نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے معاملات کے درمیان سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ کسی بھی جرم کی تعریف کرنا اور اس کے لیے سزا کا تعین کرنا مکمل طور پر مقننہ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا عدلیہ صرف آئین کے تحت اختیارات کی تقسیم کے اصول کے مطابق اپنی حدود میں رہ کر ہی کام کر سکتی ہے۔ اسی طرح عدالت نے کہا کہ ججز کا کام قانون کی تشریح کرنا ہے، قانون سازی ان کا کام نہیں ہے۔ نفرت انگیز تقاریر کے لیے نئی سزا طے کرنے کے مطالبات پر عدالت نے سخت لہجے میں کہا کہ یہ کام عوام کے ذریعہ منتخب پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کا ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آئینی عدالتیں صرف قانون کی تشریح کر سکتی ہیں لیکن نئے قانون نہیں بنا سکتیں اور نہ ہی مقننہ کو قانون بنانے کے لیے مجبور کر سکتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ اختیار صرف قانون ساز اداروں کے پاس ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ان دلائل کو بھی یکسر مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت قوانین کا فقدان ہے۔ عدالت نے کہا کہ موجودہ قانونی فریم ورک میں کسی طرح کا ایسا قانونی خلا نہیں ہے جس کی بنیاد پر عدالتی مداخلت کی ضرورت ہو۔ یعنی اس سلسلے میں مناسب قوانین پہلے سے موجود ہیں اور ان پر صحیح طریقے سے عمل درآمد کرنا جانچ ایجنسیوں اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر بدلتے ہوئے معاشرتی حالات کی روشنی میں کسی نئے قانون یا پالیسی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس پر غور کرنا اور فیصلہ کرنا صرف قانون ساز اداروں کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی پالیسی ساز فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستانی آئین اختیارات کی تقسیم کے اصول پر مبنی ہے، جس میں عدلیہ، مقننہ اور ایگزیکٹو کے لیے الگ الگ کردار مقرر ہیں۔ انہیں حدود کے اندر تمام اداروں کو کام کرنا ہوتا ہے۔
نفرت انگیز تقاریر کے خلاف فوری طور پر نئے اور سخت قوانین کا مطالبہ کرنے والی درخواستوں کے تناظر میں یہ تبصرہ اہم مانا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ موقف واضح کرتا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کی ذمہ داری اب مکمل طور پر ایگزیکٹو اور موجودہ قانونی نظام پر ہے۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ نئے قانون کی توقع کرنے کے بجائے انتظامیہ کو موجودہ آئی پی سی (اب بھارتیہ نیائے سہنتا) اور دیگر دفعات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔