کولکاتا، 18 اگست (یواین آئی) کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال بھر کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر اور مائیک ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی مفادِ عامہ کی عرضی منگل کو خارج کر دی۔
کارگزار چیف جسٹس تپوبرت چکرورتی اور جسٹس اتاروپ بنرجی کی بنچ نے آج یہ فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے حوالے سے جاری تنازع اور سیاسی بحث کے درمیان آیا ہے۔ ریاستی حکومت نے عدالت میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کارروائی کسی مخصوص برادری کو نشانہ بنا کر نہیں کی گئی ہے۔ انتظامیہ مساجد اور مندروں، دونوں پر موجودہ قوانین کو یکساں طور پر نافذ کر رہی ہے۔
حکومت کے مطابق پولیس کی یہ کارروائی کلکتہ ہائی کورٹ کی جانب سے 2020 میں دی گئی اس ہدایت کی بنیاد پر کی گئی ہے، جس میں صوتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مذہبی مقامات کو مقررہ حدود کے اندر آواز کی سطح برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق 11 اگست تک 34 پولیس اضلاع میں 5,299 لاؤڈ اسپیکروں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ ان میں سے 4,203 مائیک مساجد سے اور 1,096 مائیک مندروں سے ہٹائے گئے تھے۔ حکومت نے دلیل دی کہ قانون تمام مذہبی اداروں پر یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے۔
بھنگر کے رکن اسمبلی نوشاد صدیقی نے بھی یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے ریاستی پولیس کو خط لکھ کر الزام عائد کیا تھا کہ کئی اضلاع سے ایسی شکایات موصول ہو رہی ہیں جن میں سیاسی، سماجی اور مذہبی پروگراموں کے دوران مائیکروفون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے والے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
مسٹر صدیقی نے اپنے خط میں سپریم کورٹ کی متعدد ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کی ضرورت سے زیادہ مداخلت پر اعتراض کیا۔ انہوں نے پوری ریاست میں مائیکروفون کے استعمال کے لیے یکساں پالیسی بنانے کا بھی مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ من مانی پابندیوں سے قانونی اور جمہوری سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔