Jadid Khabar

مالویہ نگر سانحہ: ایک ہی خاندان کے 8 لوگوں کی موت

Thumb

کبھی کبھی ایک حادثہ صرف جانیں نہیں لیتا وہ پورے خاندن کی کہانیاں بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ دہلی کے مالویہ نگر واقع ہوٹل میں لگی ہولناک آگ نے ایسا ہی ایک دردناک باب لکھ دیا ہے۔ ایک ایسا خاندان جو اپنے بیمار والد کی عیادت اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے گروگرام سے دہلی آیا تھا، اب تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

گروگرام کے رہنے والے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ وویک اگروال اپنے والد کو دیکھنے دہلی پہنچے تھے۔ ان کے والد پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن میں مبتلا ہیں اور میکس اسپتال میں داخل ہیں۔ خاندان کو امید تھی کہ بیماری سے لڑ رہے والد کو اپنوں کا ساتھ ملے گا، ان کی ہمت بڑھے اور شاید صحت میں بھی بہتری ہوگی۔ لیکن قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ جس خاندان نے اسپتال کے کمرے میں اپنے بزرگ والد کا ہاتھ تھامنے کا منصوبہ بنایا تھا، وہ کچھ گھنٹوں بعد آگ کی لپٹوں اور دھوئیں کے درمیان زندگی کی سب سے خوفناک لڑائی لڑ رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق وویک اگروال اپنی اہلیہ، 2 بیٹیوں اور بزرگ ماں کے ساتھ دہلی آئے تھے۔ اسپتال کے نزدیک رہنے کی سہولت کے لیے خاندان نے مالویہ نگر کے اس ہوٹل میں کمرہ لیا تھا جہاں بعد میں شدید آگ لگ گئی۔ اسی دوران وویک اگروال کے خالو، خالہ اور ایک دیگر رشتہ دار بھی بیمار والد کی عیادت کرنے دہلی پہنچے۔ انہوں نے بھی اسی ہوٹل میں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ وہ فیصلہ ان کی زندگی کی آخری منزل بن جائے گی۔ رات معمول کے مطابق تھی، خاندان اگلے روز اسپتال جانے کی تیاری میں تھا۔ لیکن اچانک ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھی۔ کچھ ہی منٹوں میں پوری عمارت دھوئیں اور آگ کی زد میں آ گئی۔ جو عمارت مسافروں کے لیے ٹھہرنے کی جگہ تھی وہ دیکھتے ہیں دیکھتے موت کا جال بن گئی۔
اس حادثے کی سب سے دردناک تصویر شاید وہ ہے جو میکس اسپتال کے ایک کمرے میں موجود ہے۔ وہاں ایک بزرگ والد زندگی اور موت کے درمیان جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہیں شاید اب بھی اپنے بیٹے، بہو، پوتیوں اور خاندان کے باقی لوگوں کے آنے ک انتظار ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن قدموں کی آہٹ کا انتظار تھا، وہ ہمیشہ کے لیے تھم چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق خاندادن کے زیادہ تر افراد جھلسنے اور دم گھٹنے کے سبب جان گنوا بیٹھے ہیں۔ اس حادثے کے بعد خاندان میں تقریباً کوئی ایسا نہیں بچا جو اس سانحے کی کہانی کو آگے بڑھا سکے۔
گروگرام سیکٹر-46 واقع وویک اگروال کے گھر کے باہر عجیب سا سناٹا ہے۔ جس گھر میں ہنسی گونجتی تھی، جہاں رونق ہوتی تھی وہاں اب صرف سوگ اور سناٹا ہے۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ جب پہلی بار حادثے کی خبر آئی تو کسی کو یقین نہیں ہوا۔ لوگوں نے اسے افواہ سمجھا۔ لیکن جیسے جیسے مہلوکین کی شناخت سامنے آنے لگی پورے علاقے میں ماتم چھا گیا۔ ایک پڑوسی نے بتایا کہ وویک اگروال انتہائی ملنسار اور مددگار انسان تھے۔ خواہ کسی سماجی تقریب کی بات ہو یا ریزیڈنس ویلیئر ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں کی وہ ہمیشہ آگے رہتے تھے۔ ان کی اہلیہ نے بھی خاندان اور بچوں کی تعلیم کے لیے اپنا کاروبار چھوڑ دیا تھا۔ دونوں بیٹیاں پڑھائی میں اچھی تھیں اور خاندان کے خوابوں کا مرکز تھیں۔ لیکن ایک ہی رات میں سب کچھ ختم ہو گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حادثے نے انہیں اندر تک جھنجھوڑ دیا ہے۔ لوگوں کے درمیان سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا یہ سانحہ ٹالا جا سکتا تھا؟ کیا سیکورٹی انتظامات کافی تھے؟ کیا وقت رہتے لوگوں کو باہر نکالا جا سکتا تھا؟ پڑوسیوں کا درد صرف اپنے جاننے والوں کے کھونے کا نہیں ہے، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ ایک خاندان نے ایسی قیمت چکائی ہے جس کا کسی نے تصور نہیں کیا تھا۔
حادثے کے بعد تحقیقاتی ایجنسیاں فعال ہو گئی ہیں۔ پولیس نے ہوٹل مالک لوکیش بجاج کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پوچھ گچھ میں اس نے بتایا کہ 3 سال قبل اس نے یہ عمارت لی تھی اور یہاں ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس چلا رہا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ پہلے اس عمارت میں کھادی کی دکان چلائی جاتی تھی۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اب یہ پتہ لگانے میں مصروف ہیں کہ عمارت میں حفاظتی اصولوں پر عمل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔ آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات موجود تھے یا نہیں اور ہوٹل چلانے سے متعلق تمام اجازت نامے قانونی تھے یا نہیں۔