Jadid Khabar

رام مندر’چندہ چوری‘کا اصل مجرم کون

Thumb

 آرایس ایس نے تاخیر سے ہی سہی اس حقیقت کو تسلیم تو کیا کہ رام مندر میں عطیات کی چوری سے کروڑوں رام بھکتوں کی آستھا کو گہری چوٹ پہنچی ہے۔ دان پیٹیوں سے کی گئی کروڑوں کی چوری کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اعلان کرتے ہوئے آرایس ایس کے لیڈر دتاتریہ ہوسبولے نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرکے کہا کہ ”شری رام جنم بھومی مندر کئی نسلوں کے سنگھرش اور کروڑوں رام بھکتوں کی قربانیوں کی علامت ہے، لیکن دان پیٹیوں میں جمع رقم کی چوری کے بدبختانہ واقعہ نے پورے سماج اور کروڑوں رام بھکتوں کی آستھا کو گہری چوٹ پہنچائی ہے۔“ حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پررام مندر کی تعمیر ظلم وناانصافی کے گارے سے ہوئی ہے۔ مکر وفریب اور جھوٹ کی بنیاد پر بھولے بھالے ہندوؤں کی عقیدت سے کھلواڑ کیا گیا اور پانچ سو سالہ قدیم بابری مسجد کا وجود مٹا کر چورراستے سے رام مندر کی تعمیر عمل میں آئی۔ اب اسی مندر میں جب چوری اور ڈکیتی ہورہی ہے تو ایک بار پھر ہندوؤں کی آستھا سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ ظاہر ہے جس کام کی بنیاد میں عیاری اور مکاری کی اینٹیں ہوں گی، اس کا انجام اتنا ہی برا ہوگا۔رام مندر کے عطیات میں کی گئی ڈکیتی کی اس سنگین واردات نے رام مندر تحریک کو کنٹرول کرنے والی آرایس ایس اور اس کا غیر معمولی سیاسی فائدہ اٹھانے والی بی جے پی کی اخلاقی اور سیاسی پوزیشن کوبری  طرح تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے۔کیونکہ دہائیوں سے رام مندر ہی سنگھ پریوار کی نظریاتی اساس تھی جس کا بھانڈہ بیچ چوراہے پر پھوٹ گیا ہے۔
رام کی ایودھیا میں اس وقت گھمسان مچا ہوا ہے۔ یہ گھمسان آستھا اور عقیدت کا نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے کروڑوں روپے کا وہ غبن ہے جو رام مندر کی ’دان‘ پیٹیوں سے کیا گیا ہے۔واضح رہے  کہ اس غبن میں پیشہ ور چور اور ڈکیت ملوث نہیں ہیں بلکہ وہ سفید پوش ہیں جن پر رام چندر جی سے آستھا رکھنے والوں نے اندھا اعتماد کیا تھا۔ ان کا یہ اعتماد چور چورہوگیا ہے اور اچانک رام مندر کو دئیے جارہے عطیات میں بھاری کمی آئی ہے۔وہ رام مندر ٹرسٹ جس کی تشکیل خود وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے ہاتھوں سے کی تھی، اس کے عہدیداران ہی چندہ چوری میں گردن تک ڈوبے ہوئے پائے گئے  ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اصل مجرموں کو پکڑنے کی بجائے بعض چھوٹی مچھلیوں کوگرفتار کرکے  معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن جیسے جیسے وقت گزررہا ہے ویسے ویسے اس معاملے کی پرتیں در پرتیں کھل رہی ہیں۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مندر ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے رام مندر کی سیکورٹی کے لیے خود اپنے 400سیکورٹی گارڈ تعینات کئے تھے، جو چپے چپے پر تعینات تھے۔ اب پولیس ان سیکورٹی گارڈوں کے کردار کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ یعنی مندر کے گرد گھیرا اتنا تنگ تھا کہ اندر کی کوئی خبر باہر نہ آسکے۔لیکن اب بہت کچھ باہر آگیا ہے۔یہ بھی کہ رام مندر سنگھ پریوار کے لیے100/کروڑ ہندوؤں کی آستھا کا سوال نہیں بلکہ دولتلوٹنے  کا وسیلہ تھا۔یعنی جنھوں نے ایودھیا کو آستھا اور عقیدت کا عالمی مرکز بنانے کی قسمیں کھائی تھیں انھوں نے رام مندر کو  چوری اور غبن کی آماجگاہ بنادیا۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بدعنوانی کے ہر معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی حکومت کے چہرے پر ندامت کی کوئی لکیر نہیں ہے،بلکہ ایک ہٹ دھرمی ہے جو اس حکومت کی خاص پہچان ہے۔  مودی حکومت کا سب سے بڑا ہنر یہ ہے کہ وہ ہرقسم کی جواب دہی سے آزاد ہے۔رام مندر کے ہر پروگرام میں پیش پیش رہ کر اس کاکریڈٹ لینے والے وزیراعظم نریندر مودی نے اس معاملے میں ابھی تک زبان نہیں کھولی ہے۔
بابری مسجد کے مقام پرتعمیر کئے گئے جس رام مندر کو بی جے پی اور سنگھ پریوار نے کروڑوں ہندوؤں کی آستھا کا مرکز قرار دیا تھا، وہ اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے چونکہ ایودھیا اب آستھا اور عقیدت کا مرکز نہ ہوکر چوری اور غبن کا محور ہوگئی ہے۔ دان پیٹیوں سے کروڑوں روپے کی نقدی اور قیمتی زیورات کی چوری کے بارے میں روز نیا انکشاف ہورہا ہے۔ اترپردیش سرکار نے اس غبن کی جانچ کے لیے جوتین رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی اس کی بنیاد پر چندہ چوری میں ملوث آٹھ افراد کو حراست میں لے کر ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں جہاں سے 80/لاکھ روپے کی نقدی برآمد ہوئی ہے۔ مگر اس معاملے میں رام جنم بھومی ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔بس انھیں اپنے عہدوں سے مستعفی ہو کر جان کی امان پائی ہے مگر ایودھیا بار ایسوسی ایشن نے جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے نہ صرف چمپت رائے اور انل مشرا کو ایودھیا سے دربدر کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ’’چندہ چوری میں ملوث جن آٹھ ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا ہے ان کی پیروی کوئی وکیل نہیں کرے گا اور اگر کسی وکیل نے ایسا کیا تو اس پر پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔“شکر ہے کہ خاموش لوگوں کی بھیڑ میں ابھی کچھ لوگوں کے منہ میں زبان باقی ہے۔
رام چرت مانس میں لکھا ہے کہ’’مریادا پرشوتم چوری یا چھل کپٹ سے نہیں پائے جاسکتے۔“لیکن رام کو سیاسی ہتھیار بناکر اقتدار پر قبضہ کرنے والی بی جے پی کورام مندر کی دیکھ بھال اور چندے کا حساب رکھنے کے لیے ایک آدمی بھی ایسا نہیں ملا جو چوری اور چھل کپٹ سے پاک ہو۔ سبھی جانتے ہیں کہ رام جنم بھومی مکتی آندولن ایک سیاسی تحریک تھی اور اس کی آڑ میں بھولے بھالے عوام کا جذباتی استحصال کرکے اقتدار ہتھیایاگیا۔ رام جنم بھومی کے نام پر عوام کو گمراہ کرکے ان کی جیبیں ڈھیلی کی گئیں۔ اگر آپ غور سے دیکھیں ایودھیا کی پوری تحریک جھوٹ اور مکر وفریب پر مبنی تھی۔ جن کروڑوں ہندوؤں کی آستھا کا نام لے کر یہ خونی تحریک چلائی گئی، انھیں فریب مسلسل کے سوا کچھ نہیں ملا۔بابری مسجد، رام جنم بھومی تنازعہ پر حتمی فیصلہ صادر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے صاف کہا تھا کہ’’بابری مسجد کے نیچے کسی مندر کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔“عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ”بابری مسجد کا انہدام ایک مجرمانہ سرگرمی تھی“ لیکن تمام حقائق تسلیم کرنے کے باوجود سپریم کورٹ نے فیصلہ انصاف کی بجائے اس  آستھا کے حق میں دیا جس کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی۔ عوام  کی گاڑھی کمائی سے چندے کی صورت میں حاصل شدہ رقم میں نقب زنی کرکے ان کی آستھا کو گہری چوٹ پہنچائی گئی۔
مجھے یاد ہے کہ1986 میں بابری مسجد کا تالا کھلنے کے بعدجب میں حالات کا جائزہ لینے ایودھیا گیا تھا تو ایودھیا ایک ٹوٹا پھوٹا اور غیرترقی یافتہ شہر تھا۔ نہ تووہاں کی سڑکیں درست تھیں اور نہ ہی عمارتیں۔ ہر طرف بوسیدگی کا ماحول تھا، لیکن جیسے جیسے ایودھیا کی کمان بی جے پی کے ہاتھوں میں آئی اور رام مندر کی تحریک زور پکڑنے لگی تو ایودھیا ایک تجارتی شہر میں بدلنا شروع ہوگیا۔ یہ تجارت محض زمینوں اور مکانوں کی نہیں تھی بلکہ یہ لوگوں کی آستھا کی بھی تجارت تھی۔ 2019 میں سپریم کورٹ کے جانبدارانہ فیصلے کے بعد تو ایودھیا کی صورت ہی بدلنے لگی۔ لاکھوں کی زمینیں کروڑوں میں اور کروڑوں کی اربوں میں فروخت ہونے لگیں۔ایودھیا کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے لیے سرکاری خزانے کا منہ کھول دیا گیا۔ ائیرپورٹ سے لے کر عالیشان فائیو اسٹار ہوٹلوں تک سب کچھ تعمیر کیا گیا۔  وہاں عقیدت مندوں کی لائن لگ گئی، جنھوں نے بے شمار نقدی اور زیورات رام کے چرنوں میں رکھ دئیے۔ رام مندر ٹرسٹ کے پاس عقیدت مندوں سے جمع کی گئی اربوں روپے کی دولت جمع ہوگئی۔ ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے’اپنوں‘ کو مالا مال کرنے کے لیے اس اتھاہ دولت کا کیسا ناجائز استعمال کیا اس کی صرف ایک مثال ہی کافی ہے۔2021میں جو زمین دوکروڑ روپے میں خریدی گئی تھی ، وہ محض دس منٹ کے بعد  ٹرسٹ نے اپنے کسی خاص آدمی کو فائدہ پہنچانے کے لیے 18/کروڑ میں خریدلی۔ جو لوگ بھی رام مندر کے انتظامات دیکھ رہے تھے ان کی دولت شیطان کی آنت کی طرح بڑھتی چلی گئی۔ درشن کے لیے آنے والوں کی جیب صاف کی جاتی رہی۔ وہ جو کچھ آستھا کے نام پر مندر کی نذر کرتے تھے وہ مندر میں جانے کی بجائے شاطر اور عیار بے ایمانوں کی جیبوں میں جارہا تھا اور مندر کی تجوریاں خالی ہورہی تھیں۔چوری اور ڈکیتی کا یہ کام کئی سال سے جاری تھا۔ اب جبکہ کروڑوں کی چوری کا بھانڈہ پھوٹ گیا ہے تو معاملے کی یوں لیپا پوتی کی جارہی ہے اوراصل مجرموں کو بچانے کے لیے سب کچھ کیا جارہا ہے جبکہ سبھی جانتے ہیں کہ اس ڈکیتی کا اصل مجرم کون ہے؟