Jadid Khabar

ایران کا آبنائے ہرمز پرسخت ترین پالیسی کا اعلان

Thumb

تہران،یکم اپریل (یو این آئی ) مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال اس وقت ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوگئی جب ایران نے جہاں ایک طرف اسرائیل اور امریکی اڈوں پر سینکڑوں میزائل داغے، وہیں دوسری طرف عالمی تجارت کی شہہ رگ 'آبنائے ہرمز' کے حوالے سے سخت ترین پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اب سمندروں پر پرانے بین الاقوامی ضابطے نہیں بلکہ تہران کے نئے قوانین لاگو ہوں گے۔
ایرانی پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں عالمی برادری، بالخصوص امریکہ کو کڑی تنبیہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں 'میری ٹائم رجیم' تبدیل ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کا 'رجیم چینج' کا خواب ایک مختلف انداز میں پورا ہو گیا ہے۔
ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا
"آبنائے ہرمز یقینی طور پر دوبارہ کھلے گی، لیکن آپ (امریکہ اور اتحادیوں) کے لیے نہیں۔ اب یہاں سے صرف وہی گزر سکے گا جو ایران کے نئے بحری قوانین کی پاسداری کرے گا۔ ہماری 47 سالہ مہمان نوازی اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔اس سفارتی و بحری ڈیڈ لاک کے ساتھ ساتھ، ایران کی پاسدارانِ انقلاب ( آئی آر جی سی ) نے 'آپریشن وعدہ صادق 4' کے تحت اسرائیل اور امریکی تنصیبات پر تباہ کن حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائیاں حزب اللہ کے شہدا کے نام کی گئی ہیں، جن میں ایران نے اپنی جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کا لوہا منوانے کی کوشش کی ہے۔