Jadid Khabar

الہ آباد ہائی کورٹ کا حجاب مخالف فیصلہ

Thumb

الہ آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں ایک مسلم طالبہ کی عرضی پر حجاب مخالف  جو فیصلہ صادر کیا ہے، اس سے مسلم حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔سب سے بڑا مسئلہ ان طالبات کا ہے جو حجاب پہن کر اسکول جاتی ہیں اور بچپن سے اس کی پیروی کرتی رہی ہیں، مگر ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر حجاب پر ہی سوال کھڑا کردیا ہے کہ یہ اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کسی فرقہ کی مذہبی رسومات کے بارے میں فیصلہ کرنا عدالتوں کا کام ہے یا پھر یہ ان علمائے کرام کی ذمہ داری ہے جو مذہبی امور کی مکمل جانکاری رکھتے ہیں۔ اگر اس طرح عدالتیں مذہبی امور میں مداخلت کرتی رہیں تو پھران دستوری تحفظات کا کیا ہوگا جن کی گارنٹی اقلیتوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے سے متعلق دی گئی ہے۔دستور کی دفعہ 19اور 25میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ اس ملک کی اقلیتیں اپنے مذہب پر عمل آوری کے لیے مکمل طورپر آزاد ہیں۔ سبھی جانتے ہیں پردہ اور حجاب اسلام کا لازمی حصہ ہے اور اسلام میں اس کی مسلسل وعیدیں موجود ہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک مسلم طالبہ کو اسکول میں  حجاب پہننے کی اجازت  دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا ہے کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے اور اسکول کو اپنا یونیفارم کوڈ لاگو کرنے کا مکمل اختیار ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ الہ آباد کے ٹیگور پبلک اسکول کی گیارہویں کلاس کی طالبہ سکینہ رضوی کی اس عرضی پر دیا ہے جس میں اس نے اپنی اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت طلب کی  تھی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عدالت نے اسکولی طالبات کے حجاب پہننے کے خلاف رولنگ دی ہے۔ اس سے پہلے یہ مسئلہ جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک میں اس وقت کھڑا ہوا تھا جب ایک طالبہ کی عرضی پر کرناٹک ہائی کورٹ نے ایسا ہی فیصلہ صادر کیا تھا۔ بعد کو یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا اور وہاں دو ججوں کی بنچ نے اس معاملے میں منقسم فیصلہ صادر کیا۔ یعنی ایک جج نے حجاب کے حق میں فیصلہ دیا  جبکہ دوسرے جج نے اس کے خلاف رائے دی۔ اس کے بعد حجاب کے معاملے کو سپریم کورٹ کی ایک بڑی بنچ کے حوالے کردیا گیا، جس پر ابھی فیصلہ آنا باقی ہے۔
یہ معاملہ2022 سے سپریم کورٹ میں زیرالتواہے اور اس نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا ہے۔ اس دوران الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ ایک طرف جہاں مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اسے اسلامی شریعت میں مداخلت قرار دیتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے تو وہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا کہنا ہے کہ”اس میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ حجاب اور اسکارف مسلمانوں کے لیے لازم وملزوم ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’قرآن حجاب اور پردے کا حکم دیتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا سراسر ناانصافی ہے کہ حجاب اسلام کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے۔“ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر ملک میں باربار اسلامی شعائر اور مذہبی رسومات پر سوال کیوں کھڑے کئے جاتے ہیں؟ جب کہ دستور اس ملک کی اقلیتوں کو اپنی مذہبی رسومات اور عقائد پر عمل کی اجازت فراہم کرتا ہے تو عدالتیں اس میں رخنہ اندازی کیوں کرتی ہیں۔دستور میں  اس بات کو بہت صراحت سے بیان کیا گیا ہے کہ اس ملک کی اقلیتیں نہ صرف یہ کہ اپنے مذہب پر عمل کرنے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں بلکہ انھیں اپنے مذہب کی تبلیغ واشاعت کی بھی آزادی حاصل ہے۔ لیکن2014کے بعد جب سے ملک میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے مسلمانوں کواپنے مذہب کی تبلیغ تو کجا خود اپنی   مذہبی رسومات پر عمل آوری کی  بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور اس میں اڑچنیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ اس کی سب سے تازہ مثال حجاب کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ کا تازہ فیصلہ ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے حجاب سے متعلق اسلامی تعلیمات کی تشریح کرکے وہ کا م اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہے جو مذہبی رہنماؤں کے لیے مخصوص ہے۔عدالتیں اس بات کی قطعی مجاز نہیں ہیں کہ وہ مذہبی تعلیمات کی تشریح کا کام اپنے ہاتھ میں لیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے گیارہویں کلاس کی طالبہ سکینہ رضوی کی عرضی پر جو فیصلہ صادر کیا ہے، وہ دراصل 2022میں کرناٹک ہائی کورٹ کی طرف سے دئیے گئے فیصلے کی نقل ہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ کرناٹک ہائی کورٹ نے بھی تمام دلائل کو رد کرتے ہوئے حجاب کو اسلام کا جز ماننے سے انکار کردیا تھا اوراب الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں بھی وہی بات دوہرائی ہے۔سبھی جانتے ہیں کہ پردہ اور حجاب اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہے اور بیشتر مسلم خواتین اس پر عمل پیرا ہیں۔ محض ان خواتین کو دلیل نہیں مانا جاسکتا جو حجاب نہیں پہنتیں اور بے پردہ رہنا پسند کرتی ہیں۔ بے پردہ خواتین کو دلیل بناکر ان باپردہ خواتین کو ہراسا ں نہیں کیا جاسکتا جو اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ سکینہ رضوی چھٹی کلاس سے الہ آباد کے ٹیگور اسکول کی طالبہ ہے اور اس نے چھٹی سے دسویں تک اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہنا، لیکن جب وہ گیار ہویں کلاس میں آئی تو اس پر اسکول انتظامیہ نے یہ پابندی عائد کردی کہ وہ حجاب یا ہیڈ اسکارف پہن کر اسکول نہیں آئے گی لہٰذا سکینہ رضوی نے اس معاملے کو مذہبی آزادی کی دفعہ 25کے تحت عدالت میں چیلنج کیا اور عدالت نے اس کی دلیل ماننے سے انکار کردیا۔اس معاملے میں سرکاری وکیل گریش کمار ترپاٹھی کا کہنا تھا کہ’’اسکول نجی، غیر امداد یافتہ ادارہ ہے اور یونیفارم طے کرنا اس کی پالیسی کا حصہ ہے۔“
 عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ’’پہلے حجاب نہ پہننے پر اعتراض نہ ہونے سے اسے پہننے کا مستقل حق نہیں مانا جاسکتا۔“عدالت نے کہا کہ”یکساں اور تفریق سے پاک یونیفارم برابری، ڈسپلن اور مذہبی طورپر غیر جانبدارانہ ماحول کو بڑھاوا دیتی ہے۔‘‘عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا ذکر کیا جس میں اسکولوں میں حجاب کو لازمی مذہبی رسم تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ طالبہ نے اسکول یونیفارم پہننے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور وہ اسکول کی طے شدہ ڈریس پہن کر اسکول آتی رہی۔ صرف اس نے اپنے سرکو حجاب سے ڈھانپا۔ اس کے باوجود اس پر اسکول کی یونیفارم سے انحراف کا الزام عائد کیا گیا، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندر جیت شکلا کی بنچ نے طالبہ کی عرضی خارج کرتے ہوئے کہا کہ ”طالبہ ایسا کوئی ثبوت یامذہبی حوالہ پیش نہیں کرسکی، جس سے ثابت ہو کہ حجاب یا  ہیڈ اسکارف پہننا اسلام کا لازمی جز ہے۔‘‘عدالت نے یہ بھی کہاکہ”محض دعویٰ کرنے سے دفعہ 25کے تحت حق نہیں مل سکتا۔“ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جب سبھی کو یہ بات معلوم ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں میں حجاب پہننے کی روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے اور اس پر کسی نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا تو آج اس کو ایک مسئلہ بناکر کیوں پیش کیا جارہا ہے۔ اس کا جواب صاف ہے ملک کے بدلے ہوئے سیاسی ماحول میں ایک فاشسٹ گروہ مسلمانوں کی ہر چیز پر اعتراض کرتا ہے اور ان کے مذہبی امور میں اڑچنیں پیدا کرتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے عدالتی نظام کا ایک حصہ بھی اس سے متاثر نظر آتا ہے۔
گزشتہ ہفتہ اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے مہاراشٹر کے شہر پونا میں خواتین کا ایک بڑا پروگرام منعقد کیا تھا۔ وہاں ایک باحجاب مسلم دوشیزہ نے ان سے پوچھا کہ”اگر آپ وزیراعظم بنے تو کیا آپ اس نظریہ کی حمایت کریں گے کہ ایک خاتون حجاب یا ابایا پہن کر خود کو آزاد محفوظ نہیں کرتی؟“ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ”کوئی خاتون کیا پہننا چاہتی ہے، یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہ حجاب پہننا چاہتی یا ابایا یہ اس کی مرضی ہے اور اسے اس کی اجازت ہونی چاہئے۔‘‘