کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بدھ (یکم اپریل) کو سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ مغربی بنگال میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق زیادہ تر اعتراضات کو حل کر لیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کو دی گئی معلومات کے مطابق ریاست میں ووٹر لسٹ کے حوالے سے مجموعی طور پر 60 لاکھ اعتراضات درج کیے گئے تھے، جن میں سے تقریباً 47 لاکھ اعتراضات 31 مارچ تک نمٹائے جا چکے ہیں۔
اس معاملہ کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی کی بنچ کر رہی ہے۔ بنچ نے بتایا کہ انہیں منگل کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے اس پیش رفت کے متعلق ایک خط موصول ہوا ہے۔ اعتراضات کو نمٹانے کی تیز رفتاری دیکھ کر سپریم کورٹ نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ ’’ہم ان حقائق اور اعداد و شمار کو لے کر کافی خوش اور بہت پرامید ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ نے بتایا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق فی الحال روزانہ 1.75 لاکھ سے 2 لاکھ اعتراضات نمٹائے جا رہے ہیں۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس رفتار سے کام کرتے ہوئے 7 اپریل تک تمام بقیہ اعتراضات پر حتمی فیصلہ لے لیا جائے گا۔ غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آر عمل سے متعلق کئی عرضیوں کے ایک گروپ پر سماعت کر رہی ہے۔ فی الحال اس معاملہ میں سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 30 مارچ کو انتخابی ریاست مغربی بنگال میں چوتھی ضمنی ووٹر لسٹ شائع کی تھی۔ ایس آئی آر کے تحت لیے گئے فیصلوں کے بعد چوتھی ضمنی ووٹر لسٹ شائع کی گئی۔ حالانکہ الیکشن کمیشن نے ہٹائے گئے یا شامل کیے گئے ناموں کی مجموعی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ الیکشن کمیشن کے افسر نے کہا کہ چوتھی فہرست جاری کر دی گئی ہے، ہم اس کے علاوہ اور کچھ نہیں بتا سکتے۔
یہ بھی پڑھیں : بنگال کے ’زیر غور ووٹرس‘ کا قصہ… کنال چٹرجی
قابل ذکر ہے کہ حتمی ووٹر لسٹ 28 فروری کو شائع کی گئی تھی جس میں تقریباً 60 لاکھ ناموں کو ’زیر غور‘ کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان ناموں کو ووٹر لسٹ میں برقرار رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ کرنے کے لیے 705 عدالتی افسران مقرر کیے گئے تھے۔ 294 رکنی مغربی بنگال اسمبلی کے لیے ووٹنگ 23 اور 29 اپریل کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔