Jadid Khabar

جوہر یونیورسٹی پر انہدام کی تلوار

Thumb

درجنوں مسجدوں، مدرسوں اور مزاروں کو روندتا ہوا زعفرانی بلڈوزر اب ایک ایسی یونیورسٹی کے دروازے پر آکر کھڑا ہوگیا ہے جو مسلمانوں کی ناخواندگی دور کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ عظیم مجاہد آزادی مولانا محمدعلی جوہرکے وطن رامپور میں تعمیر کی گئی اس یونیورسٹی کا معمار چونکہ ایک ایسا شخص ہے، جسے موجودہ حکومت اپنا سیاسی حریف سمجھتی ہے، اس لیے اس یونیورسٹی کوملیا میٹ کرنے  کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تاریخ کے ایک سیاہ دور میں ہمارے یہاں کچھ یونیورسٹیاں اور لائبریریاں جلائی اور زمیں دوز کی گئیں۔ یقینا وہ سامراجی اندھیر گردی، بربریت اور لوٹ مار کا دور تھا، جبکہ آج ہم جس جمہوری دور میں زندہ ہیں اس پر ہمیں بڑا نازہے۔ناز تو ہمیں اپنے مہذب اور تعلیم یافتہ ہونے پر بھی ہے، لیکن اس ملک میں آج جو کچھ ہورہاہے، وہ یقینا ہمیں ایک ایسے تاریک دور کی یاد دلاتا ہے، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ تھا۔  
جوہر یونیورسٹی پرآج انہدام کی جو تلوار لٹک رہی ہے، اس کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس یونیورسٹی کی تعمیر وتشکیل کا سہرا اترپردیش کے قدآور مسلم لیڈر محمداعظم خاں کے سرہے جو پچھلے کئی برس سے اترپردیش کی یوگی سرکار کے نشانے پر ہیں۔اعظم خاں اور ان کے جواں سال بیٹے عبداللہ پچھلے پانچ سال سے جیل میں ہیں۔ کچھ دن کے لیے ضمانت پر باہر آئے تھے مگر انھیں پھر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اعظم خاں یوگی سرکار کی اس خاموش مہم کا خاص نشانہ ہیں جو ملک کی سب سے بڑی ریاست سے مسلم قیادت کوختم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعظم خاں کے خلاف یوگی  سرکار نے تقریباً 100 مقدمات قائم کررکھے ہیں اور انھیں سیاسی طورپر بالکل بے دست وپا کردیا گیا ہے۔ شمالی ہندوستان کی مسلم قیادت پر الزام ہے کہ وہ صرف جذباتی نعرے لگاکر مسلمانوں کا استحصال کرتی ہے اور کوئی تعمیری کام نہیں کرتی۔ بی جے پی کا الزام یہ ہے کہ مسلم لیڈران مسلمانوں کو ان پڑھ اور جاہل رکھنا چاہتے ہیں، لیکن اسے کیا کہا جائے کہ جب کوئی مسلم لیڈر تمام بے سروسامانی کے ساتھ ایک عالیشان یونیورسٹی کھڑی کردے تو حکومت کے بلڈوزر اس کا تعاقب کرنے لگیں۔
 اعظم خاں کو سیاسی طورپر صفر کرنے کے بعد یوگی حکومت اب ان کے ڈریم پروجیکٹ محمدعلی جوہر یونیورسٹی کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے درپہ ہے۔1500 بیگھہ اراضی پھر پھیلی ہوئی اس یونیورسٹی میں چالیس عالیشان عمارتیں ہیں جہاں تعلیم کے مختلف شعبے قائم ہیں۔ اب رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یہ حکم جاری کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ چالیس میں سے ان38عمارتوں کو خود مسمار کردے جو کسی نقشے کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں ورنہ پندرہ دن بعد اتھارٹی ان عمارتوں پر بلڈوزر چلاکر انہدامی کارروائی  کا خرچ یونیورسٹی سے وصول کرے گی۔یونیورسٹی کی جن دوعمارتوں کی جاں بخشی ہوئی ہے ان میں میڈیکل کالج بلڈنگ اور اکیڈمک بلاک شامل ہیں اور جن 38عالیشان عمارتوں پر بلڈرزر چلانے کا  فرمان جاری کیا گیا ہے ان میں یونیورسٹی کے احاطہ میں تعمیر کی گئی عالیشان مسجد بھی شامل ہے۔ لیکن سرکار کا یہ داؤ الٹا پڑتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ کیونکہ یونیورسٹی پر بلڈوزر کارروائی کی مخالفت وہ لوگ بھی کررہے ہیں جو ہر وقت اس سرکار کے قصیدے پڑھا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی تعلیم کا مندر ہے اور یہاں بلڈوزر چلانا بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ اگر حکومت کو اعظم خاں سے بیر ہے تو وہ یونیورسٹی کو اپنی تحویل میں لے سکتی ہے اور تعمیر شدہ عمارتوں کو جائز قرار دینے کے دیگر راستے تلاش کرسکتی ہے۔یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب یونیورسٹی میں بلڈوزر چلیں گے اور کلاس روم تہس نہس ہوجائیں گے تو پھر ان تین ہزار طلبہ کا کیا ہوگا جو اس وقت یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔ ظاہر ہے حکومت کو اس کی کوئی پروانہیں ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ان میں اکثریت مسلم طلباء اور طالبات کی ہے جنھیں وہ علم وآگہی سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے جب جموں کے ایک میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں ایم بی بی ایس کے پچاس طلباء میں سے 45مسلم طلباء نے کامیابی حاصل کی تھی تو اس پر ہنگامہ برپا ہوگیا تھا۔ نتیجے کے طورپر حکومت نے اس انسٹی ٹیوٹ ہی کو بند کردیا اور کامیاب طلباء کو سڑکوں پر بھٹکنے پر مجبور کردیا۔ جی ہاں یہ اسی سرکار کی ناک کے نیچے ہوا جس کے مکھیا یہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں کمپیوٹر دیکھنا چاہتے ہیں۔ظاہرہے  اس حکومت کے قول وفعل میں زبردست تضاد ہے اور یہ مسلم دشمنی میں پوری طرح برہنہ ہوچکی ہے، جس کا سب سے بڑا ثبوت جوہر یونیورسٹی کی مٹی میں ملانے کے ارادے ہیں۔
اعظم خاں کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ وہ سماجوادی پارٹی کے بانی لیڈر ہیں۔ دس مرتبہ رامپور سے ممبر اسمبلی چنے گئے ہیں اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں جگہ رامپور کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں اور انھوں نے سرسید کی طرح اپنے شہر رامپور میں ایک یونیورسٹی بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ کئی برس کی مسلسل محنت اور جد جہد کے بعد وہ 2007میں اس خواب کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس وقت اس یونیورسٹی میں تقریباً تین ہزار طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ اس یونیورسٹی کی سب سے زیادہ ترقی2012سے 2017کے درمیان اس وقت ہوئی جب اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کی حکومت تھی اور اعظم خاں اس میں ایک طاقتور وزیر تھے۔ 2017 میں بی جے پی نے سماجوادی سے اقتدار چھین لیا اور اس کا سب سے بڑا نقصان اعظم خاں کو ہوا۔ اعظم خاں اور ان کے خاندان کو دیوار سے لگانے کے لیے ان پر مقدموں کی بوچھار کردی گئی۔ دوپین کارڈرکھنے کے جرم میں ان کی اور ان کے بیٹے کی اسمبلی کی ممبر شپ چھین لی گئی اور انھیں تاحیات الیکشن لڑنے سے محروم کردیا گیا۔ وہ رامپور شہر جہاں کبھی اعظم خاں کا طوطی بولتا تھا ان کے لیے اجنبی بنادیا گیا۔70فیصد مسلم آبادی کا شہر رامپور جہاں سے کبھی مولانا ابوالکلام آزاد نے پارلیمنٹ کا الیکشن لڑا تھا وہاں آج بی جے پی کا ممبر اسمبلی ہے اور وہ اس طرح کہ2022کے ضمنی چناؤ میں مسلمانوں کو ووٹ ہی نہیں ڈالنے دیا گیا۔رامپور کی تاریخ میں پہلی بار بی جے پی امیدوار آکاش سکسینہ کو کامیابی ملی۔ آکاش سکسینہ نے رامپور کے نواب خاندان کے ساتھ مل کر اعظم خاں کو سیاسی طورپر زیرو بنانے کی منصوبہ بندی کی۔ نواب خاندان سے اعظم خاں کی پرانی دشمنی کا فائدہ بی جے پی نے خوب اٹھایا۔ اعظم خاں کے کچھ قریبی لوگوں کو ڈرادھمکاکر ان کے خلاف گواہ بنایا گیا۔ اس طرح رامپور کی سیاست سے اعظم خاں کا نام مٹادیا گیا۔ اب باری ہے اس یونیورسٹی کی جسے اعظم خاں نے بڑی آرزوؤں کے ساتھ تعمیر کیا تھا۔جوہر یونیورسٹی کی جن 38عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان کے بارے میں رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ان کا نقشہ پاس نہیں کرایا گیا اور یہ کسی اجازت کے بغیر تعمیر ہوئی ہیں۔ جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ عمارتیں اس وقت تعمیر ہوئی تھیں جب یہ علاقہ رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔ یہ علاقہ2024 میں رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت آیا ہے، اس لیے اس سے پہلے تعمیر ہونے والی عمارتوں کے لیے اتھارٹی سے نقشہ منظورکرانے کی قانونی ضرورت نہیں تھی۔ 
درحقیقت جوہر یونیورسٹی پر یوگی سرکار کی پہلے سے ہی بری نظر ہے اور وہ مختلف حیلوں بہانوں سے اسے نشانے پر لیے ہوئے ہے۔یونیورسٹی کے خلاف سرکاری ریشہ دوانیوں کی ایک طویل فہرست ہے۔2019میں سرکار نے یونیورسٹی کو لیز پر دی 170/ایکڑ زمین واپس لینی شروع کی اور ہائی کورٹ نے بھی اس پر اپنی منظوری کی مہرلگائی۔2023میں یونیورسٹی پر محکمہ انکم ٹیکس نے چھاپہ مارکر یہ ’انکشاف‘ کیا اس یونیورسٹی کی تعمیر پر 60کروڑ نہیں بلکہ800کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں اور زبردست ٹیکس چوری کی گئی ہے۔ جولائی2024 میں رامپورضلع انتظامیہ نے یونیورسٹی کی تقریباً 14/ ہیکٹر زمین اپنے قبضے میں لی اور دوعمارتیں سیل کردیں۔ فروری 2025میں جوہر یونیورسٹی میں ہاسٹل تعمیر کرنے میں ایک کروڑ روپے کی بدعنوانی کا الزام لگاکر مرکزی حکومت نے اسے دیا جانے والا فنڈ منجمد کردیا اور اس کی پہلی قسط 93/لاکھ سود کے ساتھ واپس مانگی۔ جولائی 2019میں پی ڈبلیو ڈی کی سڑک پر ناجائز داخلہ گیٹ بنانے کے جرم میں یونیورسٹی پر سواتین کروڑ کا جرمانہ لگایا گیا۔ اپریل 2025میں ای ڈی نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف جو کارروائی کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی تعمیر پر450 /کروڑ روپے کا صرفہ آیا ہے جبکہ اکاؤنٹ میں صرف100/کروڑ موجود تھے۔ اس پر ای ڈی نے بے نامی سرمایہ کاری پر جوہر ٹرسٹ کو 550 /کروڑ کی وصولی کا نوٹس جاری کیا ہے۔ اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ اس یونیورسٹی کی سانسیں روکنے کے لیے چوطرفہ کارروائیاں کی گئیں، لیکن پھر بھی یہ پوری قوت سے اپنے پیروں پر کھڑی ہے۔ اب اسے پیروں سمیت اکھاڑنے کے لیے بلڈوزروں کو حکم ملا ہے کہ وہ پوری یونیورسٹی کو ہی خاک میں ملادیں۔