Jadid Khabar

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

Thumb

 راجدھانی دہلی سے متصل اترپردیش کا شہر غازی آباد آج کل سرخیوں میں ہے۔ایک طرف جہاں غازی آباد کی پولیس نے ایک ایسا آلہ ایجاد کرڈالا ہے جسے کسی کے جسم پر لگاکر اس کے بنگلہ دیشی ہونے کا پتہ چل جائے گا تو وہیں اس شہر میں ہندو رکشا دل نامی ایک ہندو انتہا پسند تنظیم ہندوو¿ں میں خطرناک ہتھیار تقسیم کرکے یہ کہہ رہی ہے کہ اگر یہاں بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا ہوں تو ہندو اپنی حفاظت کے لیے ان ہتھیاروں کا استعمال کریں۔کیا واقعی بنگلہ دیش سے یہاں کے ہندوو¿ں کو خطرہ لاحق ہے اور ان کو سیکورٹی کی ضرورت پیش آگئی ہے؟ ہم ذیل کے مضمون میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح ایک ایسے ملک میں جہاں ہندوو¿ں کی غالب اکثریت ہے اور ان کی اندھی حمایت میں پورا سرکاری نظام موجود ہے ، وہاں وہ مٹھی بھر’ ’گھس پیٹھیوں ‘ ‘سے اپنے لیے ایسا خطرہ کیوں محسوس کررہے کہ انھیں اپنی حفاظت کے لیے مہلک ہتھیار رکھنے کی ضرورت پیش آگئی ہے۔
غازی آبادپولیس نے ہندو رکشا دل کے جن کارکنوں کو ہندوو¿ں میں خطرنا ک ہتھیار تقسیم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ تلوار، کلہاڑی اور دیگر مہلک ہتھیاروں کی تقسیم کا مقصد ہندوو¿ں کو اپنی حفاظت کے انتظامات کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پرہتھیاروں کی تقسیم کی جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے، اس میں یہ نوجوان یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ ”بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا ہونے کی صورت میں یہ ہتھیار اپنی حفاظت کے کام آئیں گے ۔“ان کا واضح اشارہ مسلمانوں سے درپیش خطرے کی طرف تھا۔پولیس نے ہندورکشا دل کے شالیمار گارڈن میں واقع دفتر سے کئی تلواریں برآمد بھی کی ہیںاور وہ ہندورکشا دل کے سربراہ پنکی چودھری کو تلاش کررہی ہے جو موقع سے فرار ہوگیا ہے۔پنکی چودھری اس سے پہلے بھی مسلم مخالف پروپیگنڈے اور نفرت پھیلانے کے معاملے میں گرفتار ہوچکا ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ہندوبرادران وطن میں مہلک ہتھیار تقسیم کئے گئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں اور اس معاملے پولیس نے جو کارروائی کی ہے ، اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں ۔ چونکہ اشتعال پھیلانے والے ہندوگروپوں کے ساتھ پولیس کا رویہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ اس قسم کی معمولی سرگرمی میں ملوث ہونے والے مسلمانوں کے ساتھ ہوتاہے۔یہ انتہا پسند گروپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پولیس ان کے خلاف محض محدود کارروائی انجام دے سکتی ہے اور ان کا کچھ بگاڑنہیں سکتی ۔ وہ تمام غیرقانونی اور اقلیت دشمن کارروائیاں کرنے کے باوجود آزاد گھوم سکتے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت اسی غازی آباد شہر کے قصبے ڈاسنہ کا سادھویتی نرسنگھا نند ہے جو مسلمانوں کے خلاف آخری درجہ کی اشتعال انگیزی اورمنافرت پھیلانے کے باوجود نہ صرف آزاد ہے بلکہ اسے ہر قسم کی اشتعال انگیزی کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔ تازہ ثبوت وہ بیان ہے جو یتی نرسنگھا نندنے غازی آباد میں ہتھیاروں کی تقسیم کے بعد دیا ہے۔ ہندورکشا دل کی طرف سے ہندوو¿ں میں تلواروں کی تقسیم کی حمایت کرتے ہوئے اس نے کہا ہے کہ’ ’اس سے زیادہ مہلک ہتھیار تقسیم کئے جائیں ۔“ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ” اب ہندوو¿ں کو داعش جیسے خودکش دستے بنانے چاہئیں ۔“اس بیان کہ بعد غازی آبادپولیس نے ابھی تک یتی نرسنگھا نند سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی ہے۔
ہندورکشا دل کی طرف سے کھلے عام مہلک ہتھیاروں کی تقسیم اور یتی نرسنگھا کی طرف سے ہندوو¿ں کو خودکش دستے بنانے کی تلقین یقینی طورپر ا س ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی کو کھلا چیلنج ہے۔سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں دستور اور قانون کی حکمرانی ہے اور اس کے نفاذ کے لیے پولیس اور عدالتیں موجود ہیں ، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں ہندو انتہا پسند عناصر کوقانون اور آئین کی کوئی پروا نہیں ہے اور وہ یہاں اپنا مساوی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہندوراشٹر کے وہ پیروکار ہیں جو اس ملک میں ایک مذہب ، ایک زبان اور ایک کلچر کی مطلق حکمرانی کے طلب گار ہیں۔ 
گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں رونما ہونے والے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے گرد دائرہ مسلسل تنگ ہوتا چلا جارہا ہے اور انھیں دیوار سے لگانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ اس میں دورائے نہیں کہ اگر ملک کے کسی باشندے کو کسی سے اپنے جان ومال کے لیے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے تو اس کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے رجوع ہو۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کوئی خوفزدہ فرد یا گروہ خود اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار جمع کرکے انھیں عوام الناس میں تقسیم کرنے لگے۔اگر ایسا ہوا تو ملک کے اندر نراج کی حالت پیدا ہوجائے گی اور خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں کے ہرشہری کے اندر تحفظ کا احساس پیدا کرے۔اس وقت ملک میں جس پارٹی کی حکمرانی ہے ، وہ ہندومفادات کی سب سے بڑی علمبردار ہے۔ ملک کی آبادی کی اکثریت بھی ہندوو¿ں پر مشتمل ہے۔ سرکاری مشنری بھی ان کی ہمنوا ہے ، اس کے باوجود اگر ہندو ہی اس ملک میں خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں تو معاملہ کچھ اور ہے ۔
ہندوو¿ں کے انتہا پسند گروپوں میں بے چینی اور اشتعال کا فوری سبب بنگلہ دیش کے حالات ہیں ، جہاں یکے بعد دیگرے تین ہندونوجوانوں کے قتل نے ہندوستان میں ان عناصر کو چراغ پا کردیا ہے جو خود کو ہندوو¿ں کا محافظ تصور کرتے ہیںاور ان کی حیثیت خدائی فوجدار جیسی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بنگلہ دیش کے حالات تشویش ناک ہیں اور وہاں کی ہندو اقلیت پر ہونے والے حملے قابل مذمت ہیں۔درحقیقت جو لوگ اسلام کے نام پر کسی بے گناہ کا خون بہاتے ہیں وہ اسلام کے سچے پیروکار تو کبھی نہیں ہوسکتے ۔ اسلام کے نزدیک کسی ایک بے گناہ فرد کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ اس لیے ہم ایسے تمام واقعات کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور خاطیوں کو سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہیں ، لیکن بنگلہ دیش کے واقعات کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کو قصوروار ٹھہراکر ان سے انتقام لینے کی باتیں کرنا خود اپنے ملک کو تباہی کے راستے پر لے جانا ہے۔ 
بلاشبہ ہر مذہب میں اپنی حفاظت آپ کرنے کا اصول نافذ ہے ۔ یعنی اگر کوئی آپ پر حملہ آور ہو تو آپ اپنے دفاع میں اقدام کرسکتے ہیں ، لیکن کسی اشتعال اور حملے کے بغیر لوگوں میں خوف وہراس پیدا کرنے اور انھیں ڈرانے کے لیے ہتھیار تقسیم کرنا قابل سزا جرم ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس ملک میں دستور اور قانون کی حکمرانی ہیں ۔ آپ کو کسی سے کوئی خطرہ محسوس ہوتوآپ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں سے رجوع ہوکر اپنے تحفظ کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ پولیس آپ کو تحفظ فراہم کرنے کی پابند ہے، لیکن ایسا تو ہرگز نہیں ہے کہ آپ کسی فرضی خطرے کو اپنے اوپر سوار کرکے ہتھیار تقسیم کرنا شروع کردیں۔ جہاں تک ہمارے ملک میں بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا ہونے کی بات ہے تو اس سے بڑا کوئی مفروضہ نہیں ہوسکتا۔ بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت میں ہیں اور ہندوستان میں ہندوو¿ں کی غالب اکثریت ہے اور ایسی اکثریت ہے کہ ہماری موجودہ حکومت سب کچھ ان ہی کے لیے کررہی ہے۔اس کا ہر عمل اور قول ہندوو¿ں کی حفاظت کے لیے ہے۔یہاں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کی جو حالت زار ہے اسے پوری طرح لفظوں کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔
جب بھی بنگلہ دیش یا کسی اور پڑوسی ملک میں ہندوو¿ں کے ساتھ کوئی واردات ہوتی ہے تو انتہا پسند ہندو تنظیمیں اس کے خلاف آسمان سرپر اٹھا لیتی ہیں اور اس کا انتقام ہندوستانی مسلمانوں سے لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔حالانکہ مسلم تنظیمیں اور قائدین پہلے ہی مرحلے میں اس کی پرزورمذمت کرتے ہیں ، لیکن اس پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بجرنگ دل اور ہندو رکشا دل جیسی انتہا پسند اور اقلیت دشمن تنظیموں نے ملک میں اپنی مساوی حکومت قائم کرلی ہے اور وہ ملک کو اندھے کنویں میں دھکیلنے کے لیے ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگا رہی ہیں۔ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت ان کے خلاف ایکشن نہیں لیا تو صورتحال بے قابو ہوسکتی ہے۔اگرملک میں اپنی حفاظت کے لیے دوسرے لوگ بھی اسی طرح ہتھیار تقسیم کرنے لگیں تو ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جو کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہے۔