Jadid Khabar

پارلیمنٹ جمہوریت کا مندر ہے، بحث سے ڈرنا کیوں: پرینکا گاندھی

Thumb

کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پر پارلیمنٹ میں بولنے سے روکنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ پارلیمنٹ جمہوریت کا مندر ہے، اور ملک کے ہر شہری کا اس پر بھروسہ ہے۔ اس لیے ہمیں اس کے اندر اہم مسائل پر بحث کرنی چاہیے، بحث سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ ہندوستان۔ چین تعطل پر راہل گاندھی کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل منوج نرونے کی کتاب کا حوالہ دیئے جانے پر مچے وبال کے بارے میں پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ راہل گاندھی ایک عوامی ذرائع کے اقتباس کا حوالہ دے رہے ہیں پھر بھی انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ وہیں حکمراں طبقے کے لوگ خود کبھی میگزین تو کبھی کتاب سے پارلیمنٹ میں حوالہ دے رہے ہیں۔

اس سلسلے میں آج کانگریس کے سرکاری ’ایکس‘ ہینڈ ل پرایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل منوج نرونے کی کتاب میں بحران کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور اعلیٰ قیادت کے ردعمل کی تفصیل ہے جب چینی فوج ہماری سرحد پر تھی۔ وہیں دوسری طرف ’ایپسٹین‘  فائل سامنے آ رہی ہیں جس سے مودی حکومت کے تار جُڑرہے ہیں۔ آخر حکومت نے ایک سزا یافتہ جنسی اسمگلر سے رابطہ کیوں کیا تھا؟ اب تو یہ سبھی مستند دستاویزات ہیں۔ اگر ان مسائل پر ایوان میں بحث نہیں ہوگی تو کس پر پر ہوگی؟
وہیں کانگریس کے’ایکس‘ ہینڈل پر پوسٹ کئے گئے ایک ویڈیو میں کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کہتی نظر آرہی ہیں کہ پارلیمنٹ نے ہمیشہ ہی چین، پاکستان اور خارجہ پالیسی سے متعلق اہم معاملات پر بحث ہوتی رہی ہے، یہ ہماری روایت رہی ہے، چاہے وہ اپوزیشن ہو یا حکومت، سب نے کھل کر اپنا موقف پیش کیا ہے، حقیقت میں حکومت کو ڈر ہے کہ ان کی سچائی ملک کے سامنے آ جائے گی، اس لیے وہ کتاب کو شائع کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔
پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ یہ صرف اپوزیشن لیڈر کو بولنے سے روکنے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے کام کرنے کے طریقے کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اگر کوئی اپنا نقطہ نظر پیش کر رہا ہے تو اس میں کیا حرج ہے؟ وہ ڈر رہے ہیں کہ کیا باتیں سامنے آنے والی ہیں۔ کتاب میں ایسا مواد موجود ہے جو بتاتا ہے کہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور ہماری اعلیٰ قیادت نے بحران کے وقت کیا رد عمل ظاہر کیا۔ یہ ان کی حکومت کے کردار کو ظاہر کرتا ہے کہ جب ملک پر حملہ ہورہا ہے اور چینی فوجی ہماری سرحد پر آ رہے ہیں تو وہ کیسا ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔