معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کی مشکلات بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ دہلی کی ساکیت عدالت نے 2018 کے مبینہ مجرمانہ ہتک عزت کے معاملے میں ان کے خلاف قابل ضمانت وارنٹ جاری کیا ہے۔ یہ معاملہ وکاس سانکرتیاین عرف وکاس پانڈے کی جانب سے دائر شکایت سے متعلق ہے۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ دھرو راٹھی کی ’بی جے پی آئی ٹی سیل پارٹ 2‘ نامی ویڈیو کے سلسلے میں یہ مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔
اس معاملے میں 17 اکتوبر کو سماعت ہوئی۔ اس سے قبل عدالت نے سمن کی تعمیل کرانے کے لیے شکایت کنندہ کو ذاتی طور پر سمن پہنچانے کی اجازت دی تھی۔ ساکیت کورٹ نے 12 اکتوبر کو جاری کردہ حکم میں دھرو راٹھی کی گروگرام واقع رہائش گاہ پر سمن بھیجنے کی کارروائی نئے سرے سے آگے بڑھانے کی اجازت دی تھی۔ عدالت نے شکایت کنندہ کو پروسیس سرور کے ساتھ جانے کی اجازت بھی دی تھی، تاکہ سمن کی تعمیل کرائی جا سکے۔ شکایت کنندہ فریق کے مطابق دھرو راٹھی کی رہائش پر سمن کی باقاعدہ طور پر تعمیل کرا دی گئی تھی۔
اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ میں وکالت کرنے والے وکیل سشانت کمار دھرو راٹھی کے گھر نوٹس پہنچانے گئے تھے۔ انہوں نے ایک ویڈیو میں بتایا تھا کہ یہ معاملہ سال 2018 کا ہے۔ ان کے مطابق دھرو راٹھی کو فون کیا گیا، لیکن انہوں نے نوٹس لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سوسائٹی کے سیکورٹی گارڈ کی مدد سے گھر کے باہر نوٹس چسپاں کر دیا گیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی درج کیا ہے کہ دھرو راٹھی کے خلاف پہلی بار جولائی 2019 میں سمن جاری کیا گیا تھا۔ اب اس معاملے میں قابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے بعد آئندہ کارروائی 31 اکتوبر کو ہوگی۔