Jadid Khabar

ایران کے خلاف اہدافی اسٹرائیک کی تیاری، امریکی حملے کے خفیہ بلیو پرنٹس سے مشرق وسطیٰ میں کھلبلی

Thumb

ایران اورامریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھرجنگ کے حالات پیدا ہوتے نظرآرہے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش اندازہ لگایا جارہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس ممکنہ حملے کے حوالے سے بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ دوامریکی افسران نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوج کا منصوبہ اب ایڈوانسڈ اسٹیج میں پہنچ چکا ہے۔ اس منصوبے میں انفرادی طورپرایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا متبادل شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر صدر ڈونالڈ ٹرمپ حکم دیتے ہیں تو تہران میں حکومت بدلنے تک کا منصوبہ تیار ہے۔

’روئٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ فوجی متبادل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو امریکہ ایران کے ساتھ سنگین لڑائی کے لیے تیار ہے۔ گزشتہ ہفتے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ایک ہفتے طویل آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کارروائی میں ایرانی سکیورٹی تنصیبات اور جوہری انفراسٹرکچر پر حملے کے منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔
نئے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے حتمی فیصلے سے قبل وسیع اور تفصیلی تیاریاں کر لی گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے عوامی سطح پر اسلامی جمہوریہ میں حکومت کی تبدیلی کا خیال پیش کیا ہے۔ حالانکہ حکام نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر کرنے سے انکار کیا اور یہ نہیں بتایا کہ کن رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ امریکہ بغیر بڑی زمینی فوج بھیجے کس طرح سے حکومت کی تبدیلی کی کوشش کرے گا۔
خبروں کے مطابق اگرایران میں حکومت تبدیلی کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ٹرمپ کے انتخابی وعدوں سے الگ قدم ہوگا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ سابقہ ​​حکومتوں کی پالیسیوں سے مختلف راستہ اختیار کریں گے۔ انہوں نے خاص طور پر افغانستان اور عراق میں حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے فوجی کارروائیوں کو ناکام بتایا تھا۔ فی الحال ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں بڑی مقدار میں ہتھیاراور فوجی طاقت تعینات کردی ہے۔ زیادہ تر جنگی صلاحیت وارشپ اور جنگی جہازوں میں موجود ہے۔ کسی بڑی بمباری مہم کے لیےامریکی اڈوں سے اڑنے والے بمباروں کا بھی سہارا لیا جاسکتا ہے۔