Jadid Khabar

گیانیش کمار کا بھانڈہ پھوٹ گیا

Thumb

چیف الیکشن کمشنرگیا نیش کمار سے متعلق روزنامہ”انڈین ایکسپریس“ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے ملکی سیاست میں تہلکہ مچادیا ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے جب ملک میں آزاد صحافت آخری سانسیں گن رہی ہے اور گودی میڈیا ہرروز نئے گل کھلارہا ہے۔ یوں تو بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد  ہی ملک میں جمہوری اداروں کا زوال شروع ہوگیا تھا۔ یعنی  وہ ادارے جو کبھی جمہوریت کینگہبان  کہلاتے تھے آہستہ آہستہ دم توڑ رہے ہیں۔ ان  میں سب سے بڑا زوال الیکشن کمیشن کا ہوا ہے جو ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل اور بقاء کا ضامن ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حاکمان وقت نے الیکشن کمیشن کو اپنی پارٹی کا ذیلی دفتر بنالیا ہے، جو  آزادانہ اور شفاف الیکشن کرانے کی آئینی اور قانونی ذمہ داری نبھانے کی بجائے ہر جگہ بی جے پی کی میابی کی راہیں ہموار کررہا ہے۔
 الیکشن کمیشن کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان  موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے پہنچایا ہے۔ ان کے ہرقدم پر سوالیہ نشان قائم ہوئے ہیں۔مگر اتنی تنقیدوں اور مذمت کے باوجود ان کے چہرے پر کوئی ملال  تک نہیں ہے۔ سب سے زیادہ سوال ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی مہم  (ایس آئی آر)پر کھڑے کئے گئے ہیں جس نے ملک کے کروڑوں عوام کو بھکاریوں کی تیار لائن میں لگادیا ہے۔ ایس آئی آر کے اس تکلیف دہ عمل نے اب تک ملک کے 13 کروڑ رائے دہندگان سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا ہے۔عام لوگ ہی نہیں بلکہ کچھ ایسی شخصیات کے اوپر بھی ایس آئی آر کی تلوار لٹکی ہوئی ہے، جنھیں ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے ملک کا اثاثہ تصور کیا جاتا ہے۔مجموعی طورپر ملک کے 100کروڑ رائے دہندگان کو اس نہایت تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑا۔ 
  ایس آئی آر کے تعلق سے ایک آرٹی آئی کے جواب میں جو کچھ سامنے آیا ہے اس نے سب کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ ایک خاتونسماجی کارکن نے الیکشن کمیشن سے  پوچھا تھا کہ انھیں اس میٹنگ کی فائل مہیا کرائی جائے جس میں ایس آئی آر کا فیصلہ ہوا تھا۔ الیکشن کمیشن نے اس کا حیران کن جواب یوں  دیا ہے کہ ”ایس آئی آر کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے نہیں لیا۔“ یعنی ایس آئی آر اوپر تھوپا گیا فیصلہ ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وزیرداخلہ امت شاہ کے دماغ کی اپج ہے جو سی اے اے اور این آر سی نافذ کرنے میں ناکام ہونے کے بعد ملک کے عوام کو بہ ا نداز دگر نرغے میں لینا چاہتے تھے۔ ایس آئی آر کا معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے جو  اس پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کرپارہا ہے۔
 ’انڈین ایکسپریس‘ کی تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد ملک بھر میں گیانیش کمار کی من مانی کے خلاف غم وغصے کا جو طوفان کروٹیں لے رہا ہے اس کی روشنی میں ان پر استعفیٰ کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے گیانیش کمار کے خلاف ایس آئی آر کے سلسلے میں قانونی فرائض کی خلاف ورزیوں پر فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں ان کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کی بھی تیاری ہورہی ہے۔ اس سے قبل بھی لوک سبھا میں ان کے خلاف ایسی ہی تحریک پیش کی گئی تھی، جس پر اسپیکر نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ 
’انڈین ایکسپریس‘ کی جانباز صحافی رتیکا چوپڑا کی چشم کشا رپورٹ میں ثابت کیا گیا ہے کہ گیانیش کمار سہ رکنی الیکشن کمیشن میں من مانے فیصلے کررہے ہیں اور باقی دوالیکشن کمشنروں کو برف میں لگادیا گیا ہے۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے ضابطوں کے مطابق تینوں الیکشن کمشنر آپسی تال میل کے ساتھ فیصلے لینے کے مجاز ہیں اور کسی الیکشن کمشنر کو تنہا فیصلے لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔اخباری رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد اپوزیشن نے گیانیش کمار کے خلاف جو محاذ کھولا ہے، اس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ کاکروچ جنتا پارٹی بھی میدان میں آگئی ہے۔ اس نے گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے  گاندھی جینتی سے ملک میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ گیانیش کمار کی دھاندلیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی گئی ہے اور انھیں گرفتار کرکے جیل بھیجنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ حکومت نے انھیں گرفتاری سے بچانے کے لیے باقاعدہ قانون بنارکھا ہے۔ یعنی حکومت کو پہلے ہی احساس تھا کہ گیانیش کمار جو کالے کارنامے انجام دیں گے اس کے نتیجے میں ان پر گرفتاری کی تلوار لٹک سکتی ہے۔ یہ قانون پارلیمنٹ میں ایک ایسے موقع پر پاس کرایا گیا تھا جب اپوزیشن کے140/ارکان واک آؤٹ کرگئے تھے۔ اس اعتبار سے یہ بھی ایک سیاہ قانون کے دائرے میں آتا ہے۔ ملک میں اس وقت گیانیش کمار کے خلاف زبردست محاذ آرائی ہورہی ہے اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس محاذ آرائی کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے دونائب الیکشن کمشنروں وویک جوشی اور سکھبیر سندھو کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن میں جو بھی فیصلے ہورہے ہیں وہ بالا ہی بالا ہورہے ہیں اور ان سے کوئی مشورہ نہیں کیا جارہا ہے۔ وہ چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں پر جو اعتراض درج کرارہے ہیں انھیں خاطر میں نہیں لایا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ گزشتہ10 ماہ کے دوران انھوں نے 14 بار اعتراض درج کرائے لیکن ان اعتراضات کو درکنار کردیا گیا۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے ضابطوں کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اپنے آپ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا، لیکن گیانیش کمار جب سے چیف الیکشن کمشنر بنے ہیں انھوں نے اپنی من مانی کا ایک ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ وہ اب تک کے سب سے زیادہ متنازعہ چیف الیکشن کمشنر ثابت ہوئے ہیں اور انھوں نے ملک کے انتخابی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’دونوں الیکشن کمشنروں نے ایس آئی آر کے تحت نئے ووٹروں کے رجسٹریشن، رائے دہندگان کے نام ہٹانے اور انھیں بحال کرنے کے احکامات کے خلاف اپیل دائر کرنے جیسے پہلوؤں پر اعتراض درج کرایا تھا، مگر ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ الیکشن کمشنروں کے تقرر کے سلسلہ میں طے ہوا تھا کہ یہ کام سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈرپر مشتمل سلیکشن کمیٹی انجام دے گی، مگر مودی سرکار نے اس میں ترمیم کرکے چیف جسٹس کی جگہ کابینی وزیر کو دے دی اور اب الیکشن کمشنروں کی تقرری کا کام وزیراعظم مودی اور ان کے دست راست امت شاہ انجام دے رہے ہیں۔ اس میں اپوزیشن لیڈر کی شرکت برائے نام ہی ہے۔
 الیکشن کمیشن کی طرف سے نازل کیا گیا سب سے بڑا عذاب ایس آئی آر کا ہے۔ انھوں نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نگرانی مہم کے تحت ملک کے 13/کروڑ رائے دہندگان کوووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا ہے۔ ایس آئی آر کا سب سے زیادہ فائدہ حکمراں بی جے پی کو پہنچ رہا ہے اور جہاں جہاں بھی یہ عمل انجام پایا ہے وہاں وہاں اپوزیشن کے ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کردیا گیا ہے۔ اس کی سب سے تاریک مثال مغربی بنگال ہے جہاں ایس آئی آر کے دوران زبردست دھاندلیاں ہوئی ہیں اور پندرہ برس سے برسراقتدار ممتا بنرجی اقتدار سے محروم کردی گئی ہیں۔ یہ معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ بھی گیا لیکن وہاں بھی کوئی راحت نہیں ملی۔ جب سے گیانیش کمار چیف الیکشن کمشنر بنے ہیں تب سے الیکشن کمیشن میں اپوزیشن کی کوئی آواز نہیں سنی جارہی ہے اور سب کچھ حکمراں بی جے پی کے اشاروں پر ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اپوزیشن کی طرف سے گیانیش کمار کو ان کی جانبدارانہ فیصلوں کیباعث  تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے تو فوراً بی جے پی ان کی حمایت میں آگے آگئی ہے۔ اس بار بھی یہی ہواہے۔ الزامات چیف الیکشن کمشنر پر لگ رہے ہیں اور ان کا دفاع بی جے پی کے ترجمان کررہے ہیں۔ گویا وہ بی جے پی کے ہی کارکن  ہوں۔