نئی دہلی، 17 اکتوبر (یو این آئی) کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے کو ہفتے کی شام خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے کچھ شرائط پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
انہیں یہاں کناٹ پلیس میں منعقدہ 'لہرا دو ترنگا' مارچ کی کال کے دوران جمعہ کے روز انسدادی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مارچ سے پہلے حراست میں لیے گئے مسٹر دپکے کے خلاف بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 126/170 کے تحت کارروائی شروع کی گئی تھی۔
مسٹر دپکے کے علاوہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا کو بھی ہفتے کے روزعلی الصبح رہا کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق محترمہ بورا کو دہلی پولیس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت ضابطے کی کارروائی کے بعد رہا کیا گیا۔
اس سے قبل جمعہ کو سی جے پی نے دعویٰ کیا تھا کہ مسٹر دپکے کو کسی نامعلوم مقام پر لے جایا گیا تھا۔ تنظیم کے قومی آرگنائزنگ انچارج اجنکیہ شندے نے جمعہ کی دیر رات کہا تھا کہ انہیں حراست میں لیے جانے کے آٹھ گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی ان کے جائے وقوع کا علم نہیں تھا اور انہیں وکیل یا پارٹی ٹیم سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔
پولیس نے بتایا کہ امن و امان برقرار رکھنے اور ٹریفک کی ہموار نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے جمعہ کے روز تقریباً 150 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
سی جے پی کے شریک-کنوینر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا پہلے ہی سے پانچ دن کی عدالتی تحویل میں ہیں۔ مسٹر داس، مسٹر رانکا اور 12 دیگر افراد کو منگل (13 اکتوبر) کی صبح جنتر منتر کے بند گیٹ پر چڑھ کر احاطے میں داخل ہونے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ جنتر منتر کو حال ہی میں احتجاج کے لیے نامزد مقامات کی فہرست سے باہر کر دیا گیا تھا۔ بعد میں سی جے پی کے اجنکیہ شندے اور 11 دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا تھا۔