نئی دہلی، 20 مئی (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے سول افسران سے مفادِ عامہ اور قائم شدہ نظام کے مطابق صحیح فیصلہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح انصاف ملنے میں تاخیر کو انصاف سے محرومی مانا جاتا ہے، اسی طرح انتظامی فیصلے میں تاخیر بھی لوگوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
انڈین ایڈمنسٹریٹیوسروس (آئی اے ایس) کے سال 2024 بیچ کے افسران کے ایک گروپ نے بدھ کو راشٹرپتی بھون میں محترمہ مرمو سے ملاقات کی۔ یہ افسران ابھی مختلف مرکزی وزارتوں اور محکموں میں اسسٹنٹ سکریٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ صدرِ جمہوریہ نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آل انڈیا سروسز، خاص طور پرانڈین ایڈمنسٹریٹیوسروس نے ملک کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب جبکہ ملک ترقی کی ایک اعلیٰ سطح پر داخل ہو چکا ہے، افسران سے توقعات بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ محترمہ مرمو نے کہا کہ اخلاقیات اور گڈ گورننس ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ افسران کو ایماندار اور اخلاقی ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی، انہیں نتائج بھی دینے ہوں گے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فیصلہ کرنے سے بچنا اخلاقیات نہیں کہلاتا بلکہ مفادِ عامہ اور قائم شدہ نظام کے مطابق صحیح فیصلہ کرنا ہی حقیقی اخلاقیات کا نچوڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح انصاف ملنے میں تاخیر کو انصاف سے محرومی مانا جاتا ہے، اسی طرح انتظامی فیصلے میں تاخیر بھی لوگوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ جمہوریت کا مقصد عوام کی امنگوں کو پورا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ امنگیں ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس لیے افسران کا یہ فرض ہے کہ وہ مفادِ عامہ میں ان نمائندوں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو ترجیح دیں۔" صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ نوجوان افسران کو مختلف شعبوں میں کام کرنے کا منفرد موقع حاصل ہوگا۔ کئی مواقع پر انہیں کچھ خاص شعبوں کے ماہرین کی ٹیموں کی قیادت بھی کرنی پڑے گی، اس لیے ان کے سیکھنے کا دائرہ اور رفتار دونوں انتہائی وسیع اور تیز ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف شعبوں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ان کی صلاحیت غیر معمولی ہونی چاہیے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا، "افسران کی غیر جانبداری ان کی انصاف پسندی کی علامت ہوگی۔ ان کی حساسیت شمولیت کے تئیں ان کے عزم کا پیمانہ ہوگی۔ ان کی ساکھ شفافیت اور مسلسل بہترین کارکردگی پر مبنی ہوگی۔ ان کا ذاتی اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل ان کی سچائی اور دیانت داری کو واضح کرے گا، جو انہیں مفادِ عامہ میں فیصلہ کن اقدامات کرنے کا اخلاقی حوصلہ فراہم کرے گا۔" انہوں نے کہا کہ افسران کو ہمدردی اور عقلیت پسندی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ انہیں حساس ہونا چاہیے، لیکن جذباتی نہیں۔ انہیں اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، لیکن وسیع تر مقاصد کو بھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ صرف بہتی دھار کے ساتھ بہتے چلے جانے کے لیے کسی خاص کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 'وکست بھارت' کے ہدف کو حاصل کرنے اور معاشرے کو ترقی کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچانے کے لیے افسران کو کئی بار حالات کے برعکس جا کر بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے افسران کو مشورہ دیا کہ وہ چاہے فیلڈ میں کام کر رہے ہوں یا دفتر میں، ہندوستان کے عوام، خاص طور پر معاشرے کے محروم طبقات کو اپنے خیالات اور کاموں کے مرکز میں رکھیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ ایک ترقی یافتہ اور جامع ہندوستان کی تعمیر میں انمول تعاون دیں گے۔