واشنگٹن، 18 مئی (یو این آئی) ایران کے خلاف سخت بیانات کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فریق 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کو ختم کرنے اور معاہدہ طے کرنے کے لیے شدید بے چین ہے۔ پیر کے روز شائع ہونے والے معتبر جریدے ''فورچون'' کو دیے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی اس جنگ کے شدید اثرات کے باعث چیخ رہے ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران ایک طرف تو مذاکرات کی میز پر آنے کی بات کرتا ہے، لیکن دوسری طرف ایسی تجاویز سامنے لاتا ہے جن کا اصل معاہدے کی بنیادی شقوں سے کوئی تال میل نہیں ہوتا، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مؤقف اور شرائط کو مسلسل بدل رہے ہیں۔
یہ سفارتی گرما گرمی اس وقت منظرِ عام پر آئی ہے جب ایران کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ اس نے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ ایک نئے امریکی منصوبے پر اپنا باقاعدہ جواب جمع کرا دیا ہے، اور پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین روابط کا سلسلہ بدستور قائم ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران مطلع کیا کہ انہوں نے اپنے تمام تر تحفظات اور تشویش سے امریکی فریق کو آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اسلام آباد کے ذریعے یہ رابطے اب بھی فعال ہیں، تاہم انہوں نے اس کی مزید تکنیکی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ اسی دوران ایک معتبر پاکستانی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد نے گزشتہ شب ہی ایران کی جانب سے تیار کردہ ایک ترمیم شدہ مسودہ واشنگٹن کو ارسال کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، اس وقت دونوں ہی فریقین کی جانب سے اپنی اپنی شرائط میں مسلسل تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر ایران کو کڑے الفاظ میں انتباہ جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وقت تیزی سے نکل رہا ہے، تہران کو جلد ہی حتمی فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ کچھ باقی نہیں رہے گا۔
اس کے برعکس، ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کا یہ الزام ہے کہ امریکہ اس پورے معاملے میں انتہائی غیر لچکدار رویہ اپنائے ہوئے ہے اور ایسی شرائط پر اصرار کر رہا ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ایران کا امریکہ سے بنیادی طور پر یہ مطالبہ ہے کہ بیرونی ممالک میں منجمد کیے گئے اس کے تمام تر اثاثے فوری بحال کیے جائیں اور اسے یورینیم افزودگی کی سطح پر ایک خاص حد تک خودمختاری دی جائے، جبکہ اس کے برعکس امریکی مؤقف انتہائی محدود رعایتوں تک ہی سمٹا ہوا نظر آتا ہے۔