Jadid Khabar

یوگی کابینہ میں ممکنہ توسیع میں تاخیر کا امکان

Thumb

لکھنؤ:10مارچ(یواین آئی) اترپردیش میں یوگی حکومت کی ممکنہ کابینہ توسیع فی الحال مؤخر ہونے کا امکان ہے۔ 

لکھنؤ سے موصول اطلاعات کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال فوری طور پر کابینہ میں توسیع کے حق میں نظر نہیں آتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی حکومت ریاست میں کابینہ کی توسیع کا فیصلہ ممکنہ طور پر پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد ہی کرے گی، جن میں مغربی بنگال، آسام اور تمل ناڈو شامل ہیں۔  

بتایا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے بہار میں نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کا عمل بھی مکمل ہونا ہے۔ اس کے بعد ہی اتر پردیش میں یوگی ٹیم میں کسی تبدیلی یا توسیع پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی قیادت اور تنظیمی ڈھانچہ مختلف انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے کابینہ کی توسیع کچھ وقت کے لیے مؤخر ہو سکتی ہے۔  

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل یوگی حکومت نے 26 ستمبر 2021 کو، یعنی 2022 کے اسمبلی انتخابات سے تقریباً چھ ماہ پہلے، اپنی کابینہ میں توسیع کی تھی۔ اس موقع پر سات وزراء نے حلف لیا تھا۔ ان میں جتن پرساد کو کابینی وزیر بنایا گیا تھا جبکہ پلتو رام، سنجے کمار گونڈ، سنگیتا بلونت بند، دھرم ویر پرجاپتی، دنیش کھٹک اور چھترپال سنگھ گنگوار کومملکتی وزیر مقرر کیا گیا تھا۔  

یوگی حکومت کی دوسری مدت میں اس وقت وزیر اعلیٰ سمیت کل 53 وزراء حلف لے چکے ہیں۔ ان میں سے جتن پرساد اب مرکزی حکومت میں وزیر بن چکے ہیں جبکہ وزیر مملکت انوپ پردھان والمیکی لوک سبھا کے رکن منتخب ہو چکے ہیں، جس کے باعث کابینہ میں دو نشستیں خالی ہو گئی ہیں۔  ریاست میں ارکان اسمبلی کی تعداد کے مطابق زیادہ سے زیادہ 60 وزراء مقرر کیے جا سکتے ہیں، اس لحاظ سے اس وقت کابینہ میں نو نشستیں خالی ہیں۔

 سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت آئندہ انتخابی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان عہدوں کو پر کرنے کا فیصلہ کرے گی۔  پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق کابینہ میں توسیع کا امکان غالباً مغربی بنگال کے انتخابات کے بعد ہی پیدا ہوگا کیونکہ فی الحال مرکزی قیادت کا شیڈول بہت مصروف ہے۔ 

تاہم پارٹی کے کارکنان اور عہدیداران کافی عرصے سے کابینہ میں توسیع کا انتظار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے خاصی دلچسپی بھی پائی جا رہی ہے۔
یواین آئی۔ولی۔ایف اے