نئی دہلی، 21 مئی (یو این آئی) ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے جمعرات کو مرکز کی حکومت کے اس سرکولر کو لے کر حملہ بولا ہے، جس میں مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کے میڈیا سے بات کرنے یا انتظامیہ کی نکتہ چینی کرنے پر روک لگائی گئی ہے۔ انہوں نے اسے 'جمہوریت کا گلا گھونٹنا' قرار دیا ہے۔
مسٹر بنرجی نے اپنے واٹس ایپ چینل پر ایک تیکھی پوسٹ میں کہا کہ یہ ہدایت دکھاتی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت مغربی بنگال میں سرکاری ملازمین کو خاموش کرا کے 'ریموٹ کنٹرول' سے حکومت چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ترنمول لیڈر نے لکھا، "مکمل پابندی۔ یہ جملہ اس سرکولر میں ایک وارننگ کی طرح گونج رہا ہے - حکومت کے تحفظ کے لیے نہیں، بلکہ پورے بنگال میں سرکاری ملازمین پر خاموشی تھوپنے کے لیے۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سرکولر ملازمین کو پریس سے بات کرنے، مضامین لکھنے، میڈیا پروگراموں میں شامل ہونے، مرکز یا ریاستی حکومت کی نکتہ چینی کرنے یا ایسی رائے دینے سے روکتا ہے جس سے 'دہلی کے ساتھ تعلقات خراب' ہو سکتے ہوں۔
ترنمول جنرل سکریٹری نے کہا، "یہ حیران کن سرکولر نظم و ضبط کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ آزادانہ اظہار رائے کو محدود کرنے اور بنیادی حقوق کا منظم طریقے سے گلا گھونٹنے کے بارے میں ہے تاکہ دہلی میں بیٹھے آقاوں کے تئیں مکمل فرماں برداری کو یقینی بنایا جا سکے۔"
ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب وفاقیت، انتظامی اختیارات اور اظہار رائے کی آزادی کو لے کر ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان تنازعہ تیز ہو گیا ہے۔ اس سرکولر نے مغربی بنگال میں ایک سیاسی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں اپوزیشن پارٹیوں اور سول سوسائٹی کے گروپوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ ایک عام طریقہ کار ہے یا آئینی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔