نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں گائے کے نام پر ہونے والے ہجومی تشدد، نفرت کی سیاست اور بے قصور لوگوں کے قتل جیسے واقعات بند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر گائے کو قومی جانور قرار دے دیا جائے اور اس سے متعلق قانون پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ ہو تو اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکتا ہے۔
ارشد مدنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ملک کی اکثریتی آبادی گائے کو صرف مقدس نہیں مانتی بلکہ اسے ماں کا درجہ بھی دیتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ سمجھ سے باہر ہے کہ آخر کون سی سیاسی مجبوری ہے جس کی وجہ سے حکومت گائے کو قومی جانور قرار دینے سے گریز کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گائے کے نام پر ہجومی تشدد، بے قصور انسانوں کا قتل، نفرت کی سیاست اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر گائے کو قومی جانور قرار دے کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے تو نہ انسانی جانوں کا نقصان ہوگا اور نہ مذہب کے نام پر سیاست کو فروغ ملے گا۔
ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ ملک کے بعض صوبوں میں کھلے عام گائے کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے، لیکن وہاں نہ اس کے خلاف احتجاج دیکھنے کو ملتا ہے اور نہ ہی ہجومی تشدد کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ان کے مطابق جن علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں گائے کے نام پر خون خرابہ ہوتا ہے، جو ان کے مطابق عقیدت نہیں بلکہ دوہرے معیار اور سیاسی کھیل کی علامت ہے۔
انہوں نے یکساں سول کوڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملک میں ایک قانون کی بات کی جاتی ہے لیکن جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق قوانین مختلف صوبوں میں الگ الگ انداز میں نافذ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ایسے صوبے ہیں جہاں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
ارشد مدنی نے مزید کہا کہ اگر گائے سے متعلق کوئی قانون بنایا جائے تو اسے پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی طرح کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے۔