لکھنؤ، 17 اکتوبر (یو این آئی) اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز کہا کہ ریاست اب 'رول آف مافیا' سے آزاد ہو کر 'رول آف لا' یعنی قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھی ہے۔ سال 2017 سے پہلے ریاست میں امن و قانون اور سرمایہ کاری کے ماحول کو لے کر شک و شبہ بنا رہتا تھا اور مافیا کی وجہ سے ترقی کی رفتار متاثر ہوتی تھی۔
یوگی نے کہا کہ ان کی حکومت نے قانون کی حکمرانی قائم کر کے ریاست کا تاثر بدلا ہے۔ انہوں نے نوجوان وکلاء سے اپیل کی کہ نا انصافی سامنے ہونے پر خاموش رہنا کوئی اختیار نہیں ہو سکتا۔ سچائی اور انصاف کے حق میں کھڑا ہونا ہی قانون کے طلباء اور وکلاء کی ذمہ داری ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نیشنل لا یونیورسٹی کے پانچویں تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے ماں سرسوتی کے مجسمے کے سامنے چراغ روشن کر کے پروگرام کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر طالبات نے سرسوتی وندنا پیش کی اور وزیر اعلیٰ نے مختلف کورسز کے ہونہار طلبہ و طالبات کو تمغوں سے نوازا۔
یوگی نے کہا کہ کوئی شخص یا عہدہ آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ قانون کے طلبہ کو آئینی اقدار کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "فیصلہ تاریخ سنائے گی، لیکن بحث آپ کو کرنی ہے۔" نوجوان وکلاء کو اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ انصاف، سچائی اور معاشرے کے تئیں ذمہ داری کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 15 اگست 1947 اور 26 جنوری 1950 کے ساتھ 25 جون 1975 بھی ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کی اہم تاریخ ہے۔ ایمرجنسی نے ملک کو 'رول آف لا' اور 'رولر آف لا' کے درمیان کا فرق سمجھایا۔ انہوں نے جسٹس ایچ آر کھنہ کے تاریخی اختلافی فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اصولوں اور آئینی اقدار کے حق میں لیا گیا فیصلہ تاریخ میں اپنا مقام بناتا ہے۔