Jadid Khabar

کیا ہندوستانی عوام اسرائیل کے طرفدار ہیں؟

Thumb

ہندوستانی عوام کے لیے اس سے زیادہ بدتر بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انھیں ظالم وجابر اسرائیل کا حامی قراردیا جائے اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا اسرائیل پر تھو تھو کررہی ہو۔ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی جو نسل کشی کی ہے اور جس طرح شیر خوار بچوں کا وحشیانہ قتل عام ہے، اس سے پوری دنیا غمزدہ ہے اور وہ اسرائیل کو انسا نیت کا بدترین دشمن قرار دے چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نتن یاہو ایک خونخوارجنگی مجرم کے طورپر عالمی عدالت کو مطلوب ہیں۔ اسرائیل اس وقت پوری دنیا میں اکیلا ہے، یہاں تک کہ اس کے سب سے بڑے حامی امریکہ نے بھی یہ تسلیم کرلیا ہے کہ اب دنیا میں امریکہ کے علاوہ اسرائیل کا کوئی دوست نہیں۔ ایسے میں امریکہ کے بیان کو رد کرنے کے لیے نتن یاہو کا یہ بیان کہ ہندوستان کے 140/کروڑ عوام ان کے ساتھ ہیں، دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والا  ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان سا آگیا ہے اور لوگ خم ٹھوک کر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی ایسے جنگی مجرم کے ساتھ ہرگز نہیں ہوسکتے جس نے غزہ میں شیرخوار بچوں کا بہیمانہ قتل کیا ہو اور جوفلسطینیوں کی بدترین نسل کشی کا مرتکب ہو۔ نتن یاہو نے گزشتہ اتوار کو ہندوستان کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کی تردید کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ”پوری دنیا میں امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور حمایتی بچا ہوا ہے۔‘‘اس کے جواب میں نتن یاہو نے کہا کہ”اسرائیل کو ہندوستان سمیت کئی دیگر ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔“یہ بات اس حدتک تو صحیح ہے کہ ہندوستان کی موجودہ حکومت اسرائیل کی زبردست حامی ہے، لیکن جہاں تک ہندوستان کے غیور اور امن پسند عوام کا سوال ہے تو ان میں اندھ بھکتوں کے علاوہ شاید ہی کوئی اسرائیل کا حامی ہو ۔ 
یہ بات درست ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اپنے اسرائیلی ہم منصب کے ساتھ زبردست لگاؤ رکھتے ہیں اور جب کبھی دونوں کی ملاقات ہوتی ہے تو ایک دوسرے سے والہانہ انداز میں گلے مل کر اپنی محبت اورعقیدت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ2014کے بعد ہند۔اسرائیل رشتوں کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ سفارتی، تجارتی اور دفاعی اشتراک کے علاوہ ہندوستان اسرائیلی ہتھیاروں کا بھی سب سے بڑا خریدار ہے۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کو جب کبھی موقع ملتا ہے تو وہ اسرائیل کا دورہ کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ یہاں تک کہ گزشتہ فروری کے اواخر میں جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اس سے دوروز پہلے ہی وہ اسرائیل کا دورہ کرکے واپس آئے تھے،لیکن جہاں تک ان رشتوں کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہونے کا سوال ہے تو یہ بات قطعی درست نہیں ہے۔140 /کروڑ عوام تو خود وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی نہیں ہیں۔ جہاں تک الیکشن میں کامیابی کاسوال ہے توالیکشن میں 35۔40 فیصد ووٹ ہی انھیں ملتا ہے۔اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کی ہندوستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور خلیج میں برسرکار ایک کروڑ ہندوستانیوں کے مستقبل پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ امریکہ نے جنگ بندی توڑ کر ایران پر جو تازہ حملہ کیا ہے اس میں اس چاہ بہار پورٹ کو تباہ کردیا ہے جہاں ہندوستان نے ایک ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کی تھی۔
اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی 20 کروڑ سے زائدہے اور ان میں سے ایک بھی نتن یاہو کے ساتھ نہیں ہے۔ ہاں وہ اندھ بھکت ضرور نتن یاہو کے ساتھ ہیں جن کے وجود میں مسلم دشمنی سرایت کرچکی ہے۔ ان کی تعداد بھی 140/کروڑ میں ایک لاکھ بھی نہیں ہے۔ہندوستانی عوام عمومی طورپر امن پسند ہیں۔ وہ انسانیت کے خلاف ہر قسم کے ظلم وبربریت کی مذمت کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب اسرائیل غزہ میں بارود برسا کر بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور جوانوں کو بے دردی اور بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتاررہا تھا تو ہندستان کی سڑکوں پر اس کے خلاف احتجاج ہورہا تھا اور سبھی سچے اور اچھے ہندوستانی نتن یاہو کے ان بدترین جنگی جرائم کی مذمت کررہے تھے۔
 المیہ یہ ہے کہ ان مظالم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ بظاہر غزہ میں جنگ بندی نافذ ہے لیکن کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ وہاں بے گناہوں پر بم نہ برستے ہوں اور انھیں موت کے گھاٹ نہ اتارا جاتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نتن یاہو کے تازہ بیان کے بعد ایسے لوگوں کی تعداد میں مسلسل ا ضافہ ہورہا ہے جو سوشل میڈیا پر اسرائیل سے اپنی بیزاری کا کھلم کھلا اظہار کررہے ہیں۔ لوک موسیقار نیہا سنگھ راٹھور نے یاہو کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ’’ہندوستان کے لوگ معصوم بچوں کے قاتلوں کے ساتھ بالکل نہیں ہیں۔“ انھوں نے نتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”بی جے پی کو پورا ہندوستان سمجھنا بند کریں۔معصوم بچوں پر ظلم وزیادتی کرنے والوں کے لیے ہندوستانی عوام کے دلوں میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ”آپ چند چاپلوسوں سے اپنی تعریفیں کرواسکتے ہیں، لیکن ملک کے عوام آپ کی خوفناک حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔“نیہا سنگھ راٹھور کے علاوہ انگریزی اور ہندی کے متعدد صحافیوں نے نتن یاہو کے بیان کی مذمت کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل آج پوری دنیا میں تنہا رہ گیاہے۔ صرف امریکہ ہی اس کی پشت پر ہے۔ دنیا کے ہرغیور ملک نے غزہ میں ڈھائے جانے والے بدترین مظالم کے سبب اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں ظلم وبربریت کا جو ننگا ناچ کیا ہے اس کی نظیر دنیا کی حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ وہاں دوسال سے زیادہ کی ننگی جارحیت کے نتیجے میں 70/ہزار سے زیادہ بے گناہ فلسطینیوں کی دردناک موت ہوئی اور بیس لاکھ آبادی کے شہر کو کھنڈر میں بدل دیا گیا۔ شہید ہونے والوں میں بیس ہزار سے زیادہ کمسن بچے تھے جن کے المیہ کے بارے میں حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جسے ہندوستانی عدلیہ کے ایک انصاف پسند  جج جسٹس مرلی دھر نے مرتب کیا ہے۔ اڑیسہ ہائی کورٹ کے سبکدوش جج جسٹس ایس مرلی دھر نے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی جانچ کمیشن کے سربراہ کے طورپر غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر100/صفحات کی جو رپورٹ پیش کی ہے، اس میں یہ نتیجہ اخذکیا گیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر اور منصوبہ بند طریقوں سے نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں بچوں کو دوطریقوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ہوائی حملوں میں بھاری دھماکوں کا استعمال کرنے کے علاوہ ڈرون، کواڈ کاپٹر اور اسنائپر رائفلوں کے ذریعہ سیدھے ان کے سر اور جسم کے اوپری حصے پر گولیاں ماری گئیں۔ مرلی دھر کمیشن نے ان ڈاکٹروں، ثبوتوں اوربیانوں کا حوالہ دیا ہے جنھوں نے نوزائیدہ بچوں کا علاج کیا تھا۔ اس رپورٹ میں ان اسرائیلی فوجیوں کے بنائے ویڈیوکو بھی ثبوت کے طورپر پیش کیا گیا ہے جو انھوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے تھے۔ مرلی دھر کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان منصوبہ بند حملوں کا مقصد فلسطینی گروپوں اور ان کی آنے والی نسلوں کے وجود کو ختم کرنا تھا۔ یہ سب جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے ذیل میں آتے ہیں۔
جسٹس مرلی دھر کی مذکورہ رپورٹ دراصل ہندوستانی عوام کی طرف سے ان بچوں کو خراج عقیدت ہے جنھوں نے اسرائیلی بربریت میں اپنی قیمتی جانیں گنوائیں۔ اگر اس رپورٹ کو پڑھ کر بھی کوئی ہندوستانی اسرائیل کا حامی ہوسکتا ہے تواسے ضرور اپنے دماغ کا علاج کروانا چاہئے۔ نتن یاہو کے بیان پر کانگریس پارٹی نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا ہے کہ’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسرائیل مودی حکومت میں اندر تک سمایا ہوا ہے اور وزیراعظم مودی اس سے اندھی عقیدت رکھتے ہیں، لیکن کروڑوں ہندوستانی غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہیں۔“ انھوں نے کہا کہ ”مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور بے گھر کئے جانے، ٹارگٹ کلنگ سمیت ایران پر شدید فضائی حملوں اور جنوبی لبنان میں اس کی وحشیانہ فوجی مہم کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ سب انسانیت پر براہ راست حملے ہیں۔‘‘