لکھنؤ، 12 مئی (یواین آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے مشرقِ وسطیٰ ایشیا میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے عوامی مفاد میں مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
محترمہ مایاوتی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک کے عوام سے 'صبر و تحمل' اختیار کرنے کی اپیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہے کہ ہندستان کو درپیش بحران صرف پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی جیسے پیٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک بڑے معاشی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس بحران سے کروڑوں ہندوستانیوں کی زندگی متاثر ہوگی اور حالات مزید بگڑنے کا بھی خدشہ ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کورونا دور کے اثرات کے بعد ملک کی تقریباً سو کروڑ آبادی پہلے سے ہی روزی روٹی کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں عوام کے پاس مزید صبر کرنے یا کھونے کے لیے کچھ خاص نہیں بچا ہے۔ انہوں نے مرکز اور تمام ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ اس مشکل وقت میں غریب اور محنت کش خاندانوں کو کچھ راحت فراہم کر کے ان کا سہارا بنیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو خود ہی بہتر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عوام کو اس بحران سے نکالا جا سکے۔ انہوں نے اسے عوام اور ملک کے مفاد میں مناسب قراردیا اور کہا کہ یہی عام لوگوں کی خواہش ہے۔