Jadid Khabar

سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کا جمہوری حقوق پر منظم حملہ: کھڑگے

Thumb

نئی دہلی، 18 اگست (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت نے ہر ہندوستانی کے بولنے، سوال کرنے اور اختلافِ رائے ظاہر کرنے کے جمہوری حق پر منظم حملہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کی کارروائی اتنی ہی قابلِ مذمت ہے جتنا کہ نوجوانوں پر کیا گیا لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کا استعمال کرنا ۔

مسٹر کھرگے نے سوشل میڈیا ایکس پر منگل کے روز لکھا کہ صرف پانچ مہینوں میں بلاک کرنے کے 1.95 لاکھ احکامات جاری کیے گئے، یعنی ہر 68 سیکنڈ میں ایک حکم آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ احکامات مجرموں کے خلاف نہیں، بلکہ ان طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف ہیں جو اپنے مستقبل اور امتحانات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف جوابدہی کا مطالبہ کرنے سڑکوں پر اترے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب نوجوانوں پرمظالم  ڈھائے  جا رہے  تھے ، اسی وقت ان کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو بھی پوسٹ اور ریل کے ذریعے انٹرنیٹ سے منظم طریقے سے ہٹایا جا رہا تھا۔ تنقیدی مواد پوسٹ کرنے والے صحافیوں، کنٹینٹ کریئیٹرز اور عام شہریوں کو بھی نوٹس، ایف آئی آر اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مسٹر کھرگے نے کہا کہ حکومت نے مواد ہٹانے کی وقت کی حد گھٹا کر تین گھنٹے کر دی ہے اور سنسرشپ کو اتنا خودکار (آٹومیٹڈ) کر دیا گیا ہے کہ آواز دبانے سے پہلے حکم کو کوئی انسان تک نہیں پڑھتا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک پوسٹر بھی پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ مارچ سے جولائی کے درمیان حکومت نے تقریباً ہر منٹ ایک سوشل میڈیا سائٹ کو بلاک کرنے کا آرڈر دیا ہے۔ حکومت نے اس دوران ایک لاکھ انسٹاگرام، 80 ہزار فیس بک اور 15 ہزار یوٹیوب کو بند کرنے کے  آرڈر جاری کیئے ہیں ۔