تل ابیب، 18 اگست (یو این آئی) اسرائیل کے ٹی وی چینل 'کانال 15' نے رپورٹ دی ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر کو بتایا ہے کہ اسرائیل محصور غزہ میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رکھے گا تاہم، کشنر نے اس قتل عام کی مخالفت کی ہے۔
گزشتہ روز اس معاملے سے باخبر ایک ذرائع کے حوالے سے کانال 15 نے بتایا کہ نیتن یاہو اور کشنر کے درمیان ٹارگٹڈ آپریشنز جاری رکھنے کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
ذرائع کے مطابق،نیتن یاہو نے واضح کیا کہ وہ ان ہلاکتوں کو جاری رکھیں گے جبکہ کشنر نے اس پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔
نیتن یاہو نے پیر کے روز اسرائیل میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کشنر اور امن کمیٹی کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملاڈینوف سے ملاقات کی تھی۔
کشنر اتوار کی شام مصر سے اسرائیل پہنچے تھے، انہوں نے صدر عبدالفتاح السیسی اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ کی قیادت میں وفود سے ملاقاتیں کی تھیں۔
نیتن یاہو کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل غزہ سے اپنی افواج کا انخلا شروع کرنے سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح ہونا چاہیے، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار اسی صورت میں سپرد کرنے کے لیے تیار ہے اگر اسرائیل خطے سے مرحلہ وار اور منظم طریقے سے پیچھے ہٹے۔
نیتن یاہو نے اس سے قبل غزہ کے لیے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور امن کمیٹی کی جانب سے 31 جولائی کو جاری کردہ روڈ میپ کے باوجود جس میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل کے انخلا کو متوازی اور مرحلہ وار آگے بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی اس بات پر اصرار کیا تھا کہ حماس پہلے ہتھیار ڈالے۔
ثالثی کرنے والے ممالک 10 اکتوبر 2025 کو نافذ العمل ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اپنی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے؛ ان خلاف ورزیوں میں اب تک کم از کم 1,262 فلسطینی ہلاک اور 4,168 زخمی ہو چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک، اسرائیل نے اس محصور علاقے میں 73,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 174,000 سے زائد کو زخمی کیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔
اسرائیل نے اس خطے کے ایک بڑے حصے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے اور یہاں کی پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔