نئی دہلی: سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں دہلی کی تمام عدالتوں میں مقدمات کی سماعت صرف ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش وکیل نے چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملہ اٹھاتے ہوئے جلد سماعت کی اپیل کی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ پہلے ہی ملک کی تمام ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس صاحبان سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کے عمل کو فروغ دینے کی گزارش کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق بیشتر ہائی کورٹیں پہلے سے اس سہولت کا استعمال کر رہی ہیں اور عدالتی کارروائی میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھایا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ویڈیو کانفرنسنگ ایک ایسی سہولت ہے، جسے جج اور وکلا باہمی رضامندی اور ضرورت کے مطابق اختیار کر سکتے ہیں لیکن کسی عدالت کو اس نظام پر لازمی طور پر عمل کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار کے وکیل نے بنچ سے گزارش کی کہ دہلی کی عدالتوں میں کم از کم تین ماہ کے لیے آن لائن سماعت کو لازمی قرار دینے کی ہدایت دی جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ضلع عدالتوں کا انتظامی اختیار متعلقہ ہائی کورٹ کے پاس ہوتا ہے، اس لیے اس طرح کا فیصلہ بھی متعلقہ ہائی کورٹ ہی کر سکتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی بتایا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی ہائی کورٹوں سے ضلع عدالتوں میں ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت کو مزید فروغ دینے کی اپیل کر چکی ہے تاکہ عدالتی نظام کو زیادہ مؤثر اور آسان بنایا جا سکے۔
یہ درخواست کورونا وبا کے دوران شروع کی گئی ویڈیو کانفرنسنگ سہولت کو مستقل شکل دینے کے مطالبے سے بھی جڑی ہوئی مانی جا رہی ہے۔ وبا کے دوران عدالتوں میں آن لائن سماعت کے نظام نے وکلا، مقدمات کے فریقین اور عدالتی عملے کے لیے کئی سہولتیں پیدا کی تھیں۔
ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت سے وقت اور وسائل کی بچت ہوتی ہے، جبکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کے لیے بھی یہ نظام مفید ثابت ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ عدالتی کارروائی کو زیادہ شفاف اور آسان بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال اہم ہے، تاہم اسے زبردستی نافذ کرنے کے بجائے رضاکارانہ طور پر اپنانا زیادہ بہتر راستہ ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے میں فی الحال آئندہ سماعت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ اور ضلع عدالتوں میں پہلے سے بعض معاملات میں ویڈیو کانفرنسنگ کا استعمال ہو رہا ہے لیکن درخواست گزار تمام نوعیت کے مقدمات میں اسے لازمی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔