ایران اس وقت مشکل حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شدید جنگ چل رہی ہے، دوسری طرف آج آئے زلزلہ نے لوگوں کو دہشت و تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کشیدگی والے حالات میں منگل کو ایران کے جنوبی حصہ میں زلزلہ کے تیز جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ زلزلہ جنوبی ایران کے گیراش شہر کے پاس آیا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 درج کی گئی ہے۔ زلزلہ کا مرکز زمین سے تقریباً 10 کلومیٹر نیچے تھا۔ افسران کے مطابق ابھی تک کسی بڑے نقصان یا ہلاکت کی کوئی خبر نہیں ہے۔ حالانکہ جنگ کے درمیان آئے اس زلزلہ نے لوگوں میں دہشت پیدا کر دی ہے۔
اس درمیان امریکہ و اسرائیل کو ایران کی طرف سے منھ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔ کئی ممالک میں امریکی ٹھکانوں پر میزائلیں داغی گئی ہیں۔ ایران نے اسرائیل اور پڑوسی خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے لیے اہم تیل و گیس سپلائی مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں سے پورے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے اور ایک طویل جنگ کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ ہوائی سفر بھی بری طرح متاثر ہے۔ کئی زائرین خلیجی ممالک میں پھنس گئے ہیں اور وطن واپسی نہ ہونے سے پریشان ہیں۔
کئی ممالک نے امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں کی تنقید کی ہے۔ حالانکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے حملہ کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نئی جوہری سہولیات تیار کر رہا تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جوہری اسلحے بننے کے بعد ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام پر حملہ کرنا ناممکن ہو جاتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دعووں کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔