صدر ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”وہاں کا سارا تیل ہمارا ہے۔“ واضح رہے کہ گزشتہ تین جنوری کو امریکی فوج نے وینزولا پر قبضہ کے بعدصدر مادرو کو گرفتار کرکے امریکہ کی سب سے خطرناک جیل میں قید کردیا تھا۔ اب یہی خواب وہ ایران میں دیکھ رہے ہیں۔ درمیان میں امریکی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت وہاں کی اعلیٰ قیادت مظاہروں سے پریشان ہوکر روس میں پناہ لینے کی تیاری کررہی ہے۔ایرانی قیادت نہ صرف حالات کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے بلکہ وہ ٹرمپ کی دھمکیوں کا بھی منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔خامنہ ای کا کہنا ہے کہ’’جو انجام فرعون، نمرود اور رضا شاہ پہلوی کا ہوا ہے، وہی ٹرمپ کا بھی ہوگا۔“خامنہ ای نے کہا کہ”غرور میں مبتلا ایک شخص خود کو دنیا کے فیصلے کرنے کا اہل سمجھ رہا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ ظلم غرور اور طاقت کے نشے میں مبتلا حکمراں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے۔“
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں ایران کی اعلیٰ قیادت کو اقتدار سے بے دخل کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایران پورے خطہ میں ایسی اکلوتی طاقت ہے جو سامراجی اور صیہونی دونوں طاقتوں کو ایک ساتھ چیلنج کرتی ہے۔اسرائیل کو سب سے بڑا خطرہ ایران کے جوہری پروگرام سے ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر اس نے گزشتہ سال ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ جوابی کارروائی میں ایرانی میزائلوں نے اسرائیل میں زبردست تباہی مچائی تھی۔ امریکہ نے ایران کو جوہری پروگرام کے حوالے سے کئی قسم کی پابندیاں بھی عائد کررکھی ہیں، جن س کی وجہ سے ایران کو خاصا نقصان بھی پہنچ رہا ہے، لیکن وہ امریکہ اور اسرائیل کے آگے جھکنے کو ہرگز تیار نہیں ہے۔ ایران کو سرنگوں کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے کرائے کے ٹٹوؤں سے وہاں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں اسے کوئی بڑی کامیابی ہاتھ نہیں لگی ہے۔ 
سبھی جانتے ہیں کہ ایران ایک نظریاتی مملکت ہے اور وہاں علامہ خمینی کی قیادت میں جو انقلاب  1979میں برپا ہوا تھا،اس کی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک ایران کے موجودہ رجیم کو ایک تاریک معاشرے سے تشبیہ دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد وہاں جو بندشیں نافذ کی گئی ہیں انھیں خود وہاں کے عوام نے قبول کیا ہے۔ کچھ عناصر وہاں آزاد خیالی کے بھی پیروکار ہیں اور وہی سب کچھ چاہتے ہیں جو مغربی معاشرے کی پہچان ہے، لیکن عوام کی غالب اکثریت اسلامی انقلاب کے حق میں ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہاں یہ عرصہ سکون واطمینان سے نہیں گزرتا۔ تاہم پڑوسی ملکوں کو یہ خطرہ ہے کہ ایران اپنے انقلاب کو ایکسپورٹ کرنا چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کو قلع قمع کیا گیاہے۔ غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی کمر توڑنے کا کام اسی خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ شام میں بشارالاسد کے خلاف بغاوت کو ہوا دے کر وہاں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرکے اسے گلے لگالیا گیا ہے، اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے جس کا  مقصد ایران کو بے دست وپا کرنا ہے اور حالیہ مظاہرے اس کا ایک ثبوت ہیں، لیکن ٹرمپ یاد رکھیں کہ ایران وینزولا نہیں ہے اور وہ ایران میں ایک ایسی آگ سے کھیل رہے ہیں، جومغربی ایشاء کو جلاکر خاک کرسکتی ہے۔