لکھنؤ 04 فروری(یواین آئ) سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے مجوزہ ٹریڈ ڈیل کو لے کر مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ "ڈیل نہیں، ڈھیل ہے" اور جو بھی سمجھوتہ ملک کی 70 فیصد زرعی بنیاد رکھنے والی آبادی کے مفاد کے خلاف ہوگا، وہ کبھی سود مند ثابت نہیں ہو سکتا۔
بدھ کوسوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ ایوان میں زراعت اور ڈیری کو بچانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ڈیل کی شرائط ابھی طے ہی نہیں ہوئیں اور نہ ہی دستخط ہوئے ہیں تو پہلے سے فائدے کے دعوے کیسے کیے جا سکتے ہیں؟ ہر ٹریڈ ڈیل نفع و نقصان کے ترازو پر تولی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ فائدے میں کون ہے اور نقصان میں کون۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں ان دعووں کا نوٹس لیا جائے گا اور اگر یہ جھوٹے ثابت ہوئے تو کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ سابق وزیر اعلی نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی والے نقصان کا جشن نہ منائیں۔ یہ ڈیل ایک آفت ہے، اس میں کمیشن خوری کے مواقع تلاش نہ کریں۔
اکھلیش یادو نے اس معاہدے کو سپردگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ تک کہہ رہے ہیں ہندوستان سے 500 ارب ڈالر کی رنگداری وصول کی جا رہی ہو۔ انہوں نے حکومت کے حامیوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو اسے سفارتی کامیابی بتا رہے ہیں، وہ بھی جانتے ہیں کہ بین الاقوامی طاقتیں اپنی شرائط پر منافع کا ڈھانچہ تیار کر رہی ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اس سودے کو سنگ میل بتانے والوں کی سمجھ پر سوال اٹھتے ہیں اور جو اسے حکومت کے دباؤ کی جیت بتا رہے ہیں، وہ اندر ہی اندر دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔