احتجاجی طلبہ کی شرمناک کردار کشی
گزشتہ20/جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران احتجاجی طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کامعاملہ طول پکڑ رہا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے طلبہ کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی، لیکن شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حکومت احتجاجی طلبہ کو سبق سکھانا چاہتی تھی تاکہ وہ اس کی ناک میں دم کرنے سے باز آجا ئیں۔ آنسو گیس اورلاٹھی چارج کے بعد بحث کا اصل موضوع طلبہ پر مہلک پیلٹ گنوں کا استعمال ہے جس کے نتیجے میں کئی طلبہ کے جسموں پر شدید زخم آئے ہیں اور ایک طالب علم اپنی ایک آنکھ کی بینائی سے بھی محروم ہوگیا ہے۔ پیلٹ گنوں کے استعمال کا معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچا، لیکن وہاں کوئی فوری راحت نہیں ملی۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلبہ پر پولیس کی بربریت آمیز کارروائی کے لیے وزیرداخلہ امت شاہ کو قصور وار قراردے کر ان کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ انھوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر پریس کانفرنس کرکے پوچھا ہے کہ”کیا وزیرداخلہ نے فائرنگ یا پیلٹ گن چلانے کا حکم دیا تھا؟“راہل کو اس سوال کا کوئی جواب نہیں مل رہا ہے اور نہ ہی وزیرداخلہ پارلیمنٹ میں منہ دکھارہے ہیں۔ اگر آپ حکومت کے اس موقف کو تسلیم بھی کرلیں کہ اس نے طلبہ کے خلاف کارروائی کے احکامات نہیں دئیے تھے تو پھر بی جے پی اور سنگھ پریوار کے ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو احتجاجی طلبہ کو گولی مارنے اور خواتین کو عصمت دری پسند ہونے کی بات کہہ رہے ہیں۔اتنا ہی نہیں بی جے پی کی ایک ممبرپارلیمنٹ پوری نئی نسل کو ”گٹر جنریشن“ سے تشبیہ دے رہی ہیں۔
کیرل میں آرایس ایس سے وابستہ سیاسی مبصر ٹی جی موہن داس کا کہنا ہے کہ’’اگر وہ اقتدار میں ہوتے تو جنتر منتر پر احتجاج کرنے والوں کو گولی مارکر ہلاک کردیا جاتا۔“ انھوں نے یہ بھی کہا کہ’’احتجاج میں شامل خواتین کو عصمت دری پسند ہے اور اگر ان کے ساتھ ایسا ہوبھی جائے تو وہ شکایت نہیں کریں گی۔“دہلی میں نیٹ پرچہ لیک معاملے میں جوابدہی کا مطالبہ کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شریک طلبہ اور دیگر شہریوں کے خلاف یہ توہین آمیز بیان ’پتریکا‘ نامی یوٹیوب چینل پر نشر ہونے والی متعدد ویڈیوز میں دئیے گئے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹی جی راج موہن بھارتیہ جنتا پارٹی کی ’دانشور سیل‘کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ ان کے بیان سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تنظیم کی دانشورانہ سطح کیا ہے اور وہ کس انداز میں سوچتے ہیں۔ راج موہن کے بیان پر ہم آگے چل کر تفصیلی روشنی ڈالیں گے، آئیے دیکھتے ہیں کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد’اندھ بھکتوں‘کی ذہنی حالت کیا ہے اور وہ کس کرب سے دوچار ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ طلبہ تحریک کے نتیجے میں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مودی سرکار کی ایک ایسی شکست ہے جس کی ٹیس ہر بی جے پی کارکن محسوس کررہا ہے۔انھیں محسوس ہوتا ہے کہ پچھلے بارہ برس کے اقتدار میں انھیں پہلی بارذلت ورسوائی سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ حالانکہ جمہوری نظام میں فتح وشکست کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتاہے اور ہمیشہ کسی کا ستارہ بلند نہیں رہتا، لیکن بی جے پی سرکار میں شامل لوگوں کو یوں لگتا ہے کہ وہ صرف سربلند رہنے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں اور زوال صرف ان کے مخالفین ہی کا مقدر ہے۔یہ بنیادی طورپر ایک غیر جمہوری سوچ ہے۔ مودی سرکار کے بارہ برس میں اگرچہ یہ دوسرا موقع ہے جب کسی مرکزی وزیر کو عوامی تحریک کے نتیجے میں استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ پہلی بار مرکزی وزیرمملکت امور خارجہ ایم جے اکبر کو اکتوبر 2018میں ’می ٹو‘ مہم کے تحت وزارت سے علیحدہ ہونا پڑا تھا اوراب تقریباً آٹھ سال بعد مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کو کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاجی تحریک کے دباؤمیں مستعفی ہونا پڑا ہے۔ ظاہر ہے اس سے مودی سرکار اور اس کے خیرخواہوں کو ذلت محسوس ہورہی ہے اور وہ اس کا انتقام ان نوجوانوں سے لینا چاہتے ہیں جنھوں نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے اور اس کے غرور کو چکنا چور کردیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف بی جے پی بلکہ آرایس ایس کے لوگ بھی ان طلبہ کے خلاف ایسی توہین آمیز زبان استعمال کررہے ہیں جس کا تصور بھی ایک مہذب سماج میں نہیں کیا جاسکتا۔
ابھی تک سنگھ پریوار کے جولوگ احتجاجی طلبہ کو بے ہودہ اور بدتمیز کہہ کررہے تھے اب وہی لوگ انھیں ’گٹر جنریشن‘ کہہ کر بھی مخاطب کررہے ہیں۔ ٹی جی راج موہن کے بعدبی جے پی ممبر پارلیمنٹ اداکارہ گنگنا رناوت نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ’’پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاجی تحریک میں شامل نوجوانوں کا تعلق ’گٹر جنریشن‘ سے ہے۔“ انھوں نے جنتر منتر احتجاج کے بارے میں انسٹا گرام پر لکھا کہ’’میں نے کبھی ایک جگہ اتنی گندگی اور بھدا پن نہیں دیکھا۔ جین جی کے احتجاج کی ویڈیو دیکھ کر قے آتی ہے۔ انھیں کون پیدا کررہا ہے، کون شہ دے رہا ہے؟“ کنگنا رناو ت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک اور پوسٹ میں احتجاج میں شامل نوجوان لڑکیوں پر چوٹ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ’’میں انھیں گٹر جنریشن کہتی ہوں۔ یہ مغربی تہذیب والی ہندوستانی خواتین کی نئی نسل ہے، ان کی سوچ اتنی مسخ شدہ ہے کہ یہ اچھی گھریلو عورت نہیں بن سکتیں۔ یہ نشہ، شراب اور ناجائز جنسی تعلقات کو آزادی کی علامت تصور کرتی ہیں۔‘‘کنگنا رناوت کے اس بے ہودہ بیان پرخاصا واویلا مچا ہوا ہے اور اپوزیشن پارٹیوں نے ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔جبکہ دوسری طرف کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ”کنگنا کو ان کی پارٹی کے لوگ ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے تو ہم کیوں لیں۔“
گنگنا رنوت کے اس انتہائی قابل اعتراض بیان کو اگر آپ ایک بڑبولی اداکارہ کا بیان کہہ کر نظرانداز بھی کردیں تو آپ اس آرایس ایس کے بارے میں کیا کہیں گے جو خود کو سب سے زیادہ مہذب کہلوانے میں فخر محسوس کرتی ہے اور اپنی تعریفیں کروانے میں کبھی پیچھے نہیں رہتی۔ اسی آرایس ایس کے ایک سینئر لیڈر نے کیرل میں جو کچھ کہا ہے اس کے ہرلفظ سے بدبو آرہی ہے اور یوں محسوس ہورہا ہے کہ کاکروچ پارٹی کی احتجاجی تحریک نیپورے سنگھ پریوار کی عقل ہی ماوؤف کردی ہے۔ کیرل سے تعلق رکھنے والے آرایس ایس کے سینئر لیڈر ٹی جی موہن داس نے ایک یوٹیوب ویڈیو میں جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبا ء کے بارے میں جو کچھ کہا ہے کہ’ ’طلبہ کے احتجاج سے عصمت دری جیسے واقعات پیش آسکتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی شکایت بھی درج نہیں ہوگی کیونکہ احتجاج میں شرکت کرنے والی لڑکیاں عصمت ریزی کو پسند کرتی ہیں اور یہ ایسی لڑکیاں ہیں جنھیں عصمت ریزی میں مزا آتا ہے۔“ اسی ویڈیو میں انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر وہ بااختیار ہوتے تو جنتر منتر پر کرفیو لگادیتے۔ ہجوم کو منتشر کرنے کا حکم دیتے اور اگر وہ انکار کرتے تو فائرنگ کا حکم دیتے۔ اگرچہ بعض افراد ہلاک ہوتے یا مستقل طورپر زخمی ہوتے لیکن چند گھنٹوں میں صورتحال کو قابو میں کیا جاسکتا تھا اور لاشیں اسپتال منتقل کی جاسکتی تھیں۔
‘ آرایس ایس نے حسب عادت اس بیان سے خود کو الگ کرتے ہوئے ان کے ذاتی خیالات سے تعبیر کیا ہے۔ ایک بیان میں سینئر آرایس ایس عہدے دار بی سری کمار نے کہا ہے کہ موہن داس کسی بھی سطح پر آرایس ایس کے عہدے دار نہیں ہیں۔جبکہ موہن داس کے بارے میں میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ کیرل میں دائیں بازو کے سیاسی مبصر اور آرایس ایس کے نظریہ ساز ہیں۔ بہرحال ان کے اس بیان کے خلاف ریاستی پولیس کے سربراہ سے شکایت کرتے ہوئے اے آئی ایس ایف نے الزام لگایا کہ’’موہن داس نے احتجاجی طلبہ کو گولی مارنے پر زور دیا جو بڑے پیمانے پرہلاکتوں اور تشدد کے لیے اکسانے کے مماثل ہے۔ شکایت کے مطابق احتجاجی طلبہ پر پولیس کی طاقت کے استعمال کی برسرعام تائید کرتے ہوئے انھوں نے خطرناک بیان دیا جس سے انسانی زندگی کی قدرکو گھٹایا گیا اور سماجی بے چینی اور خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔‘‘کیرل کے سابق وزیراعلیٰ پنارائی وجین نے بھی موہن داس کے بیان کی مذمت کی اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وجین نے ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ موہن داس کے بیان سے ناراض عناصر کو ختم کرنے کی سنگھ پریوار کی ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کیرل سرکار اس معاملے میں مقدمہ بھی درج کرلیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ احتجاجی طلبہ کے خلاف ایسی بے ہودہ زبان استعمال کرنے والے بیمار ذہن لوگوں کوکیا سزا ملے گی؟