جیسے جیسے آسام اسمبلی کے انتخابات قریب آرہے ہیں، ویسے ویسے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے۔ وہ اس بوکھلاہٹ میں ایک سے بڑھ کر ایک مسلم دشمن بیان دے رہے ہیں تاکہ آسام میں زیادہ سے زیادہ نفرت پھیلے اور وہ اس کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ اقتدار میں آجائیں۔وہ اس بوکھلاہٹ میں یہ بھی بھول گئے ہیں کہ وہ ایک آئینی عہدے پر بیٹھے ہوئے ہیں اورانھوں نے اپنی ریاست کے ہر شخص کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ اسلاموفوبیا کے شکار وزیراعلیٰ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ”مسلمانوں کے لیے پریشانی کا باعث بننا میری ذمہ داری ہے۔“انھوں نے ایس آئی آر کے دوران چارپانچ لاکھ مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹوں سے ہٹائے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ لوگ اب بنگلہ دیش میں ووٹ ڈالیں گے۔“ انھوں نے آسام کے عوام سے اپیل کی کہ”وہ مسلمانوں کو اس قدر ستائیں یہاں کہ وہ ریاست چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں۔“ یہ باتیں وزیراعلیٰ نے تن سکھیا کے ایک پروگرام میں کہی ہیں۔ وزیراعلیٰ کی اس مسلم دشمن تقریر کے خلاف سابق آئی اے ایس آفیسر اور انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر نے دہلی کے حوض خاص تھانے میں ایک ایف آئی آر درج کرائی ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ”وزیراعلیٰ سرما آسام کے بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف تعصب، نفرت اور ہراسانی کے مرتکب ہیں، لہٰذا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔“اس معاملے میں اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سبھی جانتے ہیں کہ آسام ملک کی واحد ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی 35سے 40/فیصد کے درمیان ہے۔ جب سے وہا ں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے اور صوبے کی کمان ہیمنت بسوا سرما نے سنبھالی ہے تب سے یہاں مسلمانوں کے خلاف زبردست محاذ آرائی ہورہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہیمنت بسوا سرما کو آسام کی کمان اسی لیے سونپی گئی ہے کہ وہ یہاں کے مسلمانوں کا قلع قمع کردیں۔شاید ہی کوئی دن جاتا ہو جب وہ مسلمانوں کی مخالفت اور عداوت میں بیان نہ دیتے ہوں۔یوں لگتا ہے کہ ذہنی طورپر بیمار ایک وزیراعلیٰ کے لیے مسلم دشمنی آکسیجن کا کام کررہی ہے۔ حالانکہ وزیراعلیٰ کے طورپر حلف اٹھاتے ہوئے انھوں نے یہ کہہ کر دستور کی قسم کھائی ہے کہ وہ اپنی ریاست کے سبھی باشندوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں گے اور کسی بھی باشندے کے ساتھ اس کے مذہب یاذات پات کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں برتیں گے، لیکن ان کا عمل اس حلف کے قطعی بر خلاف ہے اور وہ کھلے عام آسام کے مسلمانوں سے ان کے دستوری حقوق چھننے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔آسام میں جلدہی اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں اور وزیراعلیٰ کی کوشش یہ ہے کہ وہ اپنی ریاست میں مسلم ووٹ کو ناکارہ بنادیں تاکہ اپوزیشن کا کوئی امیدوار کامیاب ہی نہ ہو۔ گزشتہ پانچ سال میں سرما کی قیادت میں یہاں مسلمانوں کے خلاف تین بڑی مہمات چلی ہیں۔ مسلمانوں کو بے گھر کرنا، اسمبلی سیٹیوں کی نئی حدبندی اور ووٹر لسٹوں پر نظر ثانی کی مہم۔ان تینوں ہی کا نشانہ مسلمان ہیں۔ جہاں جہاں بی جے پی گزشتہ الیکشن میں ناکام ہوئی تھی وہاں بڑی تعداد میں مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جارہا ہے۔ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کئے جارہے ہیں۔
وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’’آسام میں ایس آئی آر کے دوران چار سے پانچ لاکھ’میاؤں‘ کے نام ووٹرلسٹوں سے خارج ہوں گے اور اس کا سب سے زیادہ اثر بنگالی بولنے والوں مسلمانوں پر پڑے گا۔وہی اس کا نقصان اٹھائیں گے۔‘‘واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سرما آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ’میاں‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ انھیں وہ بنگلہ دیشی قرار دے کر سرحد پار دھکیلنے کے خواہاں ہیں۔ حالانکہ بنگلہ بولنے والے یہ مسلمان آسام کے باشندے ہیں اور ان کے پاس ہندوستانی شہریت کے تمام ثبوت موجود ہیں، لیکن مختلف حیلوں بہانوں سے ان کی شہریت کو مشکوک بنانے اور انھیں ہراساں کرنے کی سرکاری کوششیں عروج پر ہیں۔ آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر آسام میں مسلم ووٹوں کا تیاپانچہ کرنے کے لیے جو نئی حدبندی کی گئی ہے، اس کے تحت مسلم آبادی کے غلبے والی 44سیٹیں گھٹ کر اب 22رہ گئی ہیں، یعنی2026کے اسمبلی انتخابات میں مسلم ممبران اسمبلی کی تعداد گھٹ کر آدھی رہ جائے گی۔
ہندی روزنامہ ’دینک بھاسکر‘ نے حال ہی میں اپنے صفحہ اوّل پر ایک چونکانے والی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر آسام میں اسمبلی سیٹیوں کی نئی حدبندی کا منفی اثر وہاں کے مسلمانوں اور آدی واسیوں پر پڑا ہے۔آسام کے سینئر صحافی آشیش گپتا کا کہنا ہے کہ2026کے اسمبلی انتخابات میں آسام کی 60/فیصد آبادی بے اثر نظر آئے گی کیونکہ تینوں سرکاری مہمات نے ان کا سیاسی اثر کم کردیا ہے۔ ریاست کی 126سیٹیوں میں سے 84 سیٹیں سکڑ گئی ہیں۔ ان اسمبلی نشستوں میں 90سے 95فیصد مسلمان اور آدی واسی ووٹر ہیں۔
اگر آپ غور سے دیکھیں تو یہ پوری مہم آسام کے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ پہلے آسام کے بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کو بے گھر اور بے در کرنے کے لیے بلڈوزر وں کا سہارا لیا گیا اور اب ووٹر لسٹوں سے ان کے نام بے خوف ہوکر کاٹے جارہے ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ ایس آئی آر کی مہم مسلمانوں کو نظر میں رکھ کر شروع کی گئی ہے اور اس کا مقصد مسلم ووٹ کو بے اثر کرنا ہے۔ حکمراں بی جے پی کا خیال ہے کہ جب مسلمان انھیں ووٹ ہی نہیں دیتے تو کیوں نہ ان سے ووٹ کی طاقت ہی چھین لی جائے۔
آسام میں ایس آئی آر کی مہم کن خطوط پر آگے بڑھ رہی ہے اس کا اندازہ ریحانہ بیگم کے واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ریحانہ برکھتری حلقہ کے ان 17699/ ووٹروں میں سے ایک ہیں جنھیں الیکشن آفیسر کے سامنے اپنی شہریت ثابت کرنا ہے۔ ریحانہ نے جن دستاویزوں پر جون 2025میں ضلع پنچایت کا چناؤ لڑا تھا، اب اسے ہی غلط بتایا جارہا ہے۔ ریحانہ کے شوہر جلال الدین کا الزام ہے کہ الیکشن آفیسر کے پاس ہمارا فارم نمبر 7 پہلے سی بھرا ہوا رکھا ہے، جو کہ ووٹر کانام حذف کرنے والا فارم ہے۔ چینگا سیٹ کے روماری گاؤں کے ووٹر ذاکر حسین کہتے ہیں ’’پچھلی مرتبہ بارکھتری سے بی جے پی چارہزار ووٹوں سے ہاری تھی جنھیں نوٹس ملے ہیں وہ سب مسلمان ہیں، سبھی کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہوگئے تو کون جیتے گا؟“گوال پارہ ایسٹ سیٹ پر بے دخلی مہم اور ایس آئی آر دونوں کا اثر دکھائی دیا۔ مقامی باشندے عبدالعزیز نے بتایا کہ جو سرکاری زمینوں پر قبضہ کے نام پر انھیں ہٹانے کے لیے آسام میں 2022 سے بے دخلی مہم چل رہی ہے، جس سے سب سے زیادہ بنگالی مسلمان متاثر ہوئے ہیں۔ اب شہریت کی تصدیق کرانے کے بعد ہی بے دخل لوگوں کو ووٹ کا حق دینے کی بات کہی جارہی ہے۔ حالانکہ گوال پارہ ایسٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر صرف انتخابی عمل ہے، جو کسی کوووٹ سے بے دخل نہیں کرتا۔ مگر وزیراعلیٰ پوری بے شرمی کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ نوٹس صرف مسلمانوں کو جاری کئے جارہے ہیں اور ان کا مقصد انھیں ہراساں اور پریشان کرنا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ2021کے چناؤ کے بعد مسلم اکثریتی44میں سے39 سیٹوں پر کانگریس اوریوڈی ایف نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ایک سیٹ سی پی ایم نے جیتی تھی باقی پر این ڈی جیتا تھا۔ پوری ریاست میں مجموعی طورپر32 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے جن میں 15کانگریس اور 15/ یو ڈی ایف کے تھے جبکہ دو کامیاب مسلم امیدوار بی جے پی کی حلیف آسام گن پریشد کے تھے۔ نئی حدبندی اور ایس آئی آر کے بعد کتنے مسلمان کامیاب ہوپائیں گے، یہ کہنا مشکل ہے۔وزیراعلیٰ کی پہلی اور آخری خواہش یہی ہے کہ وہ آسام میں مسلم ووٹوں کو قطعی طورپر ناکارہ بنادیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ’’میاں کو پریشان کرتے رہیں گے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ ان کے سرپہ چڑھ کرناچنے لگیں گے۔‘‘وہ کہتے ہیں کہ ”میاں ہماری تہذیب اور ثقافت کو برباد کررہے ہیں، اس لیے ہم انھیں ہراساں کرنا جاری رکھیں گے۔“انھوں نے ایس آئی آر کے دوران صرف مسلمانوں کو نوٹس جاری کرنے کا بھی دفاع کیا۔وزیراعلیٰ سرما کے ان بیانات سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ وہ قدم قدم پر حکمرانی کے اصولوں کو پامال کررہے ہیں اور ببانگ دہل اپنی مسلم دشمنی کا اعلان کرتے پھر رہے ہیں، لیکن ملک میں قانون اور دستور کی حکمرانی کے باوجود کوئی ان سے بازپرس کرنے والا نہیں ہے۔ آسام کے مسلمان اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے نازک دور سے گزررہے ہیں۔ان کی شناخت اور شہریت دونوں پر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں۔