پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ علاقہ میں واقع فیض الٰہی مسجد راتوں رات سرخیوں میں آگئی ہے۔ حالانکہ یہ دہلی کی ان سیکڑوں تاریخی مسجدوں میں شامل نہیں ہے، جو تاریخی نوعیت کی حامل ہیں، البتہ اس کا محل ووقوع ایسا ہے کہ یہ بلند مسجد بہت دور سے نظر آتی ہے۔ یہاں تیرہویں صدی کے صوفی بزرگ حضرت ترکمان بیا بانی کی درگاہ ہے اور اس نسبت سے یہاں ایک تاریخی دروازہ ہے جسے’ترکما ن گیٹ‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ترکمان گیٹ اب سے پچاس برس پہلے اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب اس علاقہ میں ایمرجنسی کے دوران ظالمانہ بلڈوزر کارروائی کے دوران کئی مسلم نوجوانوں کی موت ہوگئی تھی۔ لیکن اب یہی ترکمان گیٹ مسجد فیض الٰہی کے آس پاس بلڈوزر کارروائی کے حوالے سے دوبارہ دنیا کی نظر وں میں آگیا ہے۔ گزشتہ چھ جنوری کی آدھی رات کے بعد یہاں میونسپل کارپوریشن نے بھاری پولیس بندوبست کی موجودگی میں جو ظالمانہ انہدامی کارروائی انجام دی ہے، اس پر ڈھیروں سوال اٹھ رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کارروائی کا حکم ایم سی ڈی کو دہلی ہائی کورٹ نے ایک مشتبہ آدمی کی عرضی پر سماعت کے دوران دیا تھا، مگر جس انداز میں مسجد کے ارد گرد نشان زدکی گئی 36 /ہزار اسکوائر فٹ زمین کو خالی کرایا گیا ہے، وہ قطعی طورپر ایک ظالمانہ اور یک طرفہ کارروائی معلوم ہوتی ہے۔ مسجد کے اطراف غریب مسلم گھرانوں کی شادیوں کے لیے بنایا گیا ایک شادی ہال اور ایک فلاحی شفاخانے کو زمیں بوس کردیا گیا ہے اور اب یہاں صرف ملبہ ہے جسے صاف کرنے کے لیے کارپوریشن کے ٹرک دوڑ بھاگ کررہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ سرکاری نظام کو عمارتوں سے زیادہ ملبے کی ضرورت ہے اور اگر یہ ملبہ کسی مسجد، کسی درگاہ یا کسی مدرسے کا ہوتو اس کی اہمیتگودیا میڈیا کے درمیان بہت بڑھ جاتی ہے۔ حالانکہ جس آراضی کو سرکاری زمین قرار دے کر خالی کرایا گیا ہے، وہاں پہلے قبرستان تھا اور یہ باقاعدہ دہلی وقف بورڈ کے ریکارڈ میں درج ہے۔ ممبر پارلیمنٹ بیرسٹراسدالدین اویسی نے یہ جائز سوال اٹھایا ہے کہ”احاطہ واقعی اگر سرکاری ایجنسیوں کا ہے تو اس پر پہلے دعویٰ کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ آخر عدالت میں ایک فرد کی عرضی پر یہ ایجنسیاں کیوں حرکت میں آئیں۔“ انھوں نے اس معاملے وقف بورڈ کی مجرمانہ خاموشی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مسجد فیض الٰہی کے اردگرد جو وقف کی زمین ہے، اس کی فائل ایک سازش کے تحت وقف بورڈ سے غائب کردی گئی ہے۔ دہلی میں اس وقت بی جے پی سرکار ہے اور وقف بورڈ پر بھی اسی کا تسلط ہے۔ یہ جگہ دہلی وقف بورڈ کے1970کے گزٹ میں شامل ہے اور سیریل نمبر 40میں اس کے بارے میں واضح طورپر لکھا ہے کہ”یہ خواجہ فیض الٰہی مسجد ہے، جہاں تقریباً سوسال سے عبادت اور تدفین کا سلسلہ جاری ہے۔“
اب آئیے اس شخص کی طرف جس کی عرضی پر ہائیکورٹ نے مسجد فیض الٰہی کے اردگرد انہدام کا فیصلہ صادر کیا۔ اس شرپسند کانام ہے پریت سروہی ہے، جو ایک بدنام زمانہ ہندوانتہا پسند ہے۔ اسے مسلم مخالف نعرے بازی کے الزام میں دہلی کے جنتر منتر سے گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا تھا، مگر اب یہ اچانک گودی میڈیا کا ہیرو بن گیا ہے۔ خود کوسماجی کارکن بتانے والے اس شرپسند نے خود ایک ویڈیو جاری کرکے کہا ہے کہ وہ اب تک وقف کی تقریباً 2500 جائدادوں کے خلاف مختلف عدالتوں میں عرضیاں دائر کر چکا ہے اور مزید عرضیاں داخل کی جارہی ہیں۔ پریت سروہی کو سرکاری نظام کی جو اندھی حمایت حاصل ہے اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ دہلی میں مسلم تاریخ اور تہذیب کو مٹانے کی ایک منظم سازش کا رچی گئی ہے جس کے پس پردہ سنگھ پریوار ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت پورے ملک میں مسجدوں، مزاروں اور مدرسوں کے خلاف سازش چل رہی ہے۔ دہلی کے علاوہ یوپی اور اتراکھنڈ کے سیکڑوں مذہبی مقامات پر بلڈوزر چل چکے ہیں۔
اب آئیے گزشتہ پیر6/جنوری کے سانحہ کی طرف جس میں مسجد فیض الٰہی کے اردگرد سردترین رات میں درجنوں بلڈوزرں نے انہدامی کارروائی انجام دی ہے۔جس وقت اس کارروائی کا آغاز کیا گیا تو موقع پر دہلی پولیس،نیم فوجی دستوں اور فسادشکن فورس کے پانچ ہزار جوان تعینات تھا۔ ان کی تیاریوں کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ وہ کوئی قلعہ فتح کرنے آئے ہوں۔المیہ یہ ہے کہ اس کارروائی کے دوران معمولی پتھراؤ کے واقعہ کو اتنا بڑا بنادیا گیا ہے کہ اس کی سازشوں کے تار کہاں کہاں نہیں تلاش کئے جارہے ہیں۔ جبکہ محض پانچ پولیس والے بہت معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ پتھربازی کے الزام میں ایک درجن سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا جاچکاہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔سبھی جانتے ہیں کہ ترکمان گیٹ شہر کے حساس علاقوں میں شامل ہے اور یہاں ایسی کسی کارروائی سے نظم ونسق کا مسئلہ پیدا ہونا بعید نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس کارروائی کو انجام دینے سے قبل پورا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا تھا۔پھر بھی کچھ لوگ احتجاج کرنے موقع پر پہنچ ہی گئے جنھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس چھوڑی۔
گزشتہ سال نومبر میں پریت سروہی نے ’سیو انڈیا فاؤنڈیشن ٹرسٹ‘ نام کی ایک تنظیم کی طرف سے یہاں کے تجاوزات ہٹانے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ بعد کو اس سلسلہ میں عدالت کے حکم پر ایک سروے رپورٹ پیش کی گئی جس نے فیض الٰہی مسجد کے اردگرد36 /ہزار اسکوائر فٹ سے زیادہ ناجائز قبضوں کا سراغ لگایا۔اس میں ایک بارات گھر اور پرائیویٹ کلینک کی نشاندہی کی گئی۔ جبکہ مسجد کی منیجنگ کمیٹی نے عدالت میں کہا ہے کہ یہاں کوئی بارات گھر اور پرائیویٹ کلینک نہیں ہے، جوکچھ ہے وہ غریبوں کی خدمت اور مفت علاج کے لیے ہے۔ مگر مسجد انتظامیہ کمیٹی کی ایک نہیں سنی گئی۔ مسلمانوں کا احتجاج اور عدالت میں مسجد کمیٹی کی اپیل سب بے کار گئے۔
مسجد درگاہ فیض الٰہی کی تعمیر اب سے ایک صدی قبل کی گئی تھی۔ اسی کے سامنے دہلی کا حج ہاؤس واقع ہے۔ حج سیزن میں جن عازمین کو حج ہاؤس میں قیام کی جگہ نہیں ملتی وہ اس مسجد سے متصل جگہ پر قیام کرتے ہیں اور ہرسال یہاں دہلی حج کمیٹی کی طرف سے ایک بڑا پنڈال بنایا جاتا ہے۔ یہ مسجد کئی برس پہلے اس وقت سرخیوں میں آئی تھی جب تبلیغی جماعت میں انتشار کے بعد یہاں شوریٰ کا مرکز قائم کیا گیا تھا، میونسپل کارپوریشن کے بلڈوزروں نے ان کمروں کو بھی منہدم کردیا ہے جہاں جماعتیں قیام کرتی تھیں۔
المیہ یہ بھی ہے کہ6/جنوری کی آدھی رات کو جب پولیس نے ترکمان گیٹ کی مسلم بستیوں کو محصور کرلیا تھا اور ان کی ناکہ بندی کرکے مسجد کی زمین پر بلڈوزر چلائے جارہے تھے تو وہاں کوئی ’مسلم قائد‘ موجود نہیں تھا۔حالانکہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں قومی اور عالمی سطح کے کئی مسلم قائدین کا قیام ہے۔ہم پولیس پر پتھراؤ کرنے کے حامی نہیں ہیں، کیونکہ ایسا کرنا خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب مسجد منتظمہ کمیٹی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی تو پولیس نے عدالت کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں کیا اور رات کی تاریکی میں سب کچھ کیوں مسمار کرڈالا۔کیا پوری دہلی میں ایم سی ڈی کی زمین پر ناجائز تعمیرات کا یہی اکلوتا معاملہ ہے؟دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کے لیے22/اپریل کی تاریخ مقرر کی تھی۔مسجد کی منیجنگ کمیٹی نے اپنا موقف پیش کرنے کے لیے کچھ وقت طلب کرتے ہوئے انہدامی کارروائی پر روک کا مطالبہ کیا تھا مگر عدالت نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ کمیٹی نے کہا تھا کہ اسے مسجد کے اردگرد ناجائز قبضے کو ہٹانے پر اعتراض نہیں ہے لیکن وہ مسجد سے متصل درگاہ اورقبرستان کا تحفظ چاہتی ہے۔سوال یہ ہے کہ ناجائز تعمیرات کہاں نہیں ہیں؟ خود مسجد فیض الٰہی سے چند قدم کے فاصلے پر یہاں ہنومان مندر اور گؤ شالہ موجودہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ محمود الٰہی مسجد کو منہدم کرکے بنائی گئی ہیں۔یہاں تجاوزات کی ایک طویل فہرست ہے۔ مسلمانوں کا خیال یہ ہے کہ سرکاری مشنری اور پولیس وہاں پہلی فرصت میں بلڈوزر لے کر پہنچ جاتی ہے جہاں کسی مسجد یا درگاہ کا معاملہ ہوتا ہے جبکہ اس قسم کی کارروائی دیگر عبادت گاہوں سے ناجائز تجاوزات ہٹانے کے لیے نہیں کی جاتی۔ حالیہ دنوں میں ملک کے کئی حصوں میں مسجدوں اور درگاہوں سے متصل اراضیوں پر بے دریغ بلڈوزر چلے ہیں اور کئی مزاروں کو مسمار کردیا گیا ہے۔ پوری سرکاری مشنری ایک ہی آنکھ کا استعمال کررہی ہے اور وہ ہے تعصب کی آنکھ، جبکہ انصاف کی آنکھ کا پردہ بالکل بند کردیا گیا ہے۔