نئی دہلی، 03 مارچ (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستانی صنعت کاروں کو "معیار" کو اپنا عظیم منتر بنانے کی اپیل کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ دنیا آج کے دور میں پیداوار کے کاموں کے لیے مضبوط شراکت داروں کی تلاش میں ہے اور یہ ہندوستان کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ حال ہی میں کیے گئے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) سے بھی ہندوستان کے صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کے لیے مواقع کے بڑے دروازے کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا فائدہ صرف معیاری مصنوعات پیش کرکے ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔ مسٹر مودی بجٹ 2026-27 پر منعقدہ دوسرے ویبینار کا افتتاح کر رہے تھے۔ دن بھر چلنے والے اس ویبینار کا موضوع ہے: "اقتصادی ترقی کو مسلسل سنبھالنا اور مضبوط کرنا" جس میں چار الگ الگ اجلاس ہوں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی صنعتوں کو ان مواقع کا فائدہ اٹھانے کے لیے بڑے اعتماد کے ساتھ قدم بڑھانے ہوں گے۔ نئی ٹیکنالوجی اپنانی ہوگی، تحقیق پر کنجوسی کرنے کے بجائے سرمایہ کاری بڑھانی ہوگی، معیار بہتر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا، "ہندوستان نے بہت سے ممالک کے ساتھ ایف ٹی اے کیے ہیں۔ ہمارے لیے مواقع کے بڑے دروازے کھلے ہیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم معیار پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔"
انہوں نے کہاکہ "آپ کا ایک ہی عظیم منتر ہونا چاہیے: معیار، معیار اور مزید معیار۔" وزیر اعظم نے ہندوستانی صنعت کاروں سے عالمی معیار سے بھی بہتر معیار پیش کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ "معیار پر سمجھوتہ نہیں، اس پر سب سے زیادہ وقت، وسائل اور عقل صرف کرنی ہوگی۔" انہوں نے صنعت کاروں کو عالمی منڈی کی ضروریات کا مطالعہ اور تجزیہ کرنے اور اس کے مطابق اپنی پیداواری صلاحیت تیار کرنے کا مشورہ دیا۔
مسٹر مودی نے کہاکہ "آج دنیا قابل اعتماد اور پیداوار کے لیے مضبوط شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔ ہندوستان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اس کردار کو مضبوطی سے نبھائے۔"
ویبینار میں چار الگ الگ اجلاس ہوں گے۔ ان اجلاسوں میں پہلا اجلاس پیداوار اور صنعتوں کے معیار کو بلند کرنے اور اسٹریٹجک اہمیت کے شعبوں پر، دوسرا اجلاس چھوٹے، درمیانے اور مائیکرو اداروں کے لیے قرض اور مارکیٹ کی سہولتوں پر، تیسرا اجلاس شہروں کے اقتصادی علاقوں کی منصوبہ بندی پر اور چوتھا اجلاس بنیادی ڈھانچے کی ترقی، لاجسٹکس اور کرایہ جیسے موضوعات پر ہوگا۔
افتتاحی اجلاس میں وزیر اعظم نے بجٹ میں چھوٹے، درمیانے اور مائیکرو اداروں، بنیادی ڈھانچے، بایوفارم، ملٹی موڈل لاجسٹکس اور کاربن کیپچر و اسٹوریج کی ترقی کے لیے کی گئی پہلوں کا خاص ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ "دنیا کی معیشت میں ایک بڑا تغیر جاری ہے۔ منڈیاں اب صرف لاگت نہیں دیکھتیں، وہ صحت مند طریقوں کو بھی دیکھتی ہیں۔"
شری مودی نے ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مرکز، ریاست، صنعت اور اداروں کے درمیان مکمل تال میل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہدف "شراکت داری" سے ہی ممکن ہوگا۔