مدھیہ پردیش کا شہراجین آج کل ایک تاریخی مسجد کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔انتظامیہ نے سڑک چوڑی کرنے کے لیے 600 سالہ قدیم شاہی مسجدکے انہدام کا فیصلہ لیا تھا۔ بلڈوزروں نے اس مسجد کامحاصرہ بھی کرلیا تھا مگر مقامی مسلمانوں کے حوصلوں نے یہاں بلڈوزر وں کو شکست دے دی ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کے ساتھ مفاہمت کے بعدخود مسلمانوں نے مسجد کے جزوی حصے کومسمار کیا اور جس وقت یہ کام ہورہا تھا تو پس منظر سے مسلمانوں کے رونے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔درد یہ تھا کہ انھیں انتظامی جبر کے ہاتھوں خود اپنی مسجد کے ایک حصے کو توڑنا پڑرہا ہے۔ سخت کشیدگی کے بعد اجّین میں اس وقت ’شانتی‘ ہے، لیکن گزشتہ دنوں یہاں کے مسلمان جس کرب اور بے چینی سے گزرے ہیں، اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ مگر یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ سخت حالات کے باوجود اجّین کے مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری۔ افسوس کہ گزشتہ جمعرات کو شاہی مسجد کے مینار منہدم کرنے کے دوران مسجد کا گنبد اور پہلی منزل کے کچھ حصے بھی متاثر ہوگئے جس کے بعد مقامی مسلمانوں میں شدید رنج وغم کی لہر دوڑ گئی۔ اس خبر سے مسجد کمیٹی کے سابق صدر ارشد رحمانی کے بارے میں بتایا گیا کہ مسجد کی بے حرمتی کی خبر سن کر ان پر دل کا دورہ پڑا اور وہ جاں بحق ہوگئے۔
مرد ہی نہیں خواتین بھی مسجد کے انہدام کے خلاف بلڈوزروں کے سامنے ڈٹ گئیں اور انھوں نے مکمل مسجد کے انہدام کی سازش ناکام بنادی۔ یہی وجہ ہے کہ ان مسلمانوں کی پورے ملک میں تعریف ہورہی ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہر اس مقام پر جہاں ظالم انتظامیہ مسجدپر بری نظر رکھے ہوئے ہے اگر وہاں کے مسلمان ڈٹ جائیں اور مزاحمت کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ظالموں کو گھٹنے ٹیکنے پڑیں۔ یہی کام اگر سہارنپور کے مسلمانوں نے کیا ہوتا اور کلکٹریٹ کی مسجد کے گرد انسانی زنجیر بنالی ہوتی تو آج وہاں 100سال پرانی مسجد جوں کی توں موجود ہوتی۔ لیکن سہارنپورمیں مسلم قائدین کو آپس میں لڑنے سے ہی فرصت کہاں ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے لوہا لے سکیں۔ حالانکہ سہارنپور میں مسلمانوں کی سیاسی قیادت بہت مضبوط مانی جاتی ہے مگر ان کی پوری توانائی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں خرچ ہوتی ہے۔ شکر ہے کہ اجّین میں ایسی کوئی قیادت موجودہی نہیں تھی اور یہی وجہ ہے کہ مقامی مسلمانوں نے شاہی مسجد کے گرد انسانی زنجیر بناکر حکومت اور اس کے بلڈوزروں کو پسپا کردیا ہے۔
اجّین میں 2028میں مہاکمبھ ہونا ہے، جس کے لیے سڑکوں کو چوڑا کیا جارہا ہے اورشاہی مسجد سمیت شہرکے کئی مقامات اس کی زد میں ہیں۔ حالانکہ شاہی مسجد کسی راستے میں حائل نہیں ہے، لیکن آج کل پورے ملک میں تاریخی مسجدوں کو منہدم کرکے مسلمانوں کو زیر کرنے کی جو مہم چل رہی ہے، اس کے تحت اجّین کی اس 600 سال پرانی خوبصورت مسجد کو مٹانے کا منصوبہ بھی زیرغور تھا۔ اس سے قبل اجّین کے مسلمانوں کی بستی نظام الدین کالونی کا وجود مٹاکر انتظامیہ نے اپنے مسلم دشمن ہونے کا ثبوت پیش کیا تھا۔ مہاکال کوریڈور کے نام پر اس بستی کو اجاڑدیا گیا اور یہاں موجود تکیہ مسجد بھی منہدم کردی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس مسلم کالونی کی دیوار کی طرف موجود گنیش کالونی کو چھوا بھی نہیں گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں مسلمانوں کے ساتھ انتظامیہ اور پولیس کا رویہ کیا ہے اور وہ کن خطوط پر کام کررہی ہے۔
گزشتہ اتوار کی رات جب اجین انتظامیہ شاہی مسجد کو منہدم کرنے کی تیاری کررہا تھا اور بلڈوزر مسجد کا محاصرہ کرنے کے لیے تیار تھے تو اجّین کے ہزاروں مسلمانوں نے مسجد کے گرد ایک انسانی زنجیر بنالی اور تقریباً ایک ہزار مسلمان مسجد کے اندر مقیم ہوگئے۔انتظامیہ نے انھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس اور فساد شکن فورس کی کئی کمپنیاں تعینات کردیں مگر پھر بھی مقامی مسلمان خوفزدہ نہیں ہوئے اور انھوں نے اپنی عبادت گاہ کا تحفظ کیا۔ مسلمانوں نے اس سلسلے میں ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا لیکن جب وہاں بھی انھیں انصاف نہیں ملا تو انھوں نے اپنے حوصلوں کو مجتمع کرکے پورے ملک کے مسلمانوں کو راہ دکھائی کہ کس طرح اپنی عبادت گاہوں کو بچایا جاسکتا ہے۔متعدد مقامی مسلمانوں نے باری باری مسجد میں بیٹھ کر انہدام کی کوشش کو ناکام بنادیا۔ مقامی باشندے توقیر خان نے بتایا کہ ”عوام نے متفقہ فیصلہ کیا کہ وہ بڑی تعداد میں مسجد کے اندرقیام کریں گے تاکہ اس کے انہدام کو روکا جاسکے۔“ انھوں نے کہا کہ ”گزشتہ رات پولیس فورس اور فساد شکن فورس بڑھا دی گئی اور مسجد کے انہدام کے لیے بلڈوزر لائے گئے تاہم جب مسجد کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تو آپریشن روک دیا گیا۔ مسجد کی گیارہ رکنی کمیٹی نے بڑی تعداد میں وقفہ وقفہ سے مسجد میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔‘‘
مفتی جنید نے بتایا کہ’اگر یہ مسجد شہید ہوئی شہید ہوئی تو دیگر 28مسجدوں کی باری آئے گی اور انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ لوگ محض اس وجہ سے مسجدوں کو انہدام نہیں کرسکتے کہ وہ کسی کے درمیان آرہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ کوئی معقول بات نہیں ہے کہ آپ ایک دھرم کے لیے دوسرے مذاہب کے وجود اور نشانیوں کو مٹائیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ”کمبھ سے قبل شہر کی نئی صورت گری کے لیے کئی مساجد خطرے میں ہیں۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد یہاں رہتی ہے۔ کئی قدیم مسجدیں ہیں جنھیں شہید کیا جاسکتا ہے۔“مفتی جنید نے اجّین کی تقیہ مسجد کے انہدام کا حوالہ دیا اور کہا کہ انتظامیہ نے مسلمانوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ اسے منہدم نہیں کرے گی لیکن اچانک انہدامی کارروائی کی گئی۔ حکومت کی دغابازی کے بعد جب معاملہ شاہی مسجد کا آیا تو مسلمانوں نے ان کے جھوٹے وعدوں سے اختلاف کیا اور خود مسجد کی حفاظت کا فیصلہ کیا۔“
اطمینان بخش بات یہ ہے کہ اجین کے مسلمانوں نے حالات کے آگے سپر نہیں ڈالی اور انھوں نے حالات کا مقابلہ جواں مردی کے ساتھ کیا۔ انھوں نے ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے بھی ایک نظیر پیش کی ہے جہاں مسجدوں پر انہدام کی تلوار لٹک رہی ہے۔ کوئی دن خالی نہیں جاتا کہ ملک کے کسی نہ کسی حصے میں کسی نہ کسی مسجد کو متنازعہ یا غیرقانونی قراردے کر اسے منہدم کرنے کی ساز ش نہ رچی جاتی ہو۔ مسلمان اس صورتحال سے خاصے پریشان اور غمز دہ ہیں، لیکن اب اجین کے مسلمانوں نے انھیں ایک راہ دکھائی ہے کہ جمہوری نظام میں پرامن احتجاج اور مزاحمت کے ذریعہ اپنے حقوق کا دفاع کیا جاسکتا ہے۔بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں جس طرح مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور ان کی ملی شناخت کو مٹانے کی پہ درپہ سازشیں ہورہی ہیں، وہ انتہائی خطرناک ہیں۔ فرقہ پرست اور فسطائی عناصر کسی نہ کسی مسجد کو متنازعہ یا غیر قانونی تعمیر قرار دے کر توڑنے کی ہمت نہ کرتے ہوں۔ انتظامیہ پہلے ہی ان سے سازباز کرچکا ہوتا ہے اور پولیس شرپسندوں کے تحفظ آگے آجاتی ہے جبکہ مسجدوں، مدرسوں اور مزاروں کے تمام قانونی ثبوت ہونے کے باوجود انھیں خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو ملیا میٹ کرنے کی ایک منصوبہ بند مہم چل رہی ہے اور اس معاملے میں ملک کا عدالتی نظام بھی یک طرفہ فیصلے صادر کررہا ہے۔ اجین کی مسجد کا معاملہ بھی ہائی کورٹ میں گیا تھا جہاں مسلمانوں کو کوئی راحت نہیں ملی۔ اطمینان بخش بات یہ بھی ہے کہ اب اس معاملے میں مزاحمت کرنے کے لیے مسلم قائدین بھی میدان میں آگئے ہیں اور انھوں نے ملک کی مختلف ریاستوں میں مسجدوں، مدرسوں، مزاروں اور دیگر مذہبی مقامات پر بلڈوزر چلانے اور سیلنگ کارروائیوں کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کیا اور گرفتاریاں پیش کیں۔اجین کے مسلمانوں نے جو راہ دکھائی ہے، اس پر دیگر صوبوں کے مسلمانوں کو بھی عمل کرنا چاہئے، خاص طورپر یوپی کے مسلمان جو خواب غفلت میں ہیں، انھیں اجین کے مسلمانوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔