افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی نے باقاعدہ مسلح تصادم کی صورت اختیار کر لی ہے اور سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان شدید گولہ باری اور فوجی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی اور سرحدی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے علاقے کی سالمیت اور امن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور سرحد پر موجود فورسز کو مکمل اختیار حاصل ہے۔
افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے پاکستان کی انیس فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے اور متعدد سرحدی علاقوں میں حکمت عملی کے اعتبار سے برتری حاصل کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں پاکستان کی جانب سے کی گئی مبینہ پیش قدمی کے جواب میں کی گئیں۔ افغان ذرائع کے مطابق اس تصادم میں اب تک پچپن پاکستانی فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ بعض اہلکاروں کو حراست میں لینے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
دارالحکومت کابل میں جیٹ طیاروں کی پروازوں کی آوازیں سنی گئیں اور مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں فضا کشیدہ ہے اور سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
ادھر پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے کابل اور قندھار سمیت مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں افغان سرزمین پر موجود عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ان حملوں میں ہونے والے نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
افغانستان نے جوابی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے پاکستانی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔ افغان سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک پاکستانی طیارہ اس وقت مار گرایا گیا جب وہ افغان فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ دونوں ممالک کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے اور خطے کی صورت حال بدستور نہایت کشیدہ بنی ہوئی ہے۔