مرکز کی مودی حکومت ملک میں بڑھتی مہنگائی کے لیے موجودہ عالمی حالات کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے، لیکن کانگریس نے اس بات کو سرے سے خارج کر دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ ملک میں جو بحران آیا ہے، اس کے پیچھے دنیا میں چل رہی جنگ ذمہ دار ہے۔ لیکن ہندوستان کی معیشت پہلے سے ہی ٹھیک نہیں چل رہی تھی، جس کی تنبیہ ہم کئی سالوں سے دے رہے تھے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جمہوریت میں اپوزیشن اور میڈیا وہ آئینہ ہوتا ہے جو اقتدار کو سچائی دکھاتا ہے۔ افسوس کہ سچ سے ڈرنے والی مودی حکومت اس آئینہ کو توڑ رہی ہے۔‘‘
میڈیا اہلکاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’جھوٹ آئینہ سے ڈرتا ہے۔ نریندر مودی نے 12 سال سے کوئی پریس کانفرنس نہیں کی، کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ ہماری میڈیا کہیں انھیں آئینہ نہ دکھا دے۔ نریندر مودی ملک کو نصیحت دے کر خود بیرون ملکی سفر پر چلے گئے۔ اس سے پہلے گجرات میں لمبا چوڑا روڈ شو بھی کیا۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’بی جے پی کے دوسرے لیڈران بھی کم نہیں ہیں۔ ہر دن تصویریں آ رہی ہیں کہ بی جے پی لیڈران خود بس یا بائک پر چل رہے ہیں اور پیچھے ان کی گاڑیوں کا پورا قافلہ آ رہا ہے۔ یہ لوگ عوام کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں۔‘‘
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے کھیڑا نے کہا کہ ’’گزشتہ 12 سالوں میں پیٹرول کی قیمت 38 فیصد بڑھی اور ڈیزل کی قیمت میں 62 فیصد اضافہ ہوا۔ اُس وقت کون سی جنگ چل رہی تھی، تب کون سے گلوبل فیکٹر تھے؟‘‘ منموہن حکومت کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’جب ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کے وقت خام تیل کی قیمت 100 ڈالر تک پہنچ گئی تھی، تب بھی حکومت نے پٹرول و ڈیزل کو 70 روپے سے اوپر نہیں جانے دیا۔ مودی حکومت میں جب خام تیل 50 ڈالر چل رہا تھا، تب حکومت نے پٹرول 100 روپے لیٹر کے آس پاس فروخت کیا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آج حالات یہ ہیں کہ اتھنال ملا ہوا گھٹیا پٹرول 110 روپے لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے، جو ہماری گاڑیوں کے انجن کو برباد کر دے گا۔ حکومت کی ذمہ داری عوام کی پریشانیوں کو کم کرنا ہوتی ہے، لیکن مودی حکومت لوگوں کی پریشانیاں مزید بڑھا رہی ہے۔‘‘