ووٹ چوری اور ایس آئی آر کے خلاف جاری تحریک کو حکمراں بی جے پی نے تختہ پلٹ کی سازش قرار دیتے ہوئے راہل گاندھی، کاکروچ جنتا پارٹی اورنیہا بورا پر ملک دشمنی کے الزامات عائد کئے ہیں۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ہندوستان کو بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں تاکہ یہاں بھی افرا تقری پھیل جائے۔ اسی سوچ کے تحت مودی حکومت ووٹ چوری کے خلاف اٹھنے والی مضبوط آوازوں کو کچلنے پر آمادہ ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس تحریک میں شامل نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے بلکہ تحریک کے لیڈروں پر بھی عتاب ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ حکومت جتنی سختی سے پیش آرہی ہے نوجوانوں کا حوصلہ اتنی ہی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی کے ”لہرادو ترنگا“ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے پولیس نے کریک ڈاؤن کرکے ابھجیت دپکے اور نیہا بورا کو حراست میں لے لیا اور کناٹ پیلس کے سینٹرل پارک کو چاروں طرف سے بند کردیا گیا مگر پھر بھی ہزاروں نوجوان وہاں پہنچ کر ترنگا لہرانے میں کا میاب ہوگئے اور پولیس بندوبست کو ناکام بنادیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس احتجاجی تحریک میں دو چہرے ایسے ہیں جنھیں ہر انصاف پسند عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ ان میں پہلا چہرہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا ہے اور دوسرا چہرہ طلبہ لیڈر نیہا بورا کا۔ یہ دونوں ہی اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی جہاں اپنی جان توڑ محنت سے اپوزیشن کی صفوں میں نیا جوش وخروش پیدا کررہے ہیں تو وہیں نیہا بورا ظلم اور نا انصافی کے خلاف ایک فولادی آواز کی صورت میں نوجوانوں کا حوصلہ بڑھا رہی ہیں۔ دونوں ہی نے حکومت کی ناک میں نکیل ڈال رکھی ہے۔گیانیش کمارکے استعفے اور ایس آئی آر کی واپسی کے لیے جو تحریک چل رہی ہے اس کے آگے حکومت اور سرکاری مشنری کا تمام بندوبست ناکام ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔
گزشتہ پیر کو جب راہل گاندھی کی قیادت میں نئی دہلی کے بارا کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک پیدل مارچ نکالا گیا تو اس میں سروں کا سیلاب دیکھنے کو ملا۔ اس احتجاجی مارچ کا مقصد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کرکے انھیں یہ باور کرانا تھا کہ سپریم کورٹ ملک کے جس آئین کا محافظ ہے، وہ خطرے میں ہے اور اس کو بچانے کے لیے اسے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، لیکن چیف جسٹس سوریہ کانت نے اپوزیشن لیڈروں کو وقت دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ’’سپریم کورٹ کے دروازے ہر ہندوستانی کے لیے کھلے ہوئے ہیں اور کوئی بھی یہاں دستک دے سکتا ہے۔“ بالآخر اس موقع پر تمام سرکردہ اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کرکے ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کیا گیا اور گیانیش کمار کو ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اس پر کیا موقف اختیار کرتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی جنھیں ان کے سیاسی مخالفیں ’پپو‘ کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے، انھیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہی ’پپو‘ایک دن ان کی بدکاریوں اور جمہوریت مخالف ذہنیت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن جائے گا۔ حالیہ عرصے میں راہل گاندھی اور ان کی بہن پرینکا گاندھی نے حکومت سے جس جرات مندانہ انداز میں لوہا لیا ہے اس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔مودی سرکارنے پچھلے بارہ سال کے اقتدار میں جس طرح آئینی اداروں کی ساکھ مٹی ملائی ہے، اس سے ملک کی جمہوریت کو سنگین خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک میں جمہوریت کا جنازہ نکل جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں جنھیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا وقار عزیز ہے۔ ان میں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ شہری حقوق کے کارکن اور بڑی تعداد میں طلبہ شامل ہیں۔ دہلی کی سڑکوں پر اس وقت احتجاج کی جو تاریخ رقم کی جارہی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے۔ اب بھی جمہوریت پسند طاقتیں بیدار نہیں ہوئیں تو اس ملک میں فاشزم کی حکمرانی قائم ہوجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل بھی سڑکوں پر آکر لاٹھی، ڈنڈے اور گولیاں کھارہی ہے۔ سرکاری مشنری کا ظلم جتنا بڑھ رہا ہے اتنا ہی ان کے حوصلے مضبوط ہورہے ہیں۔ میڈیا کے لوگوں کو بھی ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ وہ سچائی کو بے نقاب نہ کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ منگل کو ایک معاشی پلیٹ فارم سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندوستان جمہوریت کی ماں ہے۔ یہاں الگ الگ موضوعات پر کھل کر بحث ہوتی ہے۔ شہری مختلف نظریات پر بحث کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ”ملک میں 100سے زیادہ زبانیں،80/ہزار رجسٹرڈ اخبارات اور ایک ہزار سے زیادہ سیٹلائٹ ٹی وی چینل ہیں۔ ملک میں پچاس کروڑ سے زیادہ یوٹیوب صارف ہیں اور اتنے ہی انسٹا گرام یوزر ہیں۔“وزیراعظم کی طرف سے ان اعداد وشمار کو بیان کرنے کا مقصد شاید یہ تھا کہ ملک میں جمہوریت آزاد ہے اور سبھی کو بولنے کی آزادی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ سچ بولنے اور لکھنے پر پہرے بٹھادئیے گئے ہیں اور جمہوریت میں احتجاج کی آوازوں کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔ پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے دونوجوان لیڈروں سوربھ داس اورآشوتوش رانکا کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔قصور یہ تھا کہ انھوں نے گزشتہمنگل کو پولیس کو چکمہ دیتے ہوئے جنتر منتر پہنچ ترنگا لہرایا تھا۔سوال یہ ہے کہ اب جنتر منتر پر ترنگا لہرانا اتنا بڑا گناہ ہوگیا ہے کہ ایسا کرنے والوں کو جیل بھیجا جاسکتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن زعفرانی عناصر نے10/ اکتوبر کے احتجاج کے دوران کھلی غنڈہ گردی مچائی تھی اور لڑکیوں کے کپڑے پھاڑے تھے انھیں چوبیس گھنٹوں میں ضمانت مل گئی اور جو لوگ پرامن احتجاج کے ذریعہ جمہوریت کی پامالی کے خلاف اپنی آواز بلند کررہے ہیں ان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا جارہاہے۔یہی وجہ ہے کہ10/اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کی کال کو ناکام کرنے کے لیے کااس کے لیڈروں کو ممبئی سے دہلی پہنچنے والی پرواز میں جہاز میں ہی حراست میں لے لیا گیااور پھر انھیں پچاس ہزار کے باؤنڈ بھرواکر رہا کیا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت احتجاج کی آوازوں سے کس حد تک خوفزدہ ہے۔
اس دوران گزشتہ روز راہل گاندھی نے اپنی رہائش گاہ پر اپوزیشن لیڈروں اور سول سوسائٹی کے ارکان کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی، ایس آئی آر کی منسوخی اور جمہوری عمل کی بحالی کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ راہل گاندھی نے اس میٹنگ کے بعد اعلان کیا کہ’’اپوزیشن اتحاد جمہوری عمل کی بحالی اور اسے کمزور کرنے کے ذمہ داروں کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔“ انھوں نے کہا کہ’’ہم چیف جسٹس آف انڈیا اور ہندوستان کے عدالتی نظام کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ انھیں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اپنا کردار اداکریں گے، لیکن ہم سیاسی لوگ بھی ہیں۔ حالات کچھ بھی ہوں، سیاسی مزاحمت جاری رہے گی، عوام کی مزاحمت جاری رہے گی اور اسی کی فتح ہوگی۔“ انھوں نے کہا کہ”اس ملک میں جمہوریت اور انتخابی نظام کو تباہ کردیاگیا ہے۔آئین کو پھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے۔ ہم اس ملک میں جمہوری نظام کی بحالی کے لیے متحد ہوکر لڑرہے ہیں۔“
حقیقت یہ ہے کہ راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد، کاکروچ جنتا پارٹی، بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے مل کر مودی سرکار کے سامنے جو چیلنج کھڑا کیا ہے، اس سے نپٹنے میں حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ راہل گاندھی کے خلاف اوچھے ہتھیاروں کے استعمال پر اترآئی ہے۔ وزیرداخلہ امت شاہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ”راہل گاندھی گھس پیٹھیوں کو ووٹر لسٹوں میں شامل کراکے ملک کی یکجہتی سے کھلواڑ کررہے ہیں۔“سوال یہ ہے کہ کیا وہ13/کروڑ لوگ جنھیں ایس آئی آر کے دوران رائے دہندگان کی فہرست سے خارج کیا گیا ہے، گھس پیٹھئے ہیں؟ اگر واقعی ملک میں گھس پیٹھیوں کی اتنی بڑی تعداد موجود ہے تو حکومت کو ملک کی سرحدوں کو غیرمحفوظ بنانے کی ذمہ داری لیتے ہوئے خود ہی مستعفی ہوجانا چاہئے۔