ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہفتہ کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلے کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ زلزلے کے وقت زیادہ تر لوگ گہری نیند میں سو رہے تھے۔ اچانک زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے، اور سو رہے لوگ گھبراہٹ میں اپنے گھروں سے نکل کر باہر بھاگنے لگے۔ زلزلے کے جھٹکے ہفتہ (17 اکتوبر) کی علی الصبح محسوس کیے گئے اور اس کی شدت 4.1 بتائی جا رہی ہے۔ حالانکہ راحت کی بات یہ ہے کہ زلزلے کی وجہ سے کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
نیشنل سیسمولوجیکل سینٹر (این سی ایس) کے مطابق 17 اکتوبر 2026 کو صبح 4 بج کر 36 منٹ 27 سیکنڈ پر 4.1 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس کا مرکز شملہ سے تقریباً 40 کلومیٹر مشرق-شمال مشرق میں واقع تھا۔ زلزلے کا مرکز 31.298 ڈگری شمالی عرض البلد اور 77.529 ڈگری مشرقی طول البلد پر درج کیا گیا۔ اس کی گہرائی زمین سے تقریباً 10 کلومیٹر نیچے بتائی گئی ہے۔ حالانکہ اب تک کسی طرح کے جانی یا مالی نقصان یا دیگر تباہی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
غور طلب ہے کہ ہماچل پردیش زلزلے کے لحاظ سے ہندوستان کے سب سے زیادہ حساس علاقوں میں شامل ہے۔ یہ ریاست زلزلہ زون 4 (ہائی ڈیمیج رسک زون) اور زلزلہ زون 5 (ویری ہائی ڈیمیج رسک زون) میں آتا ہے۔ ریاست کا تقریباً 32 فیصد حصہ سب سے زیادہ خطرے والے زون 5 میں آتا ہے، جبکہ باقی 68 فیصد حصہ زون 4 میں شامل ہے۔ کانگڑا، منڈی، ہمیرپور، چمبا، شملہ اور کلو جیسے اضلاع زلزلے کے لحاظ سے انتہائی حساس مانے جاتے ہیں۔ ہماچل پردیش میں ماضی میں کئی تباہ کن زلزلے آچکے ہیں۔ 1905 میں کانگڑا میں تقریباً 7.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تھا۔ وہیں 1975 میں کنور میں 6.7 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب پڑوسی ملک پاکستان میں بھی ہفتہ کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.8 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کی وجہ سے کسی جانی و مالی نقصانات کی اطلاع نہیں ہے۔ این سی ایس کے مطابق ہفتے کی صبح 10 بج کر 37 منٹ پر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلے کا مرکز وسطی بلوچستان کے شہر خضدار کے قریب زمین سے 15 کلومیٹر نیچے گہرائی میں بتایا گیا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔